علاقائی

بھائی پھیرو: 20 ویں ترمیم , سینیٹ کے ارکان نے قومی خزانہ سے 36کروڑ لیکر قومی اعتماد کو مجروح کر دیا۔جماعت اسلامی ضلع قصور

بھائی پھیرو﴿نامہ نگار﴾  بیسویں ترمیم پاس کراتے وقت سینیٹ کے حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے قومی خزانہ سے چھتیس کروڑ لیکر قومی اعتماد کو مجروح کر دیا۔جماعت اسلامی کے سینیٹروںنے فنڈ نہ لیکر ثابت کر دیا کہ صرف جماعت اسلامی کی قیادت ہی قومی خزانہ کی لوٹ مار کو بند کر سکتی ہے۔ان خیالات کا اظہار امیر جماعت اسلامی ضلع قصور حافظ نزیر احمد،جنرل سیکرٹری عثمان غنی اور میڈیا سیکرٹری حاجی محمد رمضان نے پریس کلب کو جاری اپنے اخباری بیان میں کیا۔ان رہنمائوں نے کہا کہ بیسویں ترمیم پاس کر تے وقت جس انداز سے سینینٹروں کو قومی خزانہ سے چھتیس کروڑ روپے کے فنڈ جاری کیے گئے اس سے سینٹروں کا وقار مجروح ہوا۔مقروض اور دم توڑتی معیشت کے حامل قومی خزانہ کو گھر کی لونڈی سمجھ کر لٹانا اور اس پر حکومت اور اپوزیشن کا خاموش رہنا ثابت کر تا ہے کہ قومی خزانہ کی لوٹ مار میں حکمران اور نام نہادد اپوزیشن پارٹیاں ایک ہیں اور کبھی این آر او اور کبھی بیسویں ترمیم کو پاس کرانے کے نام پر پی پی پی،مسلم لیگ ،،ن،، ،ایم کیو ایم،اے این پی اور دیگر تمام پارٹیاں متحد ہیں ۔صرف جماعت اسلامی کے سینیٹروں پروفیسر خورشید احمد،پروفیسر ابراہیم وغیرہ نے فنڈ لینے سے انکار کر کے ثابت کیا ہے کہ صرف جماعت اسلامی کی دیانتدا د اور ایماندار قیادت ہی ملک کے قومی خزانہ کی حفاظت کر سکتی ہے ۔پہلے بھی این آر او کے ذریعے ان پارٹیوں کے آٹھ ہزار سیاستدانوں نے کھربوں روپے لوٹے مگر اس لسٹ میں جماعت اسلامی کے کسی ایک شخص کا نام بھی شامل نہیں۔ان رہنمائوں نے کہا انشا ئ اللہ آئندہ انتخابات میںقوم ان لٹیروں کو ووٹ دینے کی بجائے جماعت کی دیانتدار قیادت کو آگے لائے گی۔ان رہنمائوں نے کہا کہ دوسرے سینیٹروں کو بھی جماعت اسلامی کے سینیٹروں کی تقلید کر تے ہوئے کروڑوں کے فنڈ واپس کر کے اس بھاری رقم کو مہنگائی ،غربت ، اور بے روزگاری کی ماری قوم پر خرچ کرکے دعائیں لینی چاہیں۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker