تازہ ترینکالممقصود انجم کمبوہ

توانائی کا بحران ہمیں کہاں لے جائے گا

جدید صنعتی معاشرے میں بجلی کے بغیر کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔ماضی میں توانائی سے متعلق کامیاب پالیسیوں کی وجہ سے آج ہم بجلی اور توانائی کے دیگر ذریعوں سے استفادہ کر رہے ہیں لیکن دو اہم وجوہات نے ہمیں کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے ان میں سے پہلی وجہ یہ ہے کہ توانائی کے روایتی ذرائع یعنی کوئلہ تیل اور قدرتی گیس وغیرہ کے وسائل بظاہر بہت نظر آنے کے باوجود محدود ہیں اور جلد یا بدیر ان کے ذخائر ختم ہو جائیں گے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ کوئلہ تیل اور گیس وغیرہ کے جلنے سے کرہ ارض کی فضا اور ماحول میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار مسلسل بڑھ رہی ہے اور اس مضر صحت گیس کی وجہ سے ماحول میں وقت کے ساتھ ساتھ آلودگی بڑھتی جا رہی ہے اور یہ دونوں وجوہات ہمیں مجبور کر رہی ہیں کہ ہم توانائی کے دیگر بہتر ذرائع کے بارے میں سوچیں۔لہٰذا وفاقی جمہوریہ جرمنی کی حکومت توانائی کے نئے ذرائع اور وسائل تلاش کرنے اور انہیں ترقی دینے کے لیے خصوصی کوششیں کر رہی ہے۔اس بارے میں تحقیق اور دیگر اخراجات کے لیے وفاقی حکومت نے 1970ء کے عشرے کے وسط میں 20کروڑ مارک کی رقم مخصوص کی تھی ۔یہ رقم 1990ء کے عشرے کے وسط تک کے لیے مختص کی گئی تھی لیکن اخراجات کو دیکھتے ہوئے بعد ازاں رقم بڑھا کر 35کروڑمارک کر دی ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا بھر کے مختلف ممالک اس مد میں جو اخراجات کر رہے ہیں ان کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو ظاہر ہو گا کہ وفاقی جمہویہ جرمنی توانائی کے نئے اور قابل تجدید وسائل کے بارے میں تحقیق پر جاپان اور امریکہ کے تقریباً برابر اور یورپی ممالک سے زیادہ رقم خرچ کر رہا ہے۔
اس سلسلے میں سائنسدان اور انجینئر سورج کی حرارت اور ہوا پانی حاصل کرنے کے منصوبوں پر سرگرمی سے نہ صرف کام کر رہے ہیں بلکہ محدودپیمانے پر ان ذریعوں سے حاصل کردہ توانائی استعمال بھی کی جارہی ہے ۔فی الوقت توانائی کی بنیادی کھپت 2.4فیصد کے برابر قابل تجدید وسائل سے حاصل کی جا رہی ہے ۔جہاں تک کہ ان ذرائع سے بجلی پیدا کرنیکا تعلق ہے تو ان ذریعوں سے مجموعی طور پر پانچ فیصد بجلی حاصل کی جا رہی ہے۔اندازہ ہے2015تک قابل تجدید ذریعوں سے بجلی کی پیداوار دو ،تین گنا ہو جائے گی۔اگرکوئی شخص شمالی جرمنی سے ساحل کے ساتھ ساتھ سفر کرے تو اسے ہوا سے چلنے والے جنریٹر نظر آئیں گے جن میں سے بیشتر زرعی فارموں کے ساتھ نصب ہیں۔وفاقی حکومت 100میگاواٹ منصوبے کے تحت ہوا والے بجلی کے پلانٹ لگانے کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے جو لوگ اپنے استعمال کی بجلی ذاتی طور پر پیدا کرنے کے خواہشمند ہوں تو حکومت ان کو امداد فراہم کرتی ہے جو لوگ ہوا اور پانی سے چلنے والے بجلی کے پلانٹ نصب کرتے ہیں ان کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ بنیادی معومات کے لیے کچھ عملی تجربہ بھی حاصل کریں تا کہ ان کے بعد کوئی اور بجلی پلانٹ لگانا چاہے تو اس کی مدد کر سکیں۔
ہوا کی قوت سے بجلی تیار کرنے کے ساتھ ساتھ اب سورج کی حرارت سے بجلی پیدا کرنے میں بھی لوگوں کی دلچسپی بڑھتی جا رہی ہے ۔سورج سال بھر میں صرف وفاقی جمہوریہ جرمنی کے علاقے پر جتنی حرارت نچھاور کرتا ہے اسے کلوواٹ میں تبدیل کیا جائے ۔تو یہ مقدار دو کھرب 50ارب کلو واٹ بنتی ہے۔اگر ہم توانائی کے اس بے بہا خزانے کو بجلی تیار کرنے کے لیے استعمال کر سکیں تو بجلی کی قلت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔دریائے موصل کے ساتھ ساتھ کوبرن گونڈو رف میں انگور کے قدیم باغات کی ڈھلوانوں پر تحقیق و ٹیکنالوجی کے وفاقی وزارت کے تعاون سے شمسی توانائی کا جو مثالی بجلی گھر قائم کیا گیا ہے اسے قومی گرڈ سے ملا دیا گیا ہے
جرمنی میں تقریباً سو سال سے عام لوگوں کو بجلی فراہم کی جا رہی ہے اس عرصے میں یہ پہلا موقع ہے کہ لوگوں کو روائتی بجلی گھر کی بجائے فوٹو وولٹک عمل کے ذریعے سورج کی حرارت سے تیار کر دہ بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔دریائے موصل کے کناروں پر 78شمسی موڈیو اس طرح نصب کیے گئے ہیں کہ سورج کی حرارت کو زیادہ سے زیادہ جذب کر سکیں ۔شمسی بجلی گھر میں سالانہ ڈھائی لاکھ کلو واٹ بجلی پیدا ہوتی ہے جس سے 75خاندانوں کی سال بھر کی ضروریات پوری ہو سکتی ہیں۔کوبرن گونڈورف کے علاوہ اب نیو نبسرگ اور کتھنوس کے گریک آئی لینڈ میں بھی شمسی توانائی سے بجلی تیار کرنیکے منصوبے حقیقت کا روپ دھار چکے ہیں۔
صنعتوں اور ٹرانسپورٹ کے بعد ،زیادہ بجلی یعنی توانائی کی کل کھپت کی 45فیصد گھروں اور دفاتر وغیرہ میں استعمال ہوتی ہے اس لیے وفاقی حکومت چاہتی ہے کہ دفاتر اور گھروں کو روشن اور گرم رکھنے اور بجلی کے دیگر آلات میں استعمال کے لائق بجلی پیدا کرنے کے لیے شمسی توانائی کو بھی کام میں لایاجائے لوگوں نے حکومت کی مدد اور تعاون سے اس سلسلے میں جو کامیابی حاصل کی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سوچ کا یہ انداز اور طریقہ بالکل صحیح ہے۔عمارتوں کو گرم رکھنے کے لیے مستقبل کے لیے بہتر نظام وضع کیے جارہے ہیں۔اس کے علاوہ مائیکرو الیکٹرونکس کے استعما ل کی وجہ سے امید ہے کہ 2015ء میں تک بجلی کی کھپت میں 30فیصد تک بچت ہو گی توانائی کے نئے اور قابل تجدید ذریعوں اور وسیلوں کی دریافت اور انہیں ترقی دینے کے علاوہ وفاقی حکومت اس بارے میں تحقیق پر بھی کافی توجہ دے رہی ہے جس سے ایسے طریقے معلوم کیے جاسکیں کہ توانائی کے روایتی ذریعوں یعنی کوئلہ تیل اور گیس سے جلنے سے ماحول آلودہ نہ ہو۔توانائی کا ایک اور عام ذریعہ ایٹمی توانائی ہے لیکن اس میں افادیت کے ساتھ ساتھ کافی خطرات بھی ہوتے ہیں ۔اس لیے وفاقی حکومت ایٹمی ری ایکٹر کو زیادہ سے زیادہ محفوظ بنانے کی تحقیق پر کافی رقم خرچ کر رہی ہے۔
توانائی کا بحران صرف ایک ملک کا بحران نہیں بلکہ بین الاقوامی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔لیکن ہر ملک میں اس بحران پر قابو پانے کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی اور پالیسیاں مرتب کی جا رہی ہیں لیکن ہمارے ہاں ابھی بحث و مباحثہ جاری ہے کہ کیا کیا جائے ۔سابق حکمرانوں کا کہنا ہے کہ بجلی کا بحران خود ساختہ ہے جبکہ موجودہ حکمران اس بار ے میں کچھ کہنے سے عاری ہیں لیکن فنی ماہرین کالا با غ ڈیم کی تعمیر میں پائی جانے والی خامیوں کو دور کرنے کے لیے متعدد تجاویز پیش کر چکے ہیں اور اس منصوبے کی تعمیر و تکمیل کے لیے ٹھوس تجاویز دے چکے ہیں ۔لیکن ہمارے سیاستدانوں نے اسے انا کا مسئلہ بنا لیا ہے اور حکمران بھی اس کا نام لینے سے کترانے لگے ہیں۔بدقسمتی سے فوجی آمر بھی اس کی تعمیر کے سلسلے میں ہاتھ کھڑے کر گیا تھا۔ حالانکہ اس نے ہر صوبے کو رام کرنے کے لیے گلہ پھاڑ پھاڑ کر سمجھانے کی کوشش کی لیکن کسی نے ساتھ نبھانے کا وعدہ نہ کیا ۔بالآخر وہ بھی مجبور ہو گیا۔عوام کو چاہیے کہ اب وہ ایسے سیاسی لوگوں اور پارٹیوں کو کامیاب کرائیں جو کالا باغ ڈیم اور دیگر متبادل توانائی کے ذرائع ک

یہ بھی پڑھیں  دیپالپور:باشعور عوام کواب خالی نعروں اور جھوٹے لاروں سے گمراہ کرنے کا دور گزرگیا ،امجد وحید ڈولہ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker