تازہ ترینصابرمغلکالم

بھارتی میڈیا کی پاکستان مخالف مہم میں شدت

دنیا بھر میں ہالی وڈ کے بعد بھارتی فلم انڈسٹری ہالی وڈ کے نام سے مشہور اور دوسری بڑی ہے،انڈیا بہت بڑا ملک ہے وہاں درجنوں زبانوں میں فلمیں بنائی جاتی ہیں وہاں 100کے قریب فلم سٹودیوز،19میوزیکل سٹوڈیوز جبکہ13بہت بڑی ڈسٹری بیوٹرز کمپنیاں موجود ہیں ان فلموں میں شاید کسی کا دھیان اس جانب نہ گیا ہو کہ اس میں ہیرو کا کردار بہت پر اثر اور طاقتور کے طور پر دکھایا جاتا ہے مگر باقی سب کردار کیسے اور کیا کرتے ہیں توجہ دی جائے تو مجموعی طور پر کروڑوں روپے لاگت سے بننے والی فلم میں بھی میں بزدلی اور منافقت عروج پر تیرتی نظر آتی ہے،وہاں ہر جانب غربت کا راج ہے مگر ان کے ڈراموں کو دیکھیں تو لگتا ہے شاید یہ دنیا کا سب سے بہترین،ترقی یافتہ اور انتہائی خوشحال ملک ہے، انڈیا کا شمار آبادی اور رقبہ کے لحاظ سے دنیا کے چند بڑے بڑے ممالک میں ہوتا ہے،ہمارا یہ پڑوسی ملک جتنا بڑا ہے اتنا ہی زیادہ اس کے اندر کینہ،بغض،منافقت ہے بلکہ مسلم دشمنی میں بھی یہ اسرائیل کے ہم پلہ ہے،گو ہمارے اسرائیل سے تعلقات ہین نہ ہوں گے نہ اسے قبول کیا نہ کریں مگر سب کچھ قبول کرنے کے باوجود آج تک انڈیا نے اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی ریاست کو قبول نہیں کیا،پاکستان نے ہمیشہ اسے احساس دلایا کہ وہ کوئی تر نوالا نہیں جسے وہ ہضم کر جائے گا اس سے کئی گنا چھوٹا ملک ہونے کے باوجود اس میں اتنا دم خم نہیں کہ وہ براہ راست پاکستانی فوج اور قوم کو للکار سکے جتنی دہشت اس پر پاک فوج کی ہے دنیا میں کسی اور کی نہیں،1965میں اس کے چند کرداروں میں یہ خناس بھر آیا تھا کہ وہ لاہور جا کر ناشتہ کریں گے پاک فوج نے دانت ایسے کھٹے کئے جسے وہ تا قیامت فراموش نہیں کر پائیں گے،جب ہمت نہ ہو تو انسانی فطرت ہے کہ وہ گھٹیا اور اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آتا ہے یہی پالیسی گذشتہ کئی دہائیوں سے بھارت نے اپنا رکھی ہے،اس نے اسی دشمنی کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر میں ریاستی جبر و ظلم کا وہ بازار گرم کر رکھا ہے جس کی کہیں اور مثال نہیں ملتی مگر ہزاروں قربانیوں کے باوجودعظیم کشمیری نہ جھکے ہیں اور نہ ہی کبھی جھکیں گے، ملک بھر میں مسلمانوں کی زندگی اجیرن اور ظلم و ستم کی اخیر ہے،پاکستان کو دہشت گردی کی جنگ میں دھکیلنابھی اسی ناپاک سازش ہے جس میں ان کے مقامی ملک دشمن عناصر کے لئے خزانے کے منہ کھول رکھے ہیں،ان کا میڈیا بھی پاکستان دشمنی میں خطرناک حد تک مہم شروع کئے ہوئے ہے، کشمیر میں قتل عام اور LOCپر شہری آبادی کو نشانہ بنایافائر بندی کی خلاف ورزی در خلاف ورزی،ایسے تمام مظالم اور ایل او سی پر نہتے شہریوں کو خون میں نہلانے پر اندیا کے ٹی وی چینلز اور پرنٹ میڈیا چیک کریں تووہاں پاکستان بارے وہ بے پرکیاں اڑائی جاتی ہیں ایسے الزامات پاکستان پر لگائے جاتے ہیں جنہیں سن کر یا پڑھ کر کوئی ایسے ڈھیٹ معاشرے اور عجیب قوم پر شرم آتی ہے،مگر شرم سے عاری یہ قوم پاکستان دشمنی میں مکمل طور پر ہم آہنگ ہے،اسے ان گنت مقام پر جگ ہنسائی کا سامنا کرنا پڑا مگر ان کی ڈھٹائی بجائے کم ہونے کے مزید بڑھتی جا رہی ہے،انہوں نے متعدد بار پاکستان میں سرجیکل اسٹرائیک کا بھونڈا دعویٰ کیا مگر حقیقت میں اسے ہمت تک نہیں ہے،11سیاسی جماعتوں پر مشتمل تاریخ پاکستان کے انوکھے الائنس کے جلسے کو سول نافرمانی اور پاک فوج کے خلاف جلسہ قرار دیا(اسی جلسہ میں نواز شریف نے پاک فوج کے خلاف پھر سے تقریر کی،اس شرمناک حرکت کے بعد دوسرا جلسہ کراچی میں آرگنائزڈ تھاوہاں کیپٹن (ر) صفدر نے احاطہ بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح میں خلاف قانون تقریر اور نعرے بازی کی،قانون حرکت میں آیا اور مقدمہ پھر گرفتاری بعد میں رہائی بھی مگر انڈین میڈیا کی چیخیں آسمان تک پہنچ گئیں،ان کا ہر ٹی وی چینل کراچی میں پاک فوج کی مداخلت حتی ٰ کہ مارشل لاء تک کی نیوز چلا دی گئیں ان کے شرم ناک تجزئے اور تبصرے انتہائی زہر آود تھے،اتنی آلودگی،غلاظت اور خباثت صرف اسی قوم کے اذہان ہی کی اختراع ہو سکتی ہے،،پاکستان مخالف مہم ماضی میں مخصوص وقت اور اہداف کے لئے جاری رہتی تھی مگر اس میں اگست2018 کے بعد شدت آچکی ہے جو سمجھ سے الاتر ہے، یہ بات انسٹی ٹیوٹ آ ف پالیسی ریسرچ تازہ ترین رپورٹ میں سامنے آئی ہے،اس رپورٹ نے ڈیجیٹل میڈیا پر بھارتی زہر آلود پروپیگنڈہ کو بے نقاب کرکے رکھ دیا ہے رپورٹ کے مطابق رواں سا ل بھارتی میڈیا نے چار بڑے اہداف پر فوکس کر رکھا ہے جن میں سر فہرست چیر مین سی پیک جنرل عاصم جاوید باجوہ (2)پاک فوج (3) انتشار،بدامنی اور سی پیک کو سبو تاژ کرنا اور(4)کشمیر پر سخت ترین پروپیگنڈہ،شامل ہیں، دوسری جانب چند ایسے نجی چینلز،سوشل میڈیا ایکسپرٹس،بعض سیاسی لیڈران بھی بالکل اسی ایجنڈے کو اپنی پہلی ترجیح سمجھتے ہیں ان کی اسی سوچ اور طریقہ کارنے ہی انڈین میڈیا کو ایسے غلیظ مواقع فراہم کئے ہیں،کراچی واقعہ پر ایک سیاسی جماعت براہ راست پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنا رہی ہے،اب انہیں چادر اور چار دیواری کا بھی بہت خیال آ رہا ہے چادر اور چار دیواری کے یہ پاسبان سانحہ ماڈل ٹاؤن کو تو واقعہ سمجھتے ہی نہیں جہان دن دیہاڑے عورتوں،بچوں جوانوں اور بوڑھوں کے ساتھ کیا نہیں گیا؟14لاشیں گر گئیں عورتوں کے منہ میں فائر لگے،درجنوں کیمروں کے سامنے حکومتی احکامات پر پولیس نے وہ قیامت برپا کی جسے تاریخ لکھنے والاہر مؤرخ فراموش نہیں کر پائے گا،اب اسی الائنس کا تیسرا جلسہ کوئٹہ میں شیڈول تھامگر اس سے چند روز قبل انڈیا کی معاونت اور پالیسی مطابق بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں ایک ہی روز دہشت گردی کے واقعات میں 20اہلکار شہید کر دئے گئے،اس دہشت گردی کی ذمہ داری علیحدگی پسند بلوچ الائنس براس اور کالعدم پاکستان تحریک طالبان نے قبول کی،بلاشبہ انہیں انڈیا کی ہی حمایت حاصل ہے ویسے بھی پاکستان میں ہونے والی تمام تر دہشت گردی کے واقعات کے تانے بانے ہمیشہ بھارت سے جا ملے،PDMکے جلسہ سے قبل ہونے والی دہشت گردی اور سیکیورٹی فورسز کی جانب سے بھاری بارودی مواد برآمد کرنے کے بعدISIکی جانب سے تھریٹ الرٹ جاری کیا گیااس تھریٹ الرٹ پر انڈین میڈیا نے آسمان پر اٹھا لیا،ان کے ایک نام نہاداور تعصب سے لبریز دانشورنے کہادہشت گردی کے لئے یہ علاقہ اس لئے منتخب کیا گیا تاکہ بعض اعلیٰ شخصیات کو قتل کرنے کا الزام علیحدگی پسندوں،طالبان اور بھارت پر لگایا جا سکے کیسا غلیظ تماشہ ہے ایک طرف علیحدگی پسندوں کو فنڈنگ کرتے ہیں دوسری جانب پاکستان دشمنی میں پروپیگنڈہ کو بھی خوب اچھالتے ہیں،کلبھوشن یادیو کون تھا؟وہ یہاں کیا کر رہا تھا؟کیا وہ انڈین حاضر سروس آرمی آفیسر نہیں تھا؟ماضی کے حکمرنوں نے اس کا نام تک لینا گوارا کیا؟اب کہا جا رہا ہےNROموجودہ حکومت نے دے دیا ہے،انڈین میڈیا پہلے ہی کم اپنی خباثت سے بھرا پڑا ہے اوپر سے ہمارے کچھ محب وطن بھی ان کے بازو بنے ہوئے ہیں تب ان کی حب الوطنی کہاں جاتی ہے؟کشمیر کاز کو وہ کس مقام پر رکھتے ہیں؟کوئی واقعہ یہاں ہوتا ہے،سیاسی مخالفت پر الزام تراشی یہاں ہوتی ہے لمحہ بھر میں ہی سب کچھ نہ صرف تفصیل بلکہ اس سے بھی کئی گنا آگے من گھڑت صورت میں انڈین پاکستان دشمن تبصروں کے ساتھ دکھا رہا ہوتا ہے یہ ہمارے ایسے ذمہ داران کے لئے نہ صرف انتہائی شرمناک بلکہ ملک دشمنی کے مترادف ہے،پاکستانی میڈیا اور ہمارے محب وطن سوشل میڈیا ایکسپرٹس کو انڈین بکواسیات کابھرپورانداز میں جواب دینا ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں  پتوکی میں ڈینگی آگاہی واک اور شاندار سیمینار کا انعقاد

یہ بھی پڑھیے :

What is your opinion on this news?

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker