تازہ ترینکالممہر عبدالمتین

برمامیں روہنگیامسلمانوں کی حالت زار

Abdul mateenجیساکہ آپ کوعلم ہے کہ میں اپنے گزشتہ کالموں میں بھی ملک پاکستان کے بے گناہ مظلوم عوام پرکئے جانے والے ظلم وستم ودیگر مسائل کے بارے میں بتاچکاہوں۔اسی طرح آج میںآپ کو اس کالم میں برما کے مسلمانوں سے کئے جانیوالے غیر انسانی سلوک اوردنیابھرکے اسلامی ممالک کی شرم ناک خاموشی کے بارے میں بتاؤنگا۔برماکاشماردنیاکے سب سے پرانے تیل پیداکرنیوالے ممالک میں ہوتاہے۔1853میںیہاں سے تیل دریافت کیاگیا جوکہ آج بھی نکالاجارہاہے برماکی آبادی اس وقت 6کروڑ28لاکھ سے زائد ہے ۔ملک میں بدھ مت ،عیسائیت ،مسلم اورمختلف مذاہب کے لوگ آباد ہیں۔برماکو چین ،تھائی لینڈ،بنگلہ دیش ،بھارت ،لاؤس کی سرحدیں لگتی ہیں۔برماکاایک تہائی رقبہ خلیج بنگال اورجزائرنڈیمان کے سمندرکے کنارے پرواقع ہے ۔برمامیں اس خانہ جنگی کی ایک طویل تاریخ ہے ماضی میں برما میں دوبڑی جنگیں ہوئیں۔ملک برمامیں خانہ جنگی کی اصل وجہ مذہبی نفرت ،سیاسی انتشار،غربت ،کرپشن اورحکمرانوں کی مسلسل لوٹ گھسوٹ ہے ۔ملک میں تمام مذاہب ،قوموں اورنسلوں نے اپنے اپنے مسلح گروپ بنارکھے ہیں جن میں سے ہرگروپ اپنے اپنے مفادات کی خاطر جنگ لڑرہاہے۔مسلمانوں کے خلاف متحرک ان غیرمسلم گروپوں کوغیرملکی طاقتوں کی امدادحاصل ہے جن کی وجہ سے ملکی حالات مسلمانوں کیلئے مزید بگڑرہے ہین۔کاچن اورشان مسلح جنگ جوؤں سے حکومت کے کئی بارجنگ بندی کے معاہدے بھی ہوئے مگرپھربھی جنگ جاری ہے۔اس وقت بہت سی اقلیتوں پرمبنی تنظیم آزادی اوربنیادی حقوق کیلئے مسلسل جدوجہد کررہی ہے اوران کی جدوجہد سے ملک میں خانہ جنگی کابھرپورمنظورنظرآتاہے ۔برماکی اس مسلسل قتل وغارت ،بدعنوانی ،سیاسی انتشار ومذہبی شدت پسندی اورحکمرانوں کی لوٹ گھسوٹ سے تنگ آکر برماکے بہت سے رہائشی ملک چھوڑناچاہتے ہیں مگربرماکے مظلوم عوام کوپانچوں ہمسائے ملک قبول کرنے کوتیارنہیں خصوصاََچینی حکومت اپنے ہم نسل اورچینی بولنے والے اوربرمی قومیت کے حامل افرادکوبھی چین میں داخل نہیں ہونے دے رہی اوراگر کوئی غیرقانونی طورپرچین میں داخل ہونے میں کامیاب ہوبھی جائے تو اسے دوبارہ واپس زبردستی موت کے منہ میں دھکیل دیاجاتاہے۔گزشتہ کئی برسوں سے برمی عوام مسلسل خصوصاََوہنگیامسلمان نقل مکانی میں مصروف ہیں۔ملک میں مذہبی شدت پسندی ،سیاسی انتشار،نسلی اختلافات ،قتل وغارت کے واقعات خانہ جنگی کامنظرپیش کررہے ہیں۔جس کی وجہ سے نہ صرف روہنگیامسلمانوں کوبھی شدیدمسائل کاسامناہے بلکہ برماکی آدھی سے زیادہ آبادی غیرانسانی زندگی بسرکرنے پرمجبورہے۔گزشتہ کئی سالوں سے برمامیں مسلمانوں پرغیرانسانی ظلم وستم کئے جارہے ہیں اوربرمامیں ایک عرصہ سے قتل وغارت وبربریت کے واقعات جن کاکوئی تدارک موجودہ سیاسی ومعاشی سرمایہ دارانہ نظام میں رہتے ہوئے ممکن نہیں ہے ۔کیونکہ مسائل کادرست تجزیہ کے حالات کی بہتری کی بجائے معاملات کواسلام اورکفرکی جنگ بنانے کاکھیل جاری ہے ۔مسلمانوں کی نسل کشی کرنے اوربے گناہ مسلمانوں کوپھانسیوں پرلٹکانے انہیں زندہ جلانے کے متعددواقعات ریکارڈپرموجودہیں۔برماکے مسلمانوں کی بہت بڑی تعدادکوبے گناہ شہیدولاپتہ کردیاگیاہے جبکہ مسلمان خواتین پرباربارمجرمانہ حملوں کے بھی واقعات وقوع پذیرہوئے تھے ۔سینکڑوں مسلم دیہات تباہ کردیئے تھے اورمساجد بھی شہید کردی گئیں۔مسلم نسل کشی کاآغازایک بدھ لڑکی کے قبول اسلام اورمسلم لڑکے سے مرضی کی شادی کرنے پرہوا۔28مئی کوبرماکے جنوبی صوبے ’’ارآمان‘‘کے رانمبری ٹاؤن شپ کے قصبہ کی ایک بدلڑکی کی لاش ملی جس کو اجتمائی زیادتی کرکے قتل کردیاگیاتھا۔اس قتل ومبینہ طورپراجتمائی زیادتی کاالزام تین روہنگیامسلمانوں پرعائدکیاگیا،واقعہ پرمسلمان اوربدھ کمیونٹی میں انتہائی اشتعال کی صورتحال پیداہوگئی جس کے بعد بدھ مذہب کے مشتعل جلوس نے ایک بس میں سواردس مسلمان تبلیغیوں کواتارکرقتل کردیااورلاشوں کی بے حرمتی بھی کی جس پرمذہبی ونسلی فسادات کی آگ بھڑک اٹھی جس کی ابتدامیں سینکڑوں گھرجلادیئے گئے اورمبینہ طورپر بہت سے مسلمان خواتین کی تذلیل کی گئی۔معصوم بچوں کوبھی موت کے گھاٹ اتاردیاگیاجس کی وجہ سے حالات ملکی کنٹرول سے باہرہوگئے اوربرمامیں فوری کرفیولگاکرگرفتاریوں کاسلسلہ شروع ہوگیا۔یہ بھی واضح رہے کہ ان حالات سے پہلے برماکے موجودہ حکمران برماکے روہنگیامسلمانوں کونان برمی قراردے چکے تھے۔
گزشتہ روز اس حوالے سے میں نے قصورکے سینئرقانون دان اورتحریک تکمیل پاکستان کے مرکزی چیئرمین میجرحبیب الرحمن میو سے ایک ملاقات میں برمامیں ہونیوالے مظلوم مسلمانوں پرظلم وبربریت کے بارے میں بات چیت کی تو میجرحبیب الرحمن میونے بتایاکہ گلوبل سطح پر مسلم امہ کی موجودہ بے کسی ولاچارگی ،ابترمعاشی وسیاسی اورسماجی مشکلات کابنیادی سبب مسلم امہ میں عدم اتحاد،جدید علوم سے بے گانگی وعدم توجہی اورفرقہ واریت ولسانیت اورعلاقائیت کی بنیاد پرڈھڑہ بندیاں ہیں۔میجرحبیب میونے مزید کہاکہ کتنے افسوس اورشرم کی بات ہے کہ پچاس سے زائد آزاداسلامی ممالک ہونے کے باوجود تبلیغ دین واسلام کی نشرواشاعت اورباہمی مسائل کی صورت میں ایک دوسرے کی کماحقہ دادرسی کاکوئی باقاعدہ منظم ومربوط وموثرنظام موجودنہ ہے ۔مسلم امہ کے اجتماعی مسائل ک

یہ بھی پڑھیں  بزدار حکومت سستی بجلی فراہم کرنے کیلئے سرگرم،پنجاب تھرمل پاور لمیٹڈ او ر بینکوں کے کنسورشیم کے درمیان 100ارب کی فنانسنگ کا معاہدہ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker