پاکستانتازہ ترین

میرے پنجاب کوکبھی دہشتگردوں کےیاروں تو کبھی آمریت کےپجاریوں کےحوالےکیاگیا،بلاول

لاہور (مانیٹرنگ سیل)  پیپلزپارٹی شریک چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کل بھی فوج کے ساتھ تھی اور آج بھی فوج کیساتھ ہے، میاں صاحب کو للکارتے ہوئے بلاول کا کہنا تھا کہ میاں صاحب! آپ کی کسان دشمن پالیسی کے باعث کسان رو رہا ہے، آپ کیسے حکمران ہیں، جس نے اس شہر کو کو دہشت گردوں کے یاروں کے حوالے کیا گیا، اور صرف اس پر ہی بس نہ ہوا، اس شہر کو آمریت کے پجاریوں کے حوالے بھی کیا گیا۔ ٹوئٹڑ پر گرجنے برسنے والی سرکار پنجاب کی حقیقی سیاست میں بھی گرجنے برسنے لگی، لاہور میں جیالوں سے جوشیلے خطاب میں ٹوئٹر والی سرکار نے نہ صرف حکمرانوں بلکہ اس کی پالیسیوں کو بھی خوب آڑے ہاتھوں لیا، پنجاب کے جیالوں کو جوش دلاتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میرے لئے آج خوشی کا دن ہے، میں آج پنجاب کے کارکنوں سے مخاطب ہوں، مگر اس شہر کے رہنے والوں سے انصاف نہ کیا گیا، کبھی اس شہر کو آمریت کے پجاریوں کے حوالے کیا گیا، تو کبھی اس شہر کو دہشت گردوں کے یاروں کے حوالے کیا گیا۔ بلاول کا کہنا تھا کہ یہ حکمران نہیں، جابر اور ظالم ہیں، ظالم حکمرانوں کی پالیسی عوام دشمن رہی ہے، حکمرانوں نے کسانوں اور مزدوروں سے جینے کا حق چھین لیا، بلاول نے میاں صاحب کو للکارتے ہوئے مخاطب کیا اور کہا کہ میاں صاحب! آپ کی کسان دشمن پالیسی کے باعث کسان رو رہا ہے۔ حکمراں جماعت  کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے بلاول کا کہنا تھا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو عوامی لیڈر تھیں، ان کے دور میں ٹیوب ویل پر بجلی کا ریٹ 8روپے یونٹ تھا،اور اب 18روپے ہوگیا، دنیا میں پیٹرول کی قیمت نیچے جا رہی ہے، مگر یہاں فائدہ عوام کو نہیں حکمرانوں کی جیبوں کو دیا جا رہا ہے، ود ہولڈنگ ٹیکس لاگو کرنے پر تاجر شٹر ڈاؤن کرنے پر مجبور ہیں، شہباز شریف کے وعدوں کو یاد کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ پاکستان کے کس علاقے کو آپ نے بجلی سے منور کیا ہے،؟ آپ نے تو وعدہ کیا تھا 6ماہ میں بجلی نہ آئے تو نام بدل دینا بتائیں شہباز شریف آپ کو کس نام سے پکاروں۔ ان کا کہنا تھا کہ قوم کے پیسے کو دوستوں اور رشتے داروں میں بانٹ دیا گیا، کہاں ہے نیب، کس کونے میں ہے نیب، میاں صاحب آپ نے قوم سے وعدہ کیا تھا اداروں کے سربراہاں میرٹ پر تعینات ہونگے، آج ملک کے اہم ادارے بغیر سربراہ کے کام کررہے ہیں، اسٹیل مل ورکرز کو تنخواہیں تک نہیں مل رہیں، کہا جا رہا ہے ضرب عضب اب شروع ہوا ہے، ضرب عضب تو 7سال پہلے شروع ہوا تھا،جب سوات میں آُپریشن ہوا، میں نے اس وقت بھی دہشت گردوں کو للکارا تھا جب سب مذاکرات کر رہے تھے، میں نے اس وقت بھی کہا تھا کہ دہشت گردوں سے خیر کی امید نہ رکھو، یہ پارٹی شہیدوں کی پارٹی ہے، پیپلز پارٹی کل بھی فوج کے ساتھ تھی اور آج بھی قدم سے قدم ملا کر فوج کیساتھ کھڑی ہے، ہم شہیدوں کے وارث ہیں، اور ہم پر ہی دہشت گردی کے الزام لگائے جا رہے ہیں۔ والد کا ذکر کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ آصف زرداری نے کہا جو کرنا ہے کرو، انتقام کی سیاست ختم کرو، جیالوں کو کہنا چاہتا ہوں،احمقوں کے پروپیگنڈا کا شکارنہ ہوں، پیپلزپارٹی کی سیاست اب بھی غریبوں کے ساتھ ہے، سرمایہ دارانہ، جاگیردارانہ نظام نہیں چلے گا، بلاول نے تقریر کے اختتام پر پھر نواز لیگ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے راستیں جدا کرنے کا عندیہ بھی دے ڈالا اور کہنے لگے کہ جو کسان اور مزدور کا دشمن ہے اس سے کوئی مفاہمت نہیں ہوسکتی اور جو کشمیر کی بات نہیں کرتا اس سے بھی کوئی مفاہمت نہیں ہوسکتی۔ تقریر کے اختتام پر بلاول بھٹو ایک دم چھلانگ لگا کر کارکنوں کے درمیان آگئے، اور کسی بھی پروٹوکول کو ملحوض خاطر رکھتے ہوئے کارکنوں میں گھل مل گئے اور سیلفیاں بھی بنوائیں۔ شریک چیئرمین کی آج ہونے والی تقریر کی گھن گرج اتنی تھی کہ ایک دم آندھی شروع ہوگئی اور تقریر کے دوران تیز آندھی کے باعث ٹینٹ اکھڑ گئے، ایک موقع پر تو بلاول کو تقریر روک کر مائیک بھی بند کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیں  پنجاب میں پانچویں روز بھی سی این جی اسٹیشز بند

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker