تازہ ترینکالم

بھولا بھالا خان

rizwan khanلوگ بھانت بھانت کی بولیاں بول رہے ہیں ۔ انوکھے تبصرے کر رہے ہیں۔ کہیں کوئی اندازوں کی شطرنج بچھائے بیٹھا ہے تو کوئی تبصرہ پھینک رہا ہے جیسے تاش کے پتے پہ پتا ۔کوئی اپنے ماضی کے تمام کالمزکار یفرنس دے کر یہ ثابت کر رہا ہے کہ میں نے تو عمران خان کی پیدائش کے وقت ہی کہہ دیا تھاکہ یہ ایک ناکام دھرنا دے گا۔ سپریم کورٹ کی بنیادیں رکھنے سے پہلے ہی انہوں نے دعوی کردیا تھا کہ یہاں دھاندلی کیس کی سماعت ہوگی فیصلہ حکومت کے حق میں آئے گا ۔ سچ لکھنا مشکل کا م ہے۔ ریفرنس دینے اندازے لگانے تکے لگانے میں ہم سب کا کوئی ثانی نہیں ہے ۔ عمران خان کی نواز شریف کے ساتھ کوئی لڑائی نہ ہوتی اگر وہ سیاست میں آنے کا نام نہ لیتے ۔ اگر وہ سیاست میں نہ آتے تو سب کی آنکھوں کا تارا ہوتے۔ ان کو صبح شام ہیرو بنا کر پیش کیا جار ہا ہوتا۔ اقتدار کے ہوس میں اندھے لوگ سب کچھ برداشت کر جاتے ہیں۔ مگر اقتدار کی دیوی کا سانجھا کسی طور برداشت نہیں کر پاتے۔ پنجاب حکومت سے محبت عمران خان سے نفرت کی بنیادی وجہ ہے۔ آج عمران خان سیاست کے میدان سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیں۔ یہ اپنی سیاسی بھیڑیں پنجاب کے باڑے سے باہر لے جائیں تو یہ پھر سے شاہی کھانوں میں مہمان ہوں گے۔ ان کو چندہ بھی ملے گا ان کے ساتھ فوٹو سیشن بھی ہوں گے ۔ یہی معاملہ طاہرالقادری کے کیس میں بھی ہے وہ سب کے روحانی پیشوا تھے ۔ شریف فیملی کے پیر تھے ۔ان کے بچوں کے معلم بھی تھے۔ ان سے ملنا خیروبرکت تھی ۔ انہوں نے بھی پنجاب کے اقتدار پر شب خون مارنے کی نیت کر لی۔ انہوں نے بھی پنجاب اور سیاست پر اپنا دعوی کردیا۔ اس کے بعد ان کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہیں۔ یہ آج تک انصاف کے لئے دھکے کھا رہے ہیں ۔ انصاف ان کے لئے دن کی روشنی میں چاند بن چکا ہے ۔ حکومت اور عدالتوں کو تو یہ چاند نظر آرہا ہے کہ ہم نے انصاف دے دیا ہے ۔ قادری صاحب اور ان کے نیم برگر پیروکار چاند ڈھونڈ رہے ہیں جو شائد ان کو کبھی نہ ملے۔ ان کی دوسری غلطی دھرنا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ دھرنا انہیں انصاف دلا دے گا۔ ان کی خوش فہمیاں انہیں اس اسٹیج تک لے آئی ہیں کہ یہ اب سوشل میڈیا پر پوسٹیں لگا کر اپنا غصہ دکھ نکا ل رہے ہیں ۔ یہ بھولے بھالے لوگ پاکستان کو جمہوری ملک سمجھ کر لانگ مارچ کے لئے نکل کھڑے ہوئے۔ ان کے مطالبات ایک دم جائز تھے ۔ طریقہ کار بھی ٹھیک تھا ان پر ہر کسی کا ایجنٹ ہونے کا الزام لگا۔ سب پارٹیاں ان سے الگ ہوگئیں۔ کس طرح انہوں نے دھرنے دیئے۔ کیا ہوا کیوں واپس آئے ۔ انہوں نے کیا کھویا دھرنے میں کیا پایااس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا ۔ جب مظاہرین نے پارلیمنٹ ہاؤس کا گیٹ توڑڈالا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ میراایک دوست جذباتی انداز میں چیخنے لگ گیا تھا They should put the parliment under fire اس کی بات جائز تھی ۔ خان صاحب کی کونسی بات غلط تھی ۔ اس پارلیمنٹ سے آج تک غریب کو ملا ہی کیا ہے۔ اس جمہوری نظام نے چوروں کو پروموٹ کرنے کے علاوہ کیا ہی کیا ہے۔ جس جمہوری نظام میں کوئی شریف اور باعزت آدمی الیکشن لڑنے کا سوچ نہ سکتا ہو وہاں کی پارلیمنٹ کو لوگ جلا دینے کی خواہش نہیں پالیں گے تو کیا کریں گے۔ فوج ہمارا سب سے بڑا ادارہ ہے ۔ فوج کی حب الوطنی پر کسی کو کوئی شک نہیں ماسوائے ان چند پارلیمنٹ میں بیٹھے مفاد کے گدھوں کے جو ملک کے ساتھ ساتھ وقتا فوقتا فوج کو بھی نوچنے کے پلان بناتے رہتے ہیں ۔ان نکمے نکھٹو لوگوں سے کوئی پوچھے کہ ہر ادارہ تباہ کچھ اس طرح کیا ہے کہ سیلاب ہو یا زلزلہ فوج کے بنا ہم عضو معطل ہیں ۔ اس کے باوجود یہ گرگٹ رنگ بدل بدل کر عوام اور فوج کے خلاف صف آراء رہتے ہیں ۔ ملک لوٹنے کے علاوہ فوج کے خلاف بھی ان چورپارٹیز نے ایکا کیا ہوا ہے ۔ خان صاحب سمجھے تھے کہ ان کا دھاندلی کے خلاف واویلا اس ملک میں الیکشن سسٹم تبدیل کرنے کا باعث بنے گا ۔ یہ بھول گئے تھے کہ ہمارے ہر ادارے کی کتی چوروں کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔ جس دن خان صاحب یہ جان گئے اس دن یہ اپنی ہر کاوش پر مسکرا ئیں گے ۔ خان کو غلط قرار دے دیں اگر ہمارا ہر ادارہ کرپشن سے پاک ہے۔خان مجرم ہے اگر ہماری جمہوریت عوام کی خدمت کر رہی ہے ۔ خان سسٹم کو تباہ کر رہا ہے اگر ملک میں ہر طرف انصاف کا بول بالا ہورہا ہے۔ خان کا کڑا احتساب کریں اگر ہمارا ہر سیاست دان غربت کی آگ میں جھلس رہا ہو مگر پھر بھی عوامی خدمت کر نے پر تلا ہو۔ خان کو کڑی سے کڑی سزا دیں اگر ہمارے بیوروکریٹ لوٹ مارکے علاوہ کچھ اور بھی کر رہے ہوں۔ جب ملک میں کرپشن ہے سیاست دان چور ہیں عوام بدحال ہیں لوڈ شیڈنگ عروج پر ہے سیلاب ہمیں غوطے دے دے کر جارہے ہیں ہمارے پارلیمنٹ ممبرز کا تعلیمی ریکارڈ دیکھ کر جب صرف فرسٹریشن پھیلنے کا خطرہ لاحق ہو تو پھر عمران خان غلط نہیں ہیں۔ ہاں بھولا بھالا ضرور ہے۔ اس ملک کی ہر چوری ہر محکمے پر ڈاکے کی وجہ کتی کا چوروں سے ملا ہونا ہے ۔ اگر ہمیں واقعی ترقی کرنی ہے ملک کو آگے لے کر جانا ہے تو ہمیں کتی کو مالکوں کا وفادار بنانا ہوگا ۔یہ کام کچھ خاصا مشکل بھی نہیں ۔ فوج کو بارڈرز کے دفاع کے ساتھ ملک کے اندرونی معاملات کو ڈگر پر لانے کے لئے بھی کچھ اقدامات کرنے ہوں گے ان میں سب سے پہلا قدم میرٹ پر عمل درآمد کا حکم دینا ہوگا بصورت دیگر ہم بارڈر بھلے ہی جیتنے ناقابل تسخیر بنالیں ملک کو اندر سے کھوکھلا کرنے والے دیمک نظام کو چاٹ کر اس جگہ پہنچا دیں گے جہاں شائد دفاعی ضرورت بھی نہ رہے ۔ نااہل لوگوں کے ہاتھوں ملک ڈوب رہا ہے ۔ اربوں روپے کے منصوبے ایک بارش کی مار نہیں سہہ پا رہے۔ حالات اگر آج ٹریک پہ آجائیں تو یقین مانیئے کہ عمران خان جیسے لوگ سکون سے اپنی ساری توجہ فلاحی کام پر مبذول کردیں گے ۔ کوئی اس سسٹم کے دفاع کے لئے لاکھوں ہی سوال گھڑے عمران خان کی ذات پر انگلی اٹھائے اس سے سسٹم ہی مزید ایکسپوز ہوتاہے ۔ خان صاحب کو خدا نے بہت عزت دی ہے ۔ لاکھ کوشش کے باوجود خان کی God giftedعزت میں رتی برابر کمی نہیں واقع ہوئی ۔ خان کا ووٹر بھٹو کے ووٹر سے بھی پکا ہے ۔ حسن نثار صاحب جب بھی بات کرتے ہیں اس سسٹم کی گندی رگیں بری طرح پھڑکنے لگ جاتی ہیں ۔ آپ ملک کے وزیر اعظم ہوں لیکن آپ کی عزت نہ ہو ۔ آپ وزیر اعلی ہوں لیکن عزت کے میدان میں کورے ہوں تو بات سوچنے کی ہے ۔ عزت کوئی بیوپار نہیں۔ یہ خریدی نہیں جا سکتی۔ جب مقدر میں عزت نہ ہو تو نمرود جیسے کو خدا تخت پر بٹھا کر بھی ذلیل کرواتا ہے ۔ آپ صدر وزیراعظم بن کر بھی دن رات چور کہلا رہے ہوں تو یہ سوچنے کا مقام ہے ۔ آپ کے مقابلے میں کوئی کچھ نہ ہو مخلص اور عوامی حلقوں میں محب وطن ہو تو بات سوچنے اور یقیناًپریشان ہونے کی ہے ۔ باقی خان صاحب کو سرکاری دوروں پر اہلیہ کو ساتھ لے کر جانے سے پہلے سوچنا چاہیے یہ کرنا ان کو زیب نہیں دیتا ۔ رہی عوام تو اسے انتظار کرنا پڑے گا کہ کب سسٹم کی کتی چوروں پر بھونکنا شروع کرے گی

یہ بھی پڑھیں  سی پیک منصوبہ اور دشمنوں کی سازشیں

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker