پاکستانتازہ ترین

میری ماں کے قتل کےپرویز مشرف ذمہ دارہیں، بلاول بھٹو

واشنگٹن﴿نمائندہ خصوصی﴾ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ امریکی سینٹ پینل کی جانب سے پاکستان کی امداد میں 33 ملین ڈالر کی کمی کے اقدام سے پاکستان اور امریکہ کے مابین تعلقات کی بحالی میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہوگئی ہیں۔ واشنگٹن میں امریکی پاکستانی اہلکاروں‘ صحافیوں اور ماہرین کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ ایک ایسے وقت میں واشنگٹن آئے ہیں جب پاکستان اور امریکہ کے باہمی تعلقات تاریخ میں کمزور ترین سطح پر ہیں لیکن جنوبی اور وسطی اشیائ میں استحکام کیلئے ضروری ہے کہ پاکستان اور امریکہ سیاسی اور فوجی تعلقات کو بحال کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایک بحران دوسرے بحران کو مزید پیچیدہ کررہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاک امریکہ تعلقات میں دراڑیں ریمنڈ ڈیوس کے واقعہ سے شروع ہوئیں۔ بعدازاں پاکستان کی خودمختاری اور سالمیت کو نظرانداز کرتے ہوئے اسامہ بن لادن کے کمپائونڈ پر حملے اور سلالہ چیک پوسٹ کے واقعہ اور اس پر امریکہ کے معافی نہ مانگنے سے تعلقات مزید پیچیدہ ہوگئے جبکہ حال ہی میں ڈاکٹر آفریدی کی سزا پر امریکی ردعمل سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہو۔ دریں اثنائ امریکی ٹی وی پی بی ایس کو انٹرویو دیتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے یقین ظاہر کیا ہے کہ پاکستان اور امریکہ باہمی اختلافاف خوش اسلوبی سے دور کریںگے۔ سابق ڈکٹیٹر پرویزمشرف کو ہی ماں کے قتل کا ذمہ دار سمجھتاہوں۔ ان کاکہنا تھا کہ پاکستان اور امریکہ کو ایک دوسرے کے مؤقف اور احساسات کو سمجھنا چاہئے باہمی تعاون سے دوطرفہ تعلقات کو بہتر بناسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں عدلیہ مکمل آزاد ہے۔ ہمارا اس پر کوئی کنٹرول نہیں۔ اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کے بارے میں کسی کو معلوم نہیں۔ ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ میں تمام حقائق سامنے آجائیں گے۔ پاکستان اپنے تمام ہمسایہ ممالک سے بہتر تعلقات کا خواہاں ہے۔ پاکستان افغانستان میں امن واستحکام چاہتا ہے اور مفاہمتی عمل کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف کو اپنی ماں کے قتل کا ذمہ دار سمجھتا ہوں۔ پرویز مشرف کو حملے کے بارے میں پہلے سے معلوم تھا۔ انہوں نے میری ماں کی سیکورٹی کو سبوتاژ کیا۔ میری ماں کے قتل کے احکامات القاعدہ نے جاری کئے اور طالبان نے حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کو سزا درست ہے۔ عام شہری کو غیرملکی ایجنسی کے ساتھ اپنے ملک کے بارے میں معلومات دینا غیرقانونی ہے

یہ بھی پڑھیں  اُڑتے پنچھی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker