شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / دفعہ 35 اے ختم،بھارت نےمقبوضہ کشمیرکوفلسطین بنادیا

دفعہ 35 اے ختم،بھارت نےمقبوضہ کشمیرکوفلسطین بنادیا

آرٹیکل 370 ہے کیا؟۔ بھارتی آئین کی شق 370 عبوری انتظامی ڈھانچے کے بارے میں ہے اور یہ آرٹیکل ریاست جموں و کشمیر کو بھارتی یونین میں خصوصی نیم خودمختار حیثیت دیتا تھا۔اس کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو ایک خاص مقام حاصل تھا اور  بھارت کے آئین کی جو دفعات دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتی ہیں اس آرٹیکل کے تحت ان کا اطلاق ریاست جموں و کشمیر پر نہیں ہو سکتا تھا۔اس آرٹیکل کے تحت دفاع، مواصلات اور خارجہ امور کے علاوہ کسی اور معاملے میں مرکزی حکومت یا پارلیمان ریاست میں ریاستی حکومت کی توثیق کے بغیر انڈین قوانین کا اطلاق نہیں کر سکتی تھی۔بھارتی آئین کے آرٹیکل 360 کے تحت وفاقی حکومت کسی ریاست میں یا پورے ملک میں مالیاتی ایمرجنسی نافذ کر سکتی ہے تاہم آرٹیکل 370 کے تحت  بھارت حکومت کو جموں و کشمیر میں اس اقدام کی اجازت نہیں تھی۔
یہ قوانین ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ نے سنہ 1927 سے 1932 کے درمیان مرتب کیے تھے اور ان ہی قوانین کو سنہ 1954 میں ایک صدارتی حکمنامہ کے ذریعہ آئین ہند میں شامل کرلیا گیا۔ بھارت کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) گذشتہ 72 سال سے کشمیر سے متعلق  بھارتی آئین میں موجود اُن تمام حفاظتی دیواروں کو گرانا چاہتی ہے جو جموں کشمیرکو دیگر بھارتی ریاستوں سے منفرد بناتی ہیں۔ مثال کے طور پرجموں کشمیر کا اپنا آئین ہے اور ہندوستانی آئین کی کوئی شق یہاں نافذ کرنی ہو تو پہلے مقامی اسمبلی اپنے آئین میں ترمیم کرتی ہے اور اس کے لیے اسمبلی میں اتفاق رائے ضروری ہوتا ہے۔
بھارت کا خطے کے امن کو تارتار کرنے کا اقدام، صدارتی حکم نامے کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی، بھارتی کالے قانون کے تحت مقبوضہ جموں و کشمیر آج سے بھارتی یونین کا علاقہ تصور ہو گا۔مودی حکومت نے خطے کو ایک مرتبہ پھر آگ میں جھونکنے کا ارادہ کر لیا، صدارتی حکم نامے کے ذریعے نیا کالا قانون لاگو کر دیا گیا ہے جس کے تحت مقبوضہ کشمیر کی جداگانہ خصوصی حیثیت ختم کر کے بھارتی ریاست کا درجہ دے دیا ہے، لداخ کو مقبوضہ کشمیر سے الگ کر دیا گیا۔ کالے قانون کے تحت مقبوضہ کشمیر اور لداخ آج سے بھارتی یونین کا حصہ تصور ہو گا۔ یہ قدم اسرائیلی طرز پر کشمیریوں کو اقلیت میں بدلنے کیلئے اٹھایا گیا ہے۔
آرٹیکل 370 کی وجہ سے صرف تین ہی معاملات بھارت کی مرکزی حکومت کے پاس تھے جن میں سکیورٹی، خارجہ امور اور کرنسی شامل ہیں۔ باقی تمام اختیارات جموں و کشمیر حکومت کے پاس تھے۔ بھارت اب کشمیریوں کی جداگانہ پہچان ختم کرکے متنازعہ علاقے میں غیر کشمیریوں کو لانا چاہتا ہے۔ اس لیے آج تک تمام کشمیری بھارت کے اس نظرئیے کی مذمت کرتے رہے ہیں۔اس آرٹیکل کے خاتمے کے بعد اقوام متحدہ کی جموں و کشمیر کے حوالے سے ان قرار دادوں کی رہی سہی اہمیت ختم ہونے کا بھی اندیشہ ہے جن کے مطابق جموں کشمیر کو متنازعہ قرار دیا گیا تھا اور پاکستان اور بھارت کو کہا گیا تھا کہ کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کیلئے رائے شماری کا ماحول بنا کر دیا جائے۔
نیا بھارتی قانون کے نافذ سے مسلمان کشمیر میں اقلیت بن جائیں گے۔تاہم 35-A کی آئینی شق ابھی بھی ریاست کے باشندوں کو غیرکشمیریوں کی بے تجاشا آبادکاری سے بچارہی  تھی۔ اسی شق کو بی جے پی کی حامی این جی او ‘وی دا سٹیزنز’ نے سپریم کورٹ میں چیلنج بھی کیا۔اب دفعہ 35-A ختم ہونے سے  کیا ہوگا؟کشمیریوں  بھارتی قانون میں موجود یہ حفاظتی دیوار گزرنے سے وہ فلسطینیوں کی طرح بے وطن ہوجائیں گے، کیونکہ کروڑوں کی تعداد میں غیرمسلم آبادکار یہاں بس جائیں گے، جو ان کی زمینوں، وسائل اور روزگار پر قابض ہوجائیں گے۔
تاریخ گواہ ہے کہ پہلی جنگ عظیم کے بعد  بھارت کے پنجاب، ہریانہ اور دہلی جبکہ پاکستان کے پنجاب اور سندھ سے لاکھوں لوگ کشمیر میں کاروبار کے سلسلے میں آتے تھے اور ان میں سے بیشتر یہاں آباد بھی ہوجاتے۔ 1927 میں جموں کے ہندو ڈوگروں نے اسُ وقت کے مہاراجہ ہری سنگھ سے کہا کہ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو جموں کشمیر کے پشتینی باشندے اقلیت میں بدل جائیں گے اور ان کی روزی روٹی بھی ختم ہوجائے گی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ دفعہ 35 اے منسوخی  سے ریاست میں 1927ء سے نافذ وہ قانون متاثر ہوگا جس کے تحت کئی پشتوں سے کشمیر میں آباد افراد ہی ریاست میں غیر منقولہ جائیداد کی خرید و فروخت کرنے، سرکاری ملازمتیں اور تعلیمی وظائف کے حصول اور ریاستی اسمبلی کے انتخاب میں ووٹ دینے کے مجاز ہیں۔
امت شاہ نے جو تجویز پارلیمان میں پیش کی اس کے مطابق جموں و کشمیر کی تنظیم نو کی جائے گی اور آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد جموں و کشمیر اب مرکز کے زیر انتظام ریاست یا یونین ٹیریٹری ہو گی جن کی اپنی قانون ساز اسمبلی ہو گی اور وہاں لیفٹیننٹ گورنر تعینات کیا جائے گا جبکہ لداخ مرکز کے زیر انتظام ایسا علاقہ ہوگا جہاں کوئی اسمبلی نہیں ہو گی۔ بھارتی وزیرداخلہ کی جانب سے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے اعلان کے موقع پر راجیہ سبھا میں اپوزیشن کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور کشمیر میں بھی اس فیصلے پر سخت ردعمل کا اندیشہ ہے۔کشمیر سے کانگریس رہنما غلام نبی آزاد نے ایوان میں کہا کہ ”ہم انڈیا کے آئین کی حفاظت کے لیے اپنی جان کی بازی لگادیں گے۔ ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ آج بی جے پی نے اس آئین کا قتل کیا ہے۔
مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی کی رہنما محبوبہ مفتی نے اس اعلان کے بعد اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ”آج کا دن انڈیا کی جمہوریت میں سیاہ ترین دن ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’جمو ں و کشمیر کی قیادت کی جانب سے سنہ 1947 میں دو قومی نظریے کو رد کرنا اور انڈیا کے ساتھ الحاق کا فیصلہ بیک فائر کر گیا ہے۔انڈیا کی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 کو یک طرفہ طور پر ختم کرنا غیر قانونی اور غیر آئینی ہے جس سے بھارت جموں و کشمیر میں قابض قوت بن جائے گا۔ایک اور ٹویٹ میں انھوں نے لکھا کہ ’اس اقدام کے برصغیر پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔  بھارت کی حکومت کے ارادے واضح ہیں، وہ جموں و کشمیر کے علاقے کو یہاں کے مسلمانوں کا قتل عام کر کے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
بھارت نے نیشنل کانفرنس کے رہنما عمر عبداللہ، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی محبوبہ مفتی اور جموں کشمیر پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد لون کو ان کے گھروں میں نظربند کر دیا ہے۔ادھر اسلامی ممالک کی تنظیم (او آئی سی) نے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کرے۔او آئی سی نے ایک ٹویٹ میں مقبوضہ کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورت حال سمیت وہاں پیراملٹری فورسز کی تعیناتی اور انڈین فوج کی جانب سے شہریوں کو ممنوعہ کلسٹر بموں سے نشانہ بنائے جانے پر انتہائی تشویش ظاہر کی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم ممالک کے سرابرہان ٹوئٹ، مذمت کرنے کی بجائے عملی اقدامات کریں تا کہ دنیا کا امن برقراررہے اگر بھارتی حکمرانوں نے دفعہ 35 اے ختم کرکے  مقبوضہ کشمیر کو فلسطین بنا دیاہے اس کے نتائج پورے خطے کے لئے اچھے نہیں ہوں گے

یہ بھی پڑھیں  صرف محفوظ پاکستان ہی خوشحال پاکستان ہو سکتا ہے،آرمی چیف

What is your opinion on this news?