انور عباس انورتازہ ترینکالم

بلاول بھٹو کی تقریر پرانی باتوں کا تسلسل

anwar abas logoکیا فرزند زالفقار علی بھٹو اور بے نظیر کا سیاسی مستقبل روشن ہے؟کیا وہ اپنے والد کی حکومت کے پانچ سالہ دور میں منہگائی اور کرپشن کی چکی میں پسے عوام کو اپنی طرف متوجہ کر نے میں کامیاب ہو سکیں گے؟کیا جو پاری کے کارکن ناراض ہیں انہیں منالیں گے؟یہ وہ سوالات ہیں جو آج ہر پاکستانی کی زبان پر ہیں۔سیاست میں نوجوان خون کی آمد قابل تحسین ہے کیونکہ اس ضلک کی باگ ڈور نوجوانون نسل نے ہی سنبھالنی ہے۔لیکن بلاول بھٹو زرداری نے اپنی تقریر کا محور و مرکز پیپلزپارٹی کی بلیم گیم کو ہی بنایا۔میرے سمیت بہت سے بھٹو خاندان( ممتاز بھٹو نہیں)کے خیر خواہوں کی طرح کا خیال تھا کہ جناب بلاول بھٹو زرداری اپنی والدہ شہید جمہوریت محترمہ بے نظیربھٹو کی برسی کے موقعہ پر اپنی عملی سیاست کا آغاز وہ اپنی پارٹی کے منشور کے علان سے کریں گے۔ اپنی خارجہ پالیسی کے خدو خال واضع کریں گے۔ امریکہ سے ڈرون حملوں کو بند کرنے اور پاکستانی حکومت کو ڈرون حملے روکنے کی ہداہت کریں گے۔ پارٹی کے شہید کارکنوں کی سرپرستی کا اعلان کریں اور اب تک حکومتی چشم پوشی پر انکی سرزش بھی کریں گے۔اگلے پانچ سالوں کے لیے اپنی پارٹی کی حکمت عملی بیان کریں گے۔۔۔لیکن افسوس صد افسوس محترم بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے ایسا نہیں کیا ۔اور انہوں نے الزامات کی روائتی سیاست کو ہی اپنایا۔میں سمجھتا ہوں کہ اس میں بھی بلاول بھٹو زرداری کی نسبت انکے اتربیت پر مامور نگرانوں کی غلطی ہے ۔اور اسکے زمہ دار بھی وہیں قرار دئیے جائیں گے ۔جو ان کی سیاسی تربیت پر مامور تھے۔ خیرمحترم بلاول بھٹو زرداری نے وہی کیا جو انہیں سیکھا یا گیا تھا ۔جس کی انہیں تعلیم دی گئی تھی۔ ان کا یہ کہنا کہ چیف. جسٹس صاحب کو راولپنڈی کی شاہراہوں پر بہا یا جانے والا خون کیوں دکھائی دیتا ؟۔۔۔انہیں ان کی عدالت میں سرد خانے میں پڑا بھٹو ریفرنس کیوں یاد نہیں ؟ انہیں صرف ہمارے خلاف کیس ہی کیوں نظر آتے ہیں۔؟بلاول بھٹو کو ایسا کہنے کی بجائے درخواست کرنی چاہئے تھیں۔کہ عزت ماب چیف جسٹس صاحب !مہربانی فرمائیے اور بھٹو ریفرنس کو بھی شرف سماعت فرما دیجئے اور اپنے ماتحت اور زیر کنٹرول عدالت میں زیر سماعت میری والدہ کے قتل کے مقدمے کی جلد سماعت کے احکامات فرمائیے۔اور اس کے ساتھ انہیں حکومت کے ارباب اختیار کو ہدایت کرنا انتہائی ضروری تھا ض کہ وہ بھٹو ریفرنس میں بابر اعوان کی جگہ دوسرا وکیل فوری مقرر کریں۔ پھر اگر بلاول چیف جسٹس سے شکو ہ شکایت کرتے تو اچھا ہوتا۔۔۔ یہ انداز خطابت ان کے اختیار کردہ طریقے سے کہیں زیادہ بہتر ہوتا۔جناب بلاول کی تقریر سے عوام کو مہنگائی اور کرپشن کے بوجھ سے نجات دلانے کے لیے کسی قسم کی حکمت عملی مفقود تھی۔ اور نہ ہی مستقبل کے لیے کوئی منصوبہ بندی کی نشاندہی۔۔۔بلاول کے استادوں کا فریضہ تھا کہ پیپلز پارٹی کے ناراض کارکنان کو راضی کرنے کی باتیں اور عوام کو اپنی جانب متوجہ کرنے کا مصالہ ان کی تقریر کا حصہ بنانے پر توجہ دینی چاہئے تھی۔اگر ڈرون حملوں کو روکنے اور مہنگائی کے طوفان کے راستے میں بند باندھنے کے احکامات جاری کرتے تو عوام کوئی امید لگا سکتے تھے ۔اسی طرح اگر محترم بلاول بجلی اور گیس کی بے رحم لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کا اعلان کرتے تو ان کی بلے بلے ہو جاتی۔۔۔اس اعلان کے بعد بھٹو اگر چند روز ہی سہی پیپکو کے کنٹرول روم میں بیٹھنے کے ساتھ ساتھ گیس کمپنیوں کے کان بھی کھینچتے تو پاکستانی سیاست میں ان کی آمدایک نئی جہت کا نکتہ آغاز ہوتا قرار پاتا۔۔۔ میرا خیال ہے کہ جناب بلاول کی سیاسی تربیت پر مامور شخصیات نے انہیں لازمی طور پر انہیں پاکستان کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورت حالسے آگاہ کیا ہوگا ۔ اور انہیں پاکستانی عوام کے سیاسی مزاج سے بھی روشناس کروایا ہوگا۔کیونکہ اس کے بغیر کامیابی ممکن ہی نہیں۔ پاکستان کے عوام جہاں مزاحمتی اور لڑائی جھگڑے کی سیاست سے بیزار ہو چکے ہیں۔وہاں وہ میاں شہباز شریف کی غیر شائستہ انداز گفتگو اور منہ زوری کی روش کو پسند نہیں کرتے ۔۔۔اسلیے بلاول بھٹو کی جانب سے اختیار کیے گے لب و لہجہ کو بھی شرف پسندیدگی عطا نہیں کریں گے۔لیکن جہاں تک سوال ہے جناب بلاول بھٹو زرداری کے روشن مستقبل کا تو وہ روشن ہی ہے کیونکہ بھٹو ز کو پاکستانی سیاست سے اوٹ کرنے کے خواب تو دیکھے جا سکتے ہیں ۔مگر ان خوابوں کی تعبیر ملنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا آسمان سے تارے توڑ کر لانا آسان ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی سیاست کا مرکز و محور ہی بھٹو ہے۔یہاں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جناب بلاول بھٹو کو ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے اور برداشت بھی کرنا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کو اس بات کو بھی مد نظر رکھنا ہو گا کہ پیپلز پاری کی سیاست کا دانحصار اب ان کے پر ہی ہے ۔کیونکہ پیپلز پارٹی میں ان کے علاوہ کوئی ایسی شخصیت نہیں ہے جو میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف سمیت دیگر سیاسی گروؤں کے مقابل انتخابی مہم چلا سکے۔اس لیے انہیں سوچ سمجھ کر اور پھونک پھونک کر قدم رکھنے ہوں گے۔کوئی زرا سی بھول چونک بھی ان کے راستے میں مشکلات کے پہاڑ کھڑے کر سکتی ہے۔اسکی وجہ یہ بھی ہے کہ ان کے عظیم دادا سے ایک چھوٹی سی غلطی ہوئی تھی غلطی بھی کیا انہوں نے سچی بات کہی تھی کہ ہاں میں تھوڑی سی پیتا ہوں249 مگر اس ظالم سماج نے اتنی سی بات کا وہ بتنگڑ بنایا کہ انہیں اقتدار کے ساتھ ساتھ شہادت کو بھی گلے لگانا پڑا۔ایک بات ان کے گوش گزار کرنا ہے کہ وہ اپنی پہلی فرصت می
ں اپنی اس پیپلز پارٹی کو زندہ کریں جس کے آپ چئیر مین ہیں۔یعنی جس پیپلز پارٹی کی بنیاد ان کے عظیم دادا شہید نے رکھی تھی کیونکہ آج کل جو پیپلز پارٹی برسراقتدار ہے اس کے چئیر مین مخدوم امین فہیم ہیں اور سکریٹری جنرل وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف ہیں۔پاکستان کے عوام کی جانب سے میں ان کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ وہ مہنگائی اور کرپشن کے علاوہ بجلی گیس کی لوڈ شیڈنگ سے نجات دلا دیں تو انہیں کوئی شکست نہیں دے پائے گا ۔بلکہ وہ ناقابل تسخیر بن کر ابھریں گے۔بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے اپنی تقریر میں کراچی میں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ سے چشم پوشی کرنے کو پاکستان کے عوام کی اکثریت نے پسند نہیں کیا۔انہیں چاہئے تحا کہ کراچی کے عوام سے خون کی ہولی کھیلنے والوں کی مز مت کرتے اور کراچی پولیس کے ارباب اختیار کے خلاف سخت نوٹس لیتے۔ اس کے باوجود کہ ان کی راہنمائی اور تربیت پر اعلی دماغ شخصیات مامور ہیں لیکن پھر بھی انہیں یہ صائب مشور ہے کہ انہوں سیاست کی جس پر خار وادی میں قدم رکھا ہے ۔ تو انہیں اپنے مخالفین پر تنقید کے نشتر برساتے ہوئے ان کے مقام و مرتبے کا خیال مقدم رکھنا ہوگا۔تنقید الفاظ کا انتخاب سوچ سمجھ کر کرنا ہوگا۔کیونکہ تنقید ی لب و لہجہ بھٹو خاندان کے ہم پلہ ہونا چاہئے۔ان کیزبان سے ادا ہونے والاہر جملہ قوم کی امنگوں کا ترجمان ہونا چاہئے اور ہر لفظ عوام کی امیدوں کی عکاسی کرتا ہو۔۔۔انہیں اس بات کا بھی دھیان رکھنا ہوگا کہ ان کی زبان سے ادا کیے جانے والی کسی بات سے کسی کی دل آزاری نہیں ہو گی۔اور سب سے اہمیت کی حامل یہ بات ہونی چاہئے کہ وہ اس پاکستان کے تحفظ249 استحکام اور اس کے عوام کے اتحاد اور یگانگت ان کا عزم و مشن اولین ترجیح ہونی چاہئے۔

یہ بھی پڑھیں  کامیابیوں کی ہیٹ ٹرک

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker