تازہ ترینتجمل محمود جنجوعہکالم

بلا عنوان……

میں آج جس موضوع کے بارے میں لکھنا چاہتا ہوں، اس کے بارے میں لکھتے ہوئے مجھے الفاظ نہیں مل رہے۔ دل غم سے بوجھل ہے تو آنکھیںآنسوؤں سے نم ۔کیا سے کیا ہوئے جا رہا ہے اور ہمیں کچھ احساس نہیں۔ ابھی حمیت کے گن گانے والوں کے زخم ٹھیک بھی نہ ہونے پائے تھے کہ دوبارہ ویسی ہی خبریں گردش کرنے لگی ہیں۔ ایک غیر ملکی اخبار نے دعوی کیا ہے کہ امریکہ پاکستان میں ایبٹ آباد طرز کے ایک آپریشن کی تیاری کر رہا ہے۔آپریشن کا مقصد پاکستان کے قبائلی علاقہ جات میں چھپے ایک امریکی کو نشانہ بنانا ہے۔ امریکی آپریشن کی خبر تو تشویشناک ہے ہی لیکن یہ جان کے کچھ لوگوں کو واقعی بہت اچھا لگا ہو گا کہ ’’امریکی‘‘ بھی دہشتگرد ہیں۔
امریکی اخبار لاس اینجلس ٹائمز نے یہ انکشاف کیا تھا کہ اوباما حکومت سی آئی اے کوپاکستان کے قبائلی علاقہ جات میں چھپے ایک امریکی دہشتگرد کو نشانہ بنانے کے لئے باقاعدہ اجازت دینے کے بارے میں سنجیدگی سے غور فرما رہی ہے۔قیاس یہ ہے کہ اس مبینہ ہدف کو ڈرون، فضائی حملے یا فوجی کارووائی کے ذریعے نشانہ بنایا جائے گا۔یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل پاکستان کے علاقہ ایبٹ آباد میں مبینہ طور پر اسامہ بن لادن کی موجودگی کو جواز بنا کر امریکہ نے یک طرفہ کاروائی کی تھی ۔
اس ضمن میں اہم بات یہ کہ اس وقت جبکہ حکومت اور طالبان کے درمیان ’’پیس ٹاک‘‘ ہونے جا رہی ہے، امریکہ کی طرف سے اس قسم کا کوئی اقدام تمام تر کوششوں پر پانی پھیر دے گا۔ مذکورہ امریکی شہری کو مشق ستم بنایا جائے گا، اس حوالہ سے امریکی مؤقف ہے کہ وہ امریکہ میں دہشتگردحملے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔بعض ناقدین تو اسے امن مذاکرات کو ناکام کرنے کی سازش قرار دے رہے ہیں تاہم اگر امریکہ کے پاس ایسے کسی شخص کی پاکستان میں موجودگی کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں تو اسے پاکستانی حکومت سے رابطہ کرنا چا ہیئے ۔ اس سلسلہ میں سفارتی حلقوں میں بھی تشویش کی لہر پائی جاتی ہے کہ اگر امن مذاکرات کے اس نازک مرحلہ پر اس قسم کی کوئی کاروائی کی گئی تو نہ صرف امریکہ کے لئے پاکستان میں نفرت بڑھے گی بلکہ افغانستان میں موجود امریکی فوجیوں پر حملوں میں بھی شدت آئے گی۔
امریکہ پر کیا بیتے گی اس کا تو مجھے علم نہیں تاہم ایک پاکستانی ہونے کی حیثیت سے جو سوال مجھے ستا رہا ہے، وہ یہ کہ اگر واقعتا ایسا منصوبہ بنایا جا رہا ہے اور خدانخواستہ اس ناپاک منصوبہ کو ایبٹ آباد آپریشن کی طرح عملی جامہ پہنا دیا گیا تو کیا ہمیں خودمختار اور آزاد قوم کہلوانے کا حق حاصل رہے گا۔ اگر ایبٹ آباد آپریشن کے ردعمل میں امریکہ سے سفارتی تعلقات ختم کر دئیے جاتے اور اسے پاکستان سے اپنی فوجیں نکالنے کو کہہ دیا جاتا تو کیا پھر ہمیں اس طرح کی خبریں سننے کو ملتیں۔
نہ جانے ایسی خبروں کے بعد کچھ لوگ کیوں امریکہ کی طرف سے پاکستانی عوام کے نام پر پاکستان کے حکمرانوں کو دئیے جانے والی ’’بھیک‘‘ کو کوسنے لگتے ہیں۔ اور ایسے واقعات کے بعدارض پاک کے ’’جانباز ، باگردار، محب وطن اور شیر دل حکمرانوں‘‘ کی طرف سے داغے جانے والے بیانات کا مقصد خود کو معصوم، بے بس ثابت کرنا اور اپنے آقاؤں کی طرف سے ’’منہ بند رکھنے کی قیمت‘‘ وصول کرنا ہوتا ہے۔ ملک کی سالمیت کو خطرہ میں ڈالنے والے اور عوام کے خون کو بیچنے والوں کے بارے میں میں کیا کہوں سوائے اس کے کہ
؂ وہ ملک کہ جس ملک کا حاکم ہو بھکاری
اس قوم میں کیوں نہ ہو گدا گر عروج پر
اقبال کا شاہیں ہوا پیدائشی مقروض
اور پہنچ گئے یہ سیاسی سوداگر عروج پر

یہ بھی پڑھیں  عاصم سلیم باجوہ کا معاون خصوصی کا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker