علاقائی

بھائی پھیرو: 33 کروڑ روپے کی خطیر رقم سے بننے والی دو رویہ ملتان روڈ پر ریڑھی بانوں ، موٹر سائیکل رکشہ اور ٹیکسی والوں کا قبضہ

بھائی پھیرو(نامہ نگار) 33 کروڑ روپے کی خطیر رقم سے بننے والی دو رویہ ملتان روڈ پر ریڑھی بانوں ، موٹر سائیکل رکشہ اور ٹیکسی والوں کا قبضہ اور تجاوزات کی بھرمار، غلاظت اور گندگی کے ڈھیر، لڑائی جھگڑے معمول، شہری خوار۔ ذمہ دار حکام نے آنکھیں اور کان بند کر لےے۔ روشنی کے لےے سڑک کے درمیان لگائے گئے ناقص لائٹنگ پول چالو ہونے سے پہلے ہی زمین بوس ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق شہر کی تاجر تنظیموں، سماجی تنظیموں اور درد منددل رکھنے والی شخصیات نے بار ہا مرتبہ ذمہ دار حکام سے ملاقات میں ان کی توجہ ان فوری حل طلب مسائل کی طرف مبذول کرائی لیکن تا حال ذمہ دار اہلکار اور متعلقہ ادارے تیزی سے بڑھتے ہوئے ان معاشرتی مسائل اور تباہ ہوتی قومی املاک کو بچانے کے لےے کوئی مثبت حل تجویز نہیں کر سکے۔ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ ٹی ایم اے کے اہلکار سڑک سے ملحقہ مین بازار اور دیگر تمام گلی محلوں کا کوڑا کرکٹ اور غلاظت ملتان روڈ پر عین سرکاری ہسپتال کے سامنے جمع کرتے ہیں اور بعد ازاں اسے ٹرالیوں میں بھر کر لے جاتے ہیں جس سے نہ صرف ہر طرف تعفن اور بدبو پھیلی رہتی ہے بلکہ خطرناک وبائی امراض کے پھیلنے کا بھی خدشہ رہتا ہے۔ موٹر سائیکل رکشہ ، ٹیکسی ڈرائیورز اپنی گاڑیاں بھی سڑک پر ہی دھوتے ہیں اور پھل فروش تمام گلے سڑے پھل اور چھلکے سڑک کے عین وسط میں پھینکتے ہیں جو کہ ڈینگی اور دیگر مہلک امراض سے بچاو¿ کی اشتہاری مہم پر کروڑوں روپے خرچ کرنے والی حکومت کے لےے لمحہ فکریہ ہیں۔ ملتان روڈ سے تجاوزات کے خاتمے اور صفائی کا عمل اس وقت انجام دیا جاتا ہے جب کوئی وی آئی پی شخصیت یا ڈی سی او قصور یہاں تشریف لا رہے ہوں۔ مقامی سماجی کاروباری اور شہری حلقوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ بجلی، گیس، پٹرول، امن و امان اور دیگر ضروری سہولتوں کے چھن جانے کے بعد ان سے ڈھنگ سے رہنے کا حق نہ چھینا جائے اور تجاوزات کا فی الفور خاتمہ کر کے ان کی زندگی کو آسان بناےا جائے۔

یہ بھی پڑھیں  لاہور:پھاٹک سے نشترکالونی تک بدترین ٹریفک جام،عوام بلبلا اٹھی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker