اطہر مسعودوانیتازہ ترینکالم

بھارت کے خلاف کشمیریوں کی جدوجہد آزادی!

atharہندوستانی اسٹیبلشمنٹ اس بات پہ دل ہی دل میں خوش ہوتی ہیں کہ کشمیری ” مارشل ریس” نہیں ہیں،لیکن جس طرح زمانہ بدلنے کے ساتھ ساتھ حقائق بھی بدل جاتے ہیں اسی طرح مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی مسلسل فوج کشی اور مظالم کے کئی عشرے گزرنے کے بعد خود بھارت نے پرامن کشمیریوں کو ” مارشل ریس” بنا دیا ہے۔گزشتہ دنوں سرینگر سے شائع ہونے والے انگریزی روزنامہ ” گریٹر کشمیر” کے سینئر ایڈیٹر کو اس وقت سیکورٹی فورسزکے ہاتھوں سر عام جسمانی تشدد کا نشانہ بننا پڑا،جب اس نے اپنی اہلیہ پر آوازیں کسنے والے سیکورٹی اہلکاروں سے باز پرس کی۔پولیس سٹیشن میں اس کے ساتھی کشمیری صحافیوں نے اسے کہا کہ وہ شکر ادا کرے کہ بھارتی فورسز نے اسے فائرنگ کرکے ہلاک نہیں کر دیا اور ہلاک کرنے کے بعد وہ کہتے کہ ” ایک دہشت گرد کو ہلاک کر دیا گیا”۔اس صحافی نے جواب میں کہا کہ وہ ذلت کی زندگی گزارنے سے عزت کی موت کو ترجیح دیتا ہے”۔یہ ہیں خیالات ایک کشمیری صحافی کے ،جو بھارتی کٹھ پتلی انتظامیہ کے ” ضابطوں” کے اندر رہ کر کام کرنے وا لا شخص ہے۔اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کشمیریوں کے بھارت کے خلاف جذبات کیا ہیں۔
مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے کشمیریوں پر مسلسل بدترین مظالم اور مسئلہ کشمیر کے حل کی راہ اختیار نہ کرنے کی صورتحال میں مقبوضہ کشمیر میں کشمیری نوجوان  دوبارہ آزادی کی عسکری جدوجہد میں شا مل ہو رہے ہیں۔کشمیری نوجوانوں میں مسلح جدوجہد آزادی  کے بڑہتے ہوئے رجحان سے بھارتی حکومت شدید پریشانی کا شکار ہے اور مودی حکومت نے اس نئی صورتحال کو دیکھتے ہوئے عنقریب ایک نیا منصوبہ تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔مقبوضہ کشمیر کے اخبارات کے مطابق  ایک محکمہ جاتی مراسلہ میں بھارتی داخلہ سیکریٹری ایل سی گویل نے اندرونی سلامتی کے سپیشل سیکریٹری اشوک پرساد،جو جموں وکشمیر میں پولیس سربراہ بھی رہے ہیں ،کو یہ کام سونپا ہے۔ داخلہ سیکریٹری نے ریاست کشمیر کے نوجوانوں میں مسلح جدوجہد آزادی میں شامل ہونے کے رجحان کو روکنے کیلئے ایک فوری منصوبہ ترتیب دینے کی ہدایت دی ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی حکومت اس کام میں انٹیلی بیورو کے سابق ڈائریکٹر عاصف ابراہم کی بھی خدمات حاصل کر رہی ہے جسے حال ہی میں انسداد دہشت گردی و شدت پسندی کیلئے خصوصی سفیر تعینات کیاگیا ہے۔بھارتی حکام کشمیری نوجوانوں کی طرف سے مسلح جدوجہد میں شامل ہونے کے بڑہتے ہوئے رجحان پر سخت پریشانی کا شکار ہیں اور اس کے خلاف ایک نئی منصوبہ بندی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں ظلم وتشدد اور قتل و غارت گری کی ایک نئی لہر متوقع ہے۔بھارتی حکام کے مطابق  آزادی کی مسلح جدوجہد کرنے والے کشمیری نوجوانوں نے جنوبی کشمیر کے ترال ،بٹہ پورہ سے لیکرپنجگام اور یاری پورہ تک کے علاقوں اور  شمالی کشمیر میں پلہالن سے سوپور تک اپنی سرگرمیاں تیز کی ہیں اور ان علاقوں میں کشمیری نوجوان بڑی تعداد میں مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کر رہے ہیں۔بھارتی حکام کے مطابق ان عسکری گروپوں کی قیادت مقامی نوجوانوںکے ہاتھوں میں ہے اور انہوں نے حال ہی میں عسکریت میں شمولیت اختیار کی ہے۔بھارتی تجزیہ کاروں کے مطابق جنوری سے اب تک50نئے نوجوانوںنے عسکری صفوں میں شمولیت اختیار کی ہے۔ اور 1990کے مقابلے میں آج کشمیری نوجوان فکری طور مسلح جدوجہد آزادی کا راستہ از خود اختیار کر رہے ہیں اور ان کا عزم انتہائی پختہ ہے۔
یو ں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے واضح ہو رہا ہے کہ کشمیریوں نے بھارت کو ایک بار پھر امن کا موقع دیا کہ وہ  کشمیریوں پر ظلم و ستم کا راستہ ترک کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کا راستہ اختیار کرے لیکن بھارت نے کشمیریوں کی طرف سے امن کو ایک اور موقع دینے کی کوشش کو کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی کمزوری سے تعبیر کرتے ہوئے کشمیریوں پر انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری رکھا۔بھارت مقبوضہ کشمیر میں جدوجہد آزادی کے سیاسی رہنمائوں اور کارکنوں کو بھی اسی طرح مظالم کانشانہ بناتا ہے جس طرح وہ مسلح جدوجہد کرنے والے کشمیری فریڈم فائٹرز کے خلاف کرتا چلا آ رہا ہے۔اس سے کشمیریو ں کو یہ واضح پیغام ملا ہے کہ انہیں اپنی تقدیر خود بدلنی ہے۔کشمیریوں کو اپنی فوجی طاقت کے ظالمانہ استعمال سے دبانے کی اسی صورتحال کے تناظر میں مقبوضہ کشمیر کے جرات مند،غیور،بہادر نوجوانوں نے ایک بار پھر بھارت اور عالمی برادری کو اس بات کا احساس دلانے کا راستہ اختیار کیا ہے کہ کشمیری کسی صورت اپنے حق آزادی سے دستبردار نہیں ہو سکتے۔
دنیا کے مختلف اہم ملکوں میں پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑہتی ہوئی کشیدگی پر تشویش ظاہر کی جا رہی ہے اور دونوں ملکوں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ باہمی کشیدگی کے خاتمے کے لئے سفارتی سطح پر اقدامات کریں۔ اسی حوالے سے کوشش ہو رہی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کے درمیان ملاقات ہو سکے۔امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے ایک امریکی ریڈیو کو انٹرویو میںپاکستان اور بھارت سے کہا ہے کہ وہ خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنانے کے لئے پیچیدہ اور اہم نوعیت کے مسائل حل کریں اور اس کیلئے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں واشنگٹن ریڈیو کو انٹرویو میں جان کیری نے کہا کہ امریکہ بھارت اور پاکستان کو قریب لانے کیلئے ہمیشہ کوشاں رہا ہے اور دونوں ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے، انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین پیچیدہ اور اہم نوعیت کے مسائل ہیں جن پر بات چیت ہونی چاہیے۔ پاکستان اور بھارت خطے کے دو اہم ممالک ہیں دونوں کو خطے میں امن و سلامتی کے لئے مل کر کام کرنا چاہئے۔دریں اثناء بھارتی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ، فرانس، روس کے علاوہ جرمنی، جاپان اور ترکی نے بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لانے کیلئے سفارتی سطح پر مزید اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔اطلاعات کے مطابق رواں ماہ جولائی میں ‘ایس سی او’ کے اجلاس کے موقع پر پاکستان بھارت وزرائے اعظم کی ملاقات کرانے کیلئے سفارتی سطح پر تیزی آئی ہے اور مختلف عالمی اور داخلی حلقے سرگرم ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے پاکستان بھارت وزرائے اعظم کی رمضان کی آمد کے موقع پر ٹیلیفونک بات چیت کے فورا بعد پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف سے ٹیلیفون پر گفتگو کی تھی۔اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسلسل باہمی کشیدگی اورمسئلہ کشمیر کے حل میں امریکہ کا کلیدی کردار ہے اور اگر امریکہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کو تصادم میں بدلنے سے روکنے کے لئے  محض اس کشیدگی کی سطح کو کچھ کم کرتا ہے تو اس سے جنوبی ایشیا کے حریف ایٹمی ملکوں کے درمیان تعلقات کو بہتر نہیں بنایا جا سکتا۔مشرق وسطی،افغانستان اور پاکستان میں دہشت گردی کی جاری جنگوں کی صورتحال میں اس بات کی اشد ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی بہتری کے لئے بنیادی نوعیت کے اقدامات اٹھائے جائیں۔پاکستان اور بھارت کے درمیان”پراکسی وار” اپنے نتائج کے حوالے سے جنگ سے بھی خطرناک ہو سکتی ہے۔یہاں اس بات کا اعادہ بھی ضروری ہے کہ کشمیر پاکستان کے دفاع کا اہم ترین بنیادی مورچہ ہے،اسے نظر انداز کرنے سے پاکستان کے خلاف بھارت کو اپنے مذموم عزائم میں پیش رفت کا حوصلہ ہوتا ہے۔بہر حال یہ خوش آئند ہے کہ عالمی برادری پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے خاتمے میں دلچسپی دکھا رہی ہے،اس حوالے سے عالمی برادری کو اپنی ذمہ داری بطریق احسن اور نتیجہ خیز طور پر ادا کرنے پر توجہ دینا اہم اور ضروری ہے۔
note
یہ بھی پڑھیں  7 ممبران اسمبلی کے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں داخلے پر پابندی عائد

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker