بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

بھارتی آبی جارحیت اور قومی سلامتی کے تقاضے!!!

اکثر دفاعی ماہرین اور حالات پر نظر رکھنے والوں کا اس پر اتفاق ہے کہ دنیا بھر میں ’’آبی ذخائر‘‘ پر جنگ یا تصادم ہونے کے مستقبل میں امکانات ہیں ۔ ان امکانی خطرات کی آھٹ اس وقت سنی گئی جب رواں ہفتہ سپریم کورٹ آف انڈیا نے بھارت میں تمام آبی ذخائر کو ملا کر ڈیموں اور بیراجوں کی تعمیر کا حکم صادر کر دیا،اس فیصلہ کے آنے کے بعد سب سے پہلے اور تا دم ِ تحریر آخری ردعمل اپوزیشن لیڈرآذاد جموں کشمیرقانون ساز اسمبلی راجہ فاروق حیدر خان نے دیتے ہوئے کہا کہ’’ بھارت جہلم،راوی،چناب اور دریائے سندھ کے پانی کو اپنی طرف موڑنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے جس سے ملک کی زرعی پیداوار تباہ ہونے اور بجلی پیدا کرنے والے ڈیم خشک ہونے سے مزیدتوانائی کا بحران ،بھوک اور معاشی زوال کے خطرات ہیں ان حالات سے نمٹنے کے لئے فوری طور پر پاکستان کی سینیٹ ،قومی اسمبلی اور آذاد کشمیر کا اجلاس طلب کیا جائے‘‘۔ان کا ردِعمل تمام قومی پرنٹ اینڈ الیکٹرانک میڈیا پر آنے کے باوجودکسی سطح پر اس حساس معاملہ کو سنجیدہ نہیں لیا جا نا باعث ِ تشویش ہے۔بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے اور اپوزیشن لیڈر راجہ فاروق حیدر خان کے ردِ عمل سمیت قومی بے حسی اور کچھ کرنے کا ذمینی حالات کی روشنی میں جائزہ لگاتے ہیں کہ واقعی قومی اداروں کو متحرک کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے؟
بھارت میں22بڑے اور 123معاون دریا بہتے ہیںجبکہ بے شمار جھلیں ،آبشاریں،ندی نالے اور کوہ ہمالیہ کے بڑے سلسلہ سے برفانی آبی ذخائر موجود ہیں جن کا مختصر ذکر ضروری ہے۔دریائے ’’برہم پتر ‘‘بھارت کا سب سے بڑا دریا ہے جمنا اور گنگا دریائوں سے مل کر 2ہزار510کلو میٹر طویل ،اوسطاً 6لاکھ 80ہزار کیوسک فٹ پانی فی سیکینڈ اخراج کرتا ہے۔
دریائے کامیکا،گومتی،جمبل،مہاندی،گوداوری،کرشنا،کا ویری ، سندھ ، نرمدا ،تابتی،راوی ،چناب،ستلج ،بیاس،کرناٹک سے بہنے والے 49،اندھراپردیش 12،تامل ناڈو6،مغربی بنگال 5،اہم دریا ہیں۔ پاکستان کا آبی نظام کچھ یوں ہے۔5بڑے اور 15معاون دریا ہیںجو مل کر بھی بھارت کے صرف ایک دریا بر ہم پتر کے اخراج سے کم ہیں۔راوی،چناب اور بیاس کوہ ہمالیہ کے سلسلہ بھارتی حدود سے نکل کر صدیوں سے ان کی گزر گا ہ پاکستان کی حدود ہے۔اسی طرح دریائے سندھ چین کے علاقہ تبت کی جھیل مانسرور سے متنازعہ کشمیر سے گزرتے ہوئے خیبر پختون خواہ میں داخل ہوتا ہے جبکہ دریائے جہلم کا منبع کشمیر سرینگر چشمہ ویری ناگ ہے ۔یہ دریا قدرتی طور پر پاکستان کی طرف صدیوں سے بہہ رہا ہے۔
پاکستان کے جملہ معاون دریا ئوں کازیادہ تر پاکستانی حدود میں منبع ہے جو بمشکل صوبہ خیبر پختون خواہ اور گلگت بلتستان کو سیراب کرتے ہیں۔جن مین دریائے کابل،کنہار،چترال ،نیلم ،حب،سوات ،زوب ،سواں ،ٹوچی ،گومل ، ہنزہ ،دشت ،گلگت ،ہنگول ،اور کرم شامل ہیں۔اس طرح دیگرراوی ،چناب،بیاس،جہلم اور سندھ دریائوں کا قدرتی طور پر پنجاب اور سندھ کی جانب بہائو ہے ۔جو زرعی ضروریات کے علاوہ پینے اور دیگرلوازمات کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔گزشتہ کافی عرصہ سے بھارت نے پاکستان کی جانب بہائو کرنے والے دریائوں پر نا جائز طور پر ڈیموں کی تعمیر شروع کر رکھی ہے ۔اب بھارتی سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ بڑے پیمانے پر آبی جارحیت کی جانی طے شدہ بھارتی منصوبہ ہے۔اس پشِ منظر اور مستقبل کے خدشات کے پیشِ نظر یہ امڈتے ہوئے خطرات ہیں کہ ایسا ہونے سے پاکستان میں زرعی پیدا وار شدید متاثر ہو گی اور قحط سالی سے کروڑوں انسان بھوک و افلاس کا شکار ہو جائیں گے۔جس کے نتیجے میں بھارت اپنے توسیع پسندانہ عزائم میں کامیاب ہو سکتا ہے۔
ان حالات میں اپوزیشن لیڈر آذادکشمیر اسمبلی راجہ فاروق حیدر خان کی یہ تجویز مبنی بر حقائق ہے کہ پاکستان کی قومی اسمبلی ،سینیٹ اور آذاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس طلب کر کے متوقع بھارتی عزائم پر غور و فکر اور موثر اقدامات اٹھائے جائیں۔یقینا راجہ فاروق حیدر خان نے تاریخ ساز ایشو کو زیر بحث لایا ہے جس سے ان کی قومی سطح تک رسائی خوش آئندہے ۔حیران کن امر یہ ہے کے چار پانچ دن گزرنے کے باوجود کسی بھی جانب سے اس قدر اہم اور قومی سلامتی کے متعلق تجویز کو سنجیدہ نہیں لیا جا رہا ہے۔اس بے حسی پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔سیاست دان ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے میں لگے ہوئے ہیں ،آمدہ انتخابات کی تیاریاں ہو رہی ہیں،عدلیہ اور حکمرانوں کے مابین مقدمات کی بنا قومی ایشوز سے توجہ ہٹی ہوئی نظر آرہی ہے۔کچھ سیاست کار جگھت بازی اور ذاتیات میں الجھے ہوئے ہیںاور کئی شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بن کر اپنا الو سیدھا کر رہے ہیں۔اس مفاداتی دوڑ میں قومی کاز کسے یاد رہے گا؟
ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کے اعلیٰ ادارے اس بڑے خطرے کو بھانپ لیں اور فوری طور پر قومی اتفاق رائے سے بھارت پر زور دیا جائے کہ وہ باز آجائے ورنہ پاکستان اقوام ِ متحدہ اور عالمی برادری کے سامنے یہ مسئلہ زیر ِ بحث لانے سے گریز نہیں کرئے گا۔یہ امر پیش نظر رہے کہ دریائے چناب، جہلم اور سندھ کے پانی کو بھارت کی طرف موڑناکشمیریوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے ۔اس ضمن میں آذاد کشمیر اسمبلی کو بلا تاخیر ہنگامی اجلاس طلب کر کے احتجاج کرنا چاہئے ۔ اس اہم مسئلہ سے پہلو تہی انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے لہذا جس قدر ممکن ہو اس معاملہ کو کسی بھی صورت میں نظر انداز نہ کیا جائے۔اپوزیشن لیڈر نے بر وقت انتہائی قومی مسئلہ پر توجہ مرکوز کی ہے جسے سنجیدہ لیا جانا ضروری ہے۔حکومت پاکستان کو چاہئے کہ وہ تمام تر دیگر مصروفیات ترک کر کے اس حوالے ’’گول میز کانفرنس‘‘ بلانے کا اہتمام کرئے تا کہ پوری قوت سے بھارت پر دبائو بڑھایا جا سکے۔نیز کل جماعتی کانفرنس میں ملک کے دیگر اہم مسائل توانائی کا بحران ،بے روزگاری ،مہنگائی ،بڑھتے ہوئے جرائم ،دہشت گردی سے پیدا شدہ حالات ،امریکی توسیع پسندانہ عزائم ،خلیج میں امریکی بحری بیڑے کی نقل و حرکت پر بھی بحث اور منصوبہ عمل سامنے لا کر قومی سلامتی کو مستحکم بنا یا جائے۔

یہ بھی پڑھیں  فقیروالی:ڈاکٹرمظہراقبال چوہدری نے ہاؤسنگ کالونی کیلیے سوئی گیس کے منصوبہ کا سنگ بنیادرکھ دیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker