انور عباس انورتازہ ترینکالم

بلاول بھٹو زرداری کا شکوہ بجا ۔۔۔لیکن

anwar abasبلاوال بھٹو زرداری صاحب جو حکمران اقتدار میں ہوتے ہوئے خود رو پڑے اسے برصغیر پاک ہند میں اچھی نظر وں سے نہیں دیکھا جاتا۔اسکی وجہ یہ ہے کہ حکمرانوں کو تو رو رو کر مجبور اور بے کس عوام ہی اپنی دکھ بھری کہانیاں سناتے ہیں۔اور جب حکمران خود ہی رونے لگیں تو عوام کا تو پھر اللہ ہی حافظ ہوگا۔پاکستان کی تاریخ کے سب سے زیادہ عرصے تک برسراقتدار رہنے والے فوجی حکمران جنرل ضیا ء الحق اپنے اقتدار کے آخری مہینوں میں ٹیلی ویژن پر آ کر زارو قطار روپڑے تو عوام سمجھ گے کہ اب انکا چل چلاؤ ہے۔لیکن ایک سول اور جمہوری اور عوام کی منتخب حکومت کے سربراہ کے فرزنداور حکمران جماعت کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری ہی اپنی اماں جان کا دکھڑا لیکر رو نے لگے وہ بھی اسی دن جس دن انہوں نے اپنی سیاسی انگز کھیلنے کا آغاز کیا ہو تو بڑا عجیب سا لگتا ہے ۔اور لوگ یہ کہنے میں حق بجانب ہیں ۔کہ انکی امیدوں اور آرزوؤں کا مرکز و محور پہلے دن ہی رونے لگا ہے تو آگے کیا کرے گا۔انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ بینظیر بھٹو شہید کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ بھٹو خاندان کی غیر متنازیہ اور مسلمہ شہید ہیں۔انکی پانچویں برسی کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ان کے فرزند ارجمند نے دیگیر باتوں کے علاوہ چیف جسٹس آف پاکستان سے گلہ اور شکوہ کیا ۔کہ انہیں راولپنڈی کی سڑکوں پر بہایا جانے والا ان کی والدہ کا لہو نظر نہیں آتا؟ انکی والدہ کے گرفتار قاتلوں کو سزا کیوں نہیں دی جاتی؟انکا شکوہ اورت گلہ بجا ہے۔ کیونکہ ان کی والدہ کا ناحق خون بہایا گیا ہے۔اسی طرح صدر مملکت جناب آصف علی زرداری بھی یہ کہنے میں حق بجانب ہیں۔کہ انکی اہلیہ محترمہ کے کیس کو اس طرح حق سماعت نہیں دیا جا رہا جیسا ان کے خلاف کیسوں کو سنا جا رہا ہے۔لیکن سوچنے کی بات ہے ۔کہ آیا انہیں قوم کے دکھوں تکلیفوں اور دردوں سمیت درپیش مصائب سے زیادہ اپنے دکھوں کا رونا رونا کیا مناسب ہے۔؟ بلاول بھٹو زرداری اپنی تقریر میں اپنی والدہ شہید کے لیے وا ویلا کرنے کے ساتھ ساتھ مستونگ کے قریب شہید کیے جانے والے 35 بے گناہ مسلمانوں کے خون کے بہائے جانے کو کیوں بھول گے؟ ملک بھر میں خصوصابلوچستان کے راستے زیارات کے لیے ایران اور عراق جانت والے زائر ین کاقتل عام ان باپ بیٹے کو کیوں دکھائی نہیں دیا؟ایک رپورٹ کے مطابق صرف 2012 میں 4000 شیعہ مسلمانوں کو بے گناہ بے دردی سے موت کے گھاٹ سے اتاردیا گیا ہے ۔جن میں ایران عراق جانے والے زائرین بھی شامل ہیں۔۔۔ اور ابھی تک یہ سلسلہ جاری ہے ۔اور نہ جانے کب تک جاری رہے گا۔جب حکمران اپنے مفادات کو ترجیں دینے لگیں تو معاشرے تقسیم ہو جایا کرتے ہیں۔جب پاکستان کے شہریوں میں اس طرح کی تقسیم کی جائیگی تو عوام میں بے چینی بڑھے گی۔جب عوام میں بے چینی بڑھتی ہے تو سانحات جنم لیتے ہیں۔کوئی دیکھے نہ دیکھے جمہوری حکمرانوں اور عدلیہ کے اعلی منصب داروں کو تمام پاکستانیوں کو انصاف کے معاملے میں ایک نظر سے دیکھنا چاہئے۔لیکن عوام کو فوری اور سستا انصاف فراہم کرنے کا صبح شام راگ الاپنے والوں کو خود اپنی اداؤں پر غور کرنا چاہئے۔ورنہ اگر نا انصافی کا شکار عوام کچھ کہیں گے تو بات دور تک چلی جائیگی۔چھوٹی چھوٹی اور غیر ضروری معاملات پر سو موٹو نوٹس لے لیے جاتے ہیں ۔مگر بلوچستان میں ہزارہ برادری اور زائرین کی ٹارگٹ کلنگ کے زریعے ہزاروں مسلمانوں کے قتل عام پر سوموٹو نوٹس لینے میں کیا امر مانع ہے۔ بلاول کی ماں اور صدر مملکت کی اہلیہ کے مقدمہ کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرنے میں کیا دشواری ہے ۔؟کیا ان چیزوں سے کوئی پردہ سرکائے گا؟ بلاول بھٹو زرداری صاحب آپ حکمران اتحاد کی سب سے بڑی پارٹی کے سربراہ ہیں۔حکومت آپ کے اشارہ ابرو پر چلتی ہے۔آپ کی جانب سے شیعہ مسلمانوں کی ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے معمولی اشارہ تک نہ کرنا ان سے بڑی نا انصافی اور زیادتی کے مترادف ہے۔آپ کے وزیر داخلہ دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں بیرونی ہاتھ کے ملوث ہونے کے دعوے کیے جاتے ہیں ۔ مگر آج تک کسی کیس میں کسی بیرونی ہاتھ کو بے نقاب نہیں کیا گیا۔قوم اس کے کیا مطالب لے؟آپ کی والدہ محترمہ شہید بینظیر بھٹو کے قتل کا تمام پاکستانیوں کو صدمہ اور دکھ ہے۔اور وہ آپ کے غم اور درد میں برابر کے شریک ہیں۔اور ان کی دلی آرزو ہے کہ آپکی والدہ محترمہ بینظیر شہید کے قاتلوں کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔جناب بلاول بھٹو زردصاری صاحب جہاں آپ نے اپنی والدہ کے کیس کے حوالے سے چیف جسٹس آف پاکستان سے گلہ اور شکوہ کیا تھا اگر وہیں بے گناہ قتل کیے جانے والے شیعہ مسلمانوں اور ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ کی مناسبت سے بات کر دیتے تو کیا ہی اچھا ہوتا۔کیونکہ ہزارہ برادری اور شیعہ مسلمانوں کو بھی عدالت عظمی سے کچھ ایسی ہی شکایات اور گلے شکوے ہیں۔مجلس وحدت مسلمین نے پاکستان بھر میں جاری دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے خلاف تیرہ جنوری کو اسلام آباد میں دھرنا دینے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ ابھی بھی ’’ ڈھلیاں بیراں دا کجھ نئیں وگڑیاں‘‘ بلاول بھٹو زرداری صاحب ! اگر آپ چاہتے ہیں ۔کہ آپ کی حکومت اور پارٹی عوام کی نظروں میں عزت کا مقام حاصل کر پائے تو آپ کو چاہئے کہ اپنی حکومت کو فوری طور پر اپنی سمت درست کرنے کی ہدایات دیں۔ تاکہ لوگوں میں احساس پیدا ہو کہ انکی اپنی حکومت ہے اور انکی حکومت ان کے مسائل سے غافل نہیں ہے بلکہ آگاہ ہے۔یہی ایک راستہ ہے جس کے باعث آپ کی حکومت اور پارٹی کے خلاف پائی جانے والی نفرت کو ختم یا کم کیا جا سکتا ہے

یہ بھی پڑھیں  انگلینڈ نے پاکستان کو تیسرے ون ڈے میچ میں 6 وکٹوں سے شکست دےدی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker