انور عباس انورتازہ ترینکالم

بجلی اورگیس چوری مہم ناکام

anwar abasبجلی اور گیس چوری کے خلاف حکومت کی جانب سے چلائی گئی خصوصی مہم ناکام ہو گئی ہے اور ایف آئی اے اس مہم کے مطلوبہ نتائج لانے میں بری طرح فلاپ ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایف آئی اے کی اس ناکام کی وجہ بجلی چوروں کا بااثر اور طاقتور ہونا بھی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پیکو کی ڈسٹریبیوشن کمپنیوں لیسکو،فیسکو،گیسکو، میپکواورمآ ئیسکو سمیت دیگرکے بدعنوان افسروں کی حکومتی عہدیداروں کی پشت پناہی کرنا ایف آئی اے کی ناکامی کی وجوہات میں شامل ہے۔لیکن اس سب کے باوجود ایف آئی اے کے افسران اور اہلکار اس آپریشن میں خوب ’’ مال بنانے میں کامیاب‘‘ جا رہے ہیں ۔بجلی اور گیس چوروں کے خلاف اس مہم کے آغاز میں تو ایف آئی اے کی ٹیموں نے دل جوئی اور محنت سے کام کیا ،اور بجلی چوروں کے سا تھ واپڈا افسروں اور اہلکاروں کے خلاف بھی مقدمات درج کرائے گے ۔لیکن بعد میں حکومتی عہدے داروں نے مداخلت کرنی شروع کر دی اور اپنی سیاسی ساکھ کو تحفظ دینے کے لیے نہ صرف بڑے بڑے بجلی چووں اور گیس چوری میں ملوث مگر مچھوں کو بچانے کے لیے میدان میں کود پڑے اور اپنے اپنے سیاسی حامیوں اور فنانسروں کو بچانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جانے لگا ہے۔
ایف آئی اے جن بجلی چوروں پر ہاتھ ڈالتی ہے تو ان کے خلاف مقدمات درج کرنے اور ان سے لاکھوں روپے کے بلوں کی ادائیگی کروانے کے باوجود ایف آئی اے کے افسران اور اہلکاران بھی لاکھوں کی ’’دیہاڑیاں‘‘ لگا رہے ہیں۔ایف آئی اے کے افسران اور اہلکار ایف آئی اے کی گرفت میں آنے والے بجلی اور گیس چوروں کو ’’دو ہفتوں کے ریمانڈ‘‘ اور اس سے زیادہ دنوں کا ریمانڈ لینے کا خوف دلا کر ’’ بھاری مال ‘‘ بٹورنے کے دھندے میں لگ چکے ہیں۔جس نے ان کی آنکھوں وطن کی محبت اور فرض شناسی کی بجائے ’’ روپے کی چمک ‘‘ بسا دی ہے۔
اس سلسلے کی ایک واردات وفاقی وزیر دفائی پیداوار رانا تنویر حسین کے حلقہ میں چھاپہ مار کر دو بھٹہ خشت اور ایک ٹیوب ویل کو ڈائریکٹ سپلائی کے ذریعے بجلی چور کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا اور مالکان کو بجلی چوری کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ اس موقعہ پر ایف آئی اے کے افسران نے سب ڈویژن کے ایس ڈی او کو فون کر کے طلب کیا تو ایس ڈی او کے ساتھ ماتحت عملہ نے بھی ایف آئی اے حکام سمیت چیف لیسکو کا فون سننے سے انکار کر دیا۔ اور جب ایس ڈی او واپڈا اور اسکا ماتحت عملہ ایف آئی اے حکام کے سامنے پیش ہوا تو اس وقت ایف آئی اے حکام کو اسلام آبادسے ہاٹ لائین سے ’’ اہم کال‘‘ وصول ہو چکی تھی۔ایف آئی اے حکام ایس ڈی او واپڈا اور اسکے ماتحت عملے کی ’’ پہنچ‘‘ دیکھ کر دنگ اور ششدر رہ گے۔
اس سٹوری کو فائل کرتے وقت اس واقعہ کو بارہ روز گذر چکے ہیں ۔ایف آئی اے حکام نے بجلی چور بھٹہ خشت اور ٹیوب ویل کے مالکان سے لاکھوں روپے کے بل بجلی کی مد میں وصول کر لیے ہیں۔ لیسکو چیف نے ایس ڈی او سائرس اعظم کو معطل کرکے لیسکو ہیڈ کوارٹر رپورٹ کرنے کے احکامات 24 اکتوبر کوجا ری کر دئیے ہیں۔ لیکن تا حال ابھی تک سب ڈویژن میں کسی افسر کی تعیناتی عمل میں نہیں لائی گئی۔بتایا جاتا ہے کہ معطل ایس ڈی او کو بحال کروا کرواپس اسی سب ڈویژن میں تعینات کروانے کے لیے وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار رانا تنویر حسین اور وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف اور رانا تنویر حسین کے دست راست اور سابق ایم پی اے راو جہانزیب قوی لیسکو چیف پر دباو ڈال رہے ہیں۔اس خبر کی سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ لیسکو چیف اپنی تمام تر کمزوریوں کے ابھی تک اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ملک کو گھبیر مسائل کی دلدل سے نکالنے کے دعوے دار وزیر اعظم میاں نواز شریف اور انکے بھائی خادم اعلی میاں شہباز شریف کی جانب سے میرٹ پر کام کرنے اور واپڈا کو کرپٹ افسران سے پاک کرنے کے دعوے کس طرح حقیقت کا روپ دھا ر پائیں گے؟ کیا رانا تنویر حسین سمیت مسلم لیگ نواز کے ان تمام راہنماوں اور کارکنان کو وزیر اعظم نواز شریف اور شہباز شریف آشیر باد حاصل ہے جو معطل ایس ڈی او کو بحال کروانے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں ؟
اس معطل شدہ ایس ڈی او کی وہ کونسی سی خوبی ہے جس کے باعث انکا اسی سب ڈویژن میں واپس آنا انتہائی ضروری قرار دیدیا گیا ہے؟ کیا کوئی بتائے گا کہ اس ایس ڈی او نے اپنی تعیناتی کے دور میں سب ڈویژن کے کتنے فیصد لائین لاسز کم کئے ہیں ؟ کیا اس ایس ڈی او نیرانا تنویر حسین حلقہ انتخاب کے زمینداروں کے ٹیوب ویلوں کو سات سے آٹھ ہزار تک زائد یونٹس نہیں ڈالے ؟ کیا اس ایس ڈی او نے گھریلو اور کمر شل صارفین کو اور بلنگ نہیں کی؟
معطل شدہ ایس ڈی او کی کرپشن کے قصے زبان زد عام ہیں۔جس کی چھوٹی سی ایک جھلک یہ ہے کہ اس ایس ڈی او کی وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار کے حلقہ میں تعیناتی سے قبل اس سب ڈویژن میں گھریلو اور سنگل فیز کمرشل خراب میٹر کی تبدیلی ہزار پندرہ سو میں ہو جاتی تھی۔لیکن اس کے آنے سے خراب میٹر کی تبدیلی کا ریٹ یکم دم پانچ اور چھ ہزار تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ جب کہ تھری فیز خراب میٹر جو پہلے بارہ ہزار سے پندرہ ہزار میں تبدیل ہوتا تھا اور وہ بھی بڑی آسانی سے لیکن اس ایس ڈی او کے آنے سے تھری فیز خراب میٹر کی تبدیلی 60 سے 80 ہزار روپے تک پہنچ گیا۔زائد یونٹس والے بلوں کی درستگی بھی ’’بھاری فیس‘‘ لیکر کی جانے لگی ہے۔ایسی ہی صورت حال پنجاب بھر کے واپڈا دفاتر کی بتائی جا رہی ہے۔
موجودہ حکومت کے برسر اقتدار آنے سے اب تک پورے ملک میں لاکھوں کی تعداد میں خراب میٹر تبدیل کیے گے ہیں اور صارفین کو ایف آئی اے کے نام سے ڈرا کر ہزاروں روپے فی میٹر لیکر خراب میٹر تبدیل کیے گے ہیں۔اوپرر بیان کردہ ریٹ کے مطابق اب تک اربوں روپے کی کرپشن کی گئی ہے۔اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔
اس وقت وزارت پانی و بجلی کو اکیلے خواجہ آصف نہیں چلا رہے بلکہ وزارت پانی و بجلی کے حصے بخرے کرکے چلایا جا رہا ہے۔ لیسکو کو میاں حمزہ شہباز شریف کے سپرد کیا گیا ہے،فیسکو کیعابد شیر علی بادشاہ ہیں۔ گیسکو (گوجرانوالہ الیکٹرک سپلائی کمپنی) خرم دستگیر کے اشاروں کا پابند کیا گیا ہے۔اسی طرح ملتان الیکٹرک سپلائی کمپنی کے معاملات کو ملتان کے کئی’’ شیر‘‘ دیکھنے پر مامور کیے گے ہیں۔نگران وزیر پانی و بجلی اور میاں نواز شریف کے مشیر برائے پانی و بجلی مکمل وزارت کے مالک و مختار ہیں۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button