ایڈیٹر کے قلم سےتازہ ترینکالم

بلی تھیلے سے باہرآگئی

aqeeb1کراچی کا حلقہ این اے 246 میں ضمنی انتخابات کا چرچاکافی دنوں سے سنا جارہا تھا ۔ اس حلقے کوایسے اہمیت دی جارہی تھی جیسے یہ ایک سیٹ پرنہیں بلکہ پورے پاکستان میں الیکشن ہورہا ہے ۔ میڈیا پر ہرکوئی اس ضمنی الیکشن پر بات کرتا نظر آرہا تھا۔اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ جوڈیشنل کمیشن بن چکا ہے ۔اس حلقے میں دھونس دھاندلی کے چانس نہ ممکن تھے۔تحریک انصاف کی دھمکا خیز آمدنے اس ضمنی الیکشن کو اور پرکشش بنا دیا۔ اس حلقے میں حکومت کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن نے بھی کافی نظر رکھی ہوئی تھی تاکہ کوئی بھی پارٹی ناانصافی یا دھاندلی کا الزام نہ لگا سکے۔ تجزیہ نگار وں نے تو پہلے ہی اپنا تجزیہ لکھ دیا تھاکہ سیٹ کون جیتے گامگرایم کیو ایم کے باغی نبیل گبول کے بیان کے بعد لوگ یہ سمجھنے لگے کہ شاید نائن زیرو کے اس حلقے میں زبردستی ووٹ ڈالے جاتے ہیں۔ اسی لیے بہت سے لوگوں نے کہنا تھا کہ اس سیٹ پر اپ سیٹ بھی ہوسکتا ہے ۔
ایم کیو ایم کے خلاف صولت مرزا کے ویڈیوبیان نے پاکستان بھر میں ہلچل مچادی تودوسری طرف نبیل گبول متحدہ کو چھوڑ کر آزاد ہوگئے۔انہی کی خالی کی ہوئی نشست پرانتخاب ہوا۔اس حلقے کے متعلق نبیل گبول نے بیان دیا تھاکہ مجھے اس حلقے میں کمپیین تک چلانے کی ضرورت نہیں پڑی، اپنے آپ ووٹ مل گئے۔
کراچی میں اس وقت بھتہ مافیہ، ٹارگٹ کلینگ اور دہشت گردی کے خلاف آپریشن جاری ہے اوراس میں زیادہ تر لوگ ایم کیو ایم کے زیرعتاب آئے ہوئے ہیں۔ پاکستان کی سیاست میں ہلچل مچانے والی جماعت تحریک انصاف نے سب سے پہلے اس حلقے میں جاکر کھڑاک کیا۔ جس کے بعد ایم کیوایم اور پی ٹی آئی میں ٹھن گئی۔ دونوں پارٹیوں کے کارکن ایک دوسرے کے آمنے سامنے بھی کھڑے ہوئے مگر بالغ نظرکی وجہ سے کسی بڑے تصادم سے بچ گئے۔
اس حلقے پر اگر نظر دوڑائی جائے تویہ حلقہ متحدہ قومی موومنٹ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کا ہیڈ کوارٹر 90 بھی اسی حلقے میں واقع ہے۔ 1997کے الیکشن تک یہ حلقہ این اے 187کہلاتا تھا ۔2002 میں ملک بھر میں نئی حلقہ بندیاں کی گئی جس کے نتیجے میں کراچی سے قومی اسمبلی میں نشستوں کی تعداد 13سے بڑھ کر 20 ہوگئی اور این اے 187 اور این اے 188کے کچھ علاقے مل کر این اے 246 کہلائے۔موجودہ این اے 246 کا زیادہ ترعلاقہ سابقہ این اے 187 پر مشتمل ہے جس میں عزیزآباد،کریم آباد بھی شامل ہے۔
ایم کیو ایم 1988 سے 1997 تک منعقد ہونے والے چارانتخابات میں سے تین میں فاتح رہی ہے 1993 کے انتخابات میں ایم کیو ایم نے بائیکاٹ کیا تھا جبکہ 2002، 2008 اور 2013 میں ہونے والے انتخابات میں ایم کیوایم مسلسل فاتح رہی ہے۔
پیپلزپارٹی چھوڑ کرمتحدہ قومی موومنٹ میں شمولیت اختیار کرنے والے سردار نبیل گبول کے استعفے کے باعث یہ نشست خالی ہوگئی اور اس پر ضمنی انتخابات کا انعقاد کرایاگیا۔ ضمنی انتخابات کے نمایاں امیدواروں متحدہ قومی موومنٹ کے کنورنوید جمیل، تحریک انصاف کے عمران اسمعیل اور جماعت اسلامی کے راشد نسیم ایک دوسرے کے مد مقابل تھے۔ان کے علاوہ کچھ آزاد امیدوار بھی میدان میں تھے مگر اصل مقابلہ بظاہر ان تینوں امیدواروں کے درمیان ہی تھا۔ہمارے تجزیے کے مطابق یہ سیٹ ایم کیوایم ہی جیتے گی مگر بہت سے دوستوں نے مجھ سے اتفاق نہیں کیا کیونکہ وہ سمجھ رہے تھے کہ ایم کیوایم کااس وقت براوقت چل رہا ہے اور اس حلقے کی عوام شاید متحدہ کا ساتھ چھوڑ کر پی ٹی آئی یا جماعت اسلامی کا ساتھ دے گی۔ سوچنے کی بات ہے کہ خیبر پختونخواہ کے اتحادی کراچی میں ایک دوسرے کے مدمقابل کیوں کھڑے ہیں؟ اگر سیاسی بصیرت کا مظاہر ہ کرتے تو کوئی ایک سی پارٹی اپنا امیدوار دستبردار کراکے ایم کیو ایم کو ٹف ٹائم دی سکتی تھی مگران سیاستدانوں کی انا کی لکیر کو ختم کون کرتا؟
جیسے توقع کی جارہی تھی رزلٹ بھی اس طرح کا آیا اور کامیابی نے ایم کیو ایم کے قدم چومے۔ایم کیو ایم کا امیدوارپچانوے ہزار سے زائد ووٹ لیکر کامیاب ہو گیا اور تحریک انصاف نے بھی کافی محنت کی اور وہ بھی تقریباً پچیس ہزار ووٹ لے گئی البتہ جماعت اسلامی کو اپنی پوزیشن کا ضرور علم ہوگیا ہوگا کیونکہ ان کا امیدوار بہت عرصہ سے اس حلقے سے الیکشن لڑ رہا تھا مگر ووٹ وہ دس ہزار تک بھی نہ لے سکا۔جیت بے شک ایم کیو ایم کی ہوئی ہے مگر ایک بات قابل غور ہے کہ اس حلقے سے نبیل گبول ایک لاکھ آٹھ ہزار ووٹ لیکر کامیاب ہوئے مگر اس بارایم کیوایم کو اتنے کم ووٹ کیوں ملے؟ اس ضمنی الیکشن پردھاندلی کا الزام بھی نہیں لگایا جاسکتا کیونکہ جیسے ان امیدواروں نے کہا اس طرح سے اس الیکشن کو کروایا گیا۔ اگر اب بھی کسی کو دھاندلی کا رونا رونا ہے تو وہ پھر اس کی مرضی ہے۔
اس الیکشن کے بعد سب سیاسی جماعتوں کی نظر کنٹونمنٹ بورڈ پر جمی ہوئی تھیں۔ رہی سہی کسر اب کنٹو نمنٹ بورڈ انتخابات نے واضح کردی۔غیرحتمی اور غیرسرکاری نتائج کے مطابق ملک بھر کے42کنٹونمنٹ بورڈزکی 199 نشستوں میں مسلم لیگ ن چھا گئی۔ حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے امیدواروں نے67نشستوں پر واضح برتری حاصل کی، صوبہ خیبرپختونخواکی حکمران جماعت تحریک انصاف 43نشستیں اپنے نام کرسکی،ایم کیو ایم نے19سیٹوں پر کامیابی حاصل کی جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی صرف 7نشستیں لینے میں کامیاب ہوئی۔جماعت اسلامی کے حصے میں6ا سیٹیںآئیں جبکہ عوامی نیشنل پارٹی 2سیٹیں جیتنے میں کامیاب رہی۔55نشستیں آزاد امیدواروں نے جیت لیں۔
اس الیکشن کے بعد ہر جماعت کی بلی تھیلے سے باہر آگئی اور سب کو معلوم ہوگیا کہ ان کی عوام میں کتنی قدر ہے ،عوام کس پارٹی کو کتنا چاہتی ہے۔ لیکن اب ان جیتنے والوں کو بھی چاہیے کہ وہ عوام کے لیے کچھ کریں ۔

یہ بھی پڑھیں  فواد چودھری کا 400 محکمے ختم کرنے کا بیان درست نہیں: کابینہ ڈویژن

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker