انور عباس انورتازہ ترینکالم

بلا امتیاز احتساب کی باتیں

anwar abasعزت مآب عالی زی وقار جناب چیف جسٹس افتخار محمد چودہری کہتے ہیں کہ بلا رنگ امتیاز انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا اگر انصاف کے لیے امتیاز روا رکھا گیا تو ملک میں طبقاتی تفریق پیدا ہوگی۔چیف منسٹر پنجاب کہتے ہیں کہ بلا امتیاز احتساب کرنا ہوگا اگر امیر کے لیے ایک ققانون ہوگا اور غریب کے لیے دوسرا قانون تو پھر ایک نہیں دو پاکستان بن جائیں گے۔ایک امیر کا پاکستان اور ایک غریب کا پاکستان۔دونوں عزت مآب چیفس کی باتیں بڑی وزنی ہیں ۔چیف جسٹس صاحیب بھی درست کہتے ہیں اور غلط چیف منسٹر پنجاب بھی نہیں کہتے۔جوبات ہمارے عزت مآب دونوں چیفس آج کہہ رہے ہیں یہی بات ہمارے پیارے پیغمبر اعظم رسول اللہﷺ چودہ سو سال قبل فرما گے ہیں کہ کسی عجمی کو عربی پر اور عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔اور نہ ہی کسی کالے کو گورے پر اور گورے کو کالے پر برتری کا شرف حاصل ہے سب برابر ہیں۔لیکن ہم نے حضور نبی کریم کے عظیم الشان سبق کو بھلا دیا ہوا ہے۔اور اپنا دستور زندگی اپنی مرضی سے بسر کر نے کا وطیرہ اپنا رکھا ہے۔ہر کام میں شریعت کے احکامات اور رسول اللہ کی تعلیمات کو قرآن مجید کی طرح غلاف میں لپیٹ کر رکھا ہوا ہے۔ اگر دونوں محترم چیف صاحبان وسعت قلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میری بات کو توہین کے زمرے میں نہ لائیں تو عرض کرتا ہوں کہ اس وقت نہ ملک میں بلا امتیاز انصاف ہو رہا ہے اور نہ ہی بلا امتیاز احتساب۔ہر دو شعبوں میں اپنی پسند اور نا پسند کا معیار اپنایا جا رہا ہے۔کیونکہ اعلی عدلیہ سے ماتحت عدلیہ تک میں کسی کے مقدمات روزانہ کی بنیاد پر سنے جا رہے ہیں تو کسی کے مقدمات برسوں سے کاز لسٹوں کا دیدار کرنے سے محروم چلے آ رہے ہیں۔کئی بیچارے قسمت کے مارے لوگ عدالتوں کے چکر کاٹتے کاٹتے جوانی سے برزگ ہو گے ہیں۔لیکن ان کے مقدمات کے فیصلے نہیں ہو پا رہے۔اسی تناظر میں احتساب کے عمل کی شفافیت اور توہین عدلیہ اور ججز کے حوالے سے عدلیہ کے اقدامات کو دیکھا جائے یا ریٹائر ڈ افسران کی تعیناتیوں اور میٹرو بس سروس کے تمام معاملات کی شفافیت کا جائزہ لیا جائے تو سب قانون کے مطابق اور دونوں عزمآب چیفس کے فرامین سے مطابقت نہیں رکھتے ۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ان عزت مآب محترم چیفس صاحبان کے ماز اللہ قول و فعل میں تضاد ہے۔میری مراد محض اتنی ہے کہ بات سے بات سے والی محترمہ ڈاکٹر ماریہ زوالفقار خان چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ اس بس منصوبے میں بیشمار بے قاعدگیاں پائی جاتی ہیں ۔سرعام تماشہ دکھانے والے محترم اقرارالحسن بھی گلہ پھاڑ پھاڑ کر لوگوں کو دکھا رہے ہیں کہ کیسے چیف منسٹر پنجاب کی ناک کے نیچے لاشوں کا کاروبار سرعام کیا جا رہا ہے۔اور اگر سب زمہ داروں سے جواب نہ ملنے کی مجبوری کے ساتھ سرعام کا ہوسٹ اقرار الحسن چیف منسٹر پنجاب کا موقف لینے ایوان اقبال پہنچتا ہے تو چیف منسٹر صاحب ان کی بات سننے سے انکار کر دیتے ہیں اور تیزی سے باہر نکلتے ہوئے انہیں دور ہو جاؤ کے اشارے کرتے ہیں۔کیا یہ دو عملی نہیں ہے؟ اسی طرح میں چیف جسٹس آف پاکستان عزت مآب افتخار محمدچودہری صاحب کی اس بات سے متفق ہوں کہ عدلیہ کے عزت اور وقار سے کسی کو بھی کھیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔لیکن یہاں بھی ایک جیسا سلوک نہیں کیا جا رہا مطلب توہین عدالت اور ججز کے بارے میں توہین آمیز باتیں کرنے والے بدمعاشوں کے ساتھ ایک جیا برتاؤ نہیں کیا جا رہا ۔۔کسی کو نوس جا ری کیے جاتے ہیں تو کسی کے توہین عدالت کرنے کے اقرار کے باوجود اسے نوٹس جا ری نہیں ہوتے حالانکہ توہین عدالت کرنے والا وہ شخص دعوت دیتا ہے کہ بلاؤ مجھے عدالت میں اور دو مجھے تو ہین عدالت کا نوٹس لیکن عدالت اسے نوٹس دینے کی بجائے عدالتی حکم کے تحت اس کی زبان بندی کر دیتی ہے۔میری مراد سید فیصل رضا عابدی سے ہے۔اسی سال لاہور میں مینار پاکستان پر قرآن و سنت کا نفرنس منعقد ہوئی اس میں بھی نہ جانے عدالیہ اور ججز کے بارے میں کیا کیا نہیں کہا گیا لیکن کوئی نوٹس جاری نہیں ہوا۔؟اسکا کیا مطلب لیا جائے۔؟ لیکن دوسری طرف کروڑوں عوام کے قائد الطاف حسین کراچی کے عوام کے ساتھ ہونے والے لم اور زیادتی کے بارے میں عدالیہ کے نا خداؤں سے سوال کرتے ہیں۔اور ایک محترم جج کی جانب سے سیاسی معاملات کے متعلق بیان پر احتجاج کی صدا بلند کرتے ہیں تو عدالت فورا توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیتی ہے۔ اسی طرح وکلاء سرعام عدالتوں کو تالے لگاتے ہیں اور ججز پر جوتے برساتے ہیں اور انہیں تشدد کا نشانہ بناتے ہیں ۔ مگر توہین عدالت کا قانون حرکت میں نہیں آتا کوئی جج انگڑائی نہیں لیتا لیکن کیوں؟جرنیل عدالت کو آنکھیں دکھائیں کوئی بات نہیں۔۔۔اب تو لوگ کہنے لگے ہیں این آر او کیس میں درمیانی رہ اس لیے نکال لی گئی ہے کیونکہ راجہ پرویز اشرف صاحب کسی اعلی عہدیدار کے قریب ہیں ۔یہ انصاف اور احتساب کے بلا امتیاز نعروں کی نفی نہیں ہے ۔اس دو ہرے معیار کے متعلق کل کا مورخ کیا لکھے گا۔۔۔ ہے نہ غور طلب بات؟ ہاں ایک جو شائد ہمارے ان صاحبان کی سمجھ میں با آسانی آ جائے وہ یہ کہ جنگ عظیم شروع ہوئی تو اس وقت کے گریٹ برطانیہ کے وزیر اعظم ونسٹن چرچل نے اپنی کابینہ سے دریافت کیا تھا کہ کیا ہماری عدالتیں عوام کو انصاف صراہم کر رہی ہیں تو کابینہ نے انہیں بتایا کہ جی ہاں عدالتیں عوام کو انصاف مہیا کر رہی ہیں تو چرچل نے کہا تھا اب ہم جرمنی سے ہزار سال تک بھی جنگ لڑ سکتے ہیں۔ اسکا کیا مطلب ؟ عقلمندوں کے لیے بہت بڑا سبق ہ
ے اگر کوئی لینا چاہے تو

یہ بھی پڑھیں  دھرنےمیں جشن کےنام پرعریانی،فحاشی جاری ہے،فضل الرحمان

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker