شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / بھلا ہے نعرۂ احتساب مگر….

بھلا ہے نعرۂ احتساب مگر….

کسی پر تنقید کرنا بہت آسان ہے مگر تنقید برداشت کرنا شاید اس قدر آسان نہیں۔ بحیثیت قوم جہاں تنقیدبرائے تنقید ہماری ریت بن چکی ہے وہیں اپنے گریبانوں میں جھانکنا ہمیں لامعانی سا لگنے لگا ہے۔ ہم نے کبھی یہ سوچنے کی زحمت گوارا ہی نہیں کی کہ ہمارا وطیرہ کیا ہے۔ ہم خود کس حد تک سچائی کو اپنائے ہوئے ہیں۔ کیا ہم اپنی تمام دینی، ملی و معاشرتی ذمہ داریاں بطریق احسن سرانجام دے رہے ہیں۔ اگر ہمارے حکمران عیاشیوں میں مست ہیں توکیا ہم میانہ روی و انکساری پہ عمل پیراہیں۔ اگر وہ دن رات بد دیانتی (کرپشن) میں مصروف ہیں تو کیا ہم ان سے پیچھے ہیں۔ جہاں ہمارا بس چلے کیا ہم کوئی کسر چھوڑتے ہیں۔ دو نمبر شناختی کارڈ بنوانا ہو یا جعلی پاسپورٹ، جعلی دوائیوں کی فیکٹری لگانی ہو یا جعلی کھاد کا کارخانہ، غیر معیاری گھی بنانا ہو یا غیر معیاری مشروب تیار کرنا ہو، چینی کا مصنوعی بحران پیدا کرنا ہو یا تیل سٹاک کرنا مقصود ہو، کوئی بھی کام بعید از قیاس نہیں۔ جب ہم خود یہ سب کر رہے ہیں تو حکمرانوں سے گلہ کیسا۔ حاکم بھی تو ہمیں میں سے ہیں۔ جیسا کہ عربی کا اک مشہور مقولہ ہے ” جس طرح کی رعایا ہو گی اسی طرح کی حکومت ہو گی”
قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ذکر ہو تو پولیس کا نام فوراً ذہن میں آتا ہے۔آج کل ہر کوئی پولیس کی نا اہلی کا گلہ کرتا نظر آتا ہے۔ لیکن ان کی اس نا اہلی کی وجہ جہاں جدید ٹیکنا لوجی کی عدم دستیابی، سہولیات کا فقدان، جدید اسلحہ کی کمی ہے وہیں ہم خود ان کی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کی انجام دہی میں رکاوٹ بنے نظر آتے ہیں۔ یہ بات ورطہء حیرت میں ڈال دیتی ہے کہ جب ہم خود جس قانون کی دھجیاں اڑاتے ہیں تووقت آنے پر ہم اسی قانون سے انصاف کی توقع بھی رکھتے ہیں۔ سیاسی تعلقات ہوں یا اعلی عہدے کا گھمنڈ، کسی بڑے افسر سے رشتہ داری ہو یا پیسے کا غرور، یہ سب ایک قانون نافذ کرنے والے ادارے پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔
گزشتہ روز میں نے قانون کے اطلاق میں پیش آنے والی رکاوٹوں کا جائزہ لینے کے لئے کچھ پولیس افسران سے ملاقات کی ٹھانی۔ یقین کیجیئے! ان سے ملنے کے بعد مجھے یہ یقین ہو گیا کہ قانون کی بالادستی میں ایک بڑی رکاوٹ ہم خود ہیں۔میرے معزز دوستوں نے بتایا کہ جب بھی کسی بڑے ملزم پر ہاتھ ڈالتے ہیں تو وہ سیاسی روابط استعمال کر کے ہم پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک صاحب نے بڑی خوبصورت بات کی۔ فرمانے لگے، ” سر آپ اسی بات سے اندازہ لگا لیجیئے کہ اگر کسی جگہ ناکہ لگا کر کھڑے ہوں اور کسی گاڑی کو روکیں ، مسئلہ اوور لوڈنگ کا ہو یا اوور سپیڈنگ کا ، ہر کوئی رکتے ہی اپنا تعارف جھاڑنے لگتا ہے۔ وکلاء، صحافی حضرات اور سرکاری عہدیداران سبھی اسی ڈگر کو اپنائے ہوئے ہیں۔ کالے شیشے لگا کر گھومنے والے ہوںیا غیر قانونی طور پر نیلی بتی یا سبز نمبر پلیٹ لگانے والے، غرض ہراک کسی نہ کسی طریقے قانون کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں مصروف نظر آتا ہے ۔”
ان صاحب کی باتیں سن کر مجھے علامہ اقبال کا یہ شعر یاد آ گیا۔
خدانے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو خیال جسے آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
احتساب کا نعرہ ہمیں کتنا اچھا لگتا ہے مگر اس وقت تک جب تک یہ نعرہ دوسروں کے بارے میں لگایا جا رہا ہو۔ ہم اپنے احتساب سے اس قدر گھبراتے کیوں ہیں؟
یہاں مجھے قا نتہ تحریم جی کا ایک شعر یاد آ رہا ہے۔ فرماتی ہیں
ہم نفس سن تو سہی، تجھ کو خبر ہے کہ نہیں
بے حسی اوڑھ کے سویا ہوا احساس ہے اب
یہ شعرہماری موجودہ صورت حال کا صحیح عکاس ہے۔ہمیں حالات کی سنگینی کا احساس ہی نہیں۔ہمارے اندراحساس نام کی کوئی شے باقی نہیں رہی۔ہم نے کبھی یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کی کہ ہمارا کل کیسا ہو گا ۔یاد رہے اگر ہم واقعی اس ارض پاک سے مخلص ہیں تو ہمیں اپنا احتساب کرنا ہوگا۔ کیوں کہ تبدیلی کا عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہم خود کو نہیں بدلیں گے۔ اللہ پاک ہم سب کو دین حق کی سربلندی اور ارض پاک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین

یہ بھی پڑھیں  پارٹی قیادت سے میراکوئی اختلاف نہیں، مخدوم امین فہیم

کوئی تبصرہ نہیں

  1. very good col.

  2. very good col.