تازہ ترینصابرمغلکالم

پاکستان کوبلیک لسٹ میں شامل کرانے کی بھارتی سازش ناکام

ایف اے ٹی ایف کے تین روز ورچوئل اجلاس میں بھارتی عزائم ایک بار خاک میں مل گئے،فیٹف نے پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کرانے کی خواہش شرمندہ کر دی،اس فیصلے کا اعلان جرمنی سے تعلق رکھنے والے موجودہ صدرمارکس پلئیرنے ورچوئل پریس کانفرنس کے دوران ہی کیا،منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی امداد کی روک تھام کے عالمی ادارے فناشنل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو بدستور گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیسلہ کرتے ہوئے آئندہ اجلاس فروری2020تک ملتوی کر دیا تاہم اب بھارتی مذموم عزائم خاک میں مل گئے جس کی بھرپور کوشش اور لابنگ تھی کہ پاکستان کو کسی نہ کسی طرح بلیک لسٹ میں شامل کیا جائے،فیٹف صدر کے مطابق پاکستان کو27سفارشات کی ہدایت کی گئی تھی تاہم پاکستان نے 21پر مکمل عمل کرتے ہوئے ثابت کیا کہ وہ عالمی قوانین پر کام کرنے میں انتہائی سنجیدہ ہے تاہم مزید 6اقدامات کرنے کی بھی ضرورت ہے،یہ اجلاس تین روز تک جاری رہا اور جمعہ کو ختم ہوا،کورونا وائرس کی وجہ سے یہ اجلاس آن لائن منعقد کیا گیا،بتایا گیا کہ مکمل سفارشات تک پاکستان کی درجہ بندی تبدیل نہیں ہو سکتی،تاہم اب بلیک لسٹ میں شامل ہونے کے تمام خدشات دم توڑ چکے ہیں،توقع ہے کہ پاکستان کی مزید بہترین کوششوں سے پاکستان گرے لسٹ سے بھی نکل جائے گا کیونکہ کئے گئے اقدامات کی وجہ سے اب یہ راہ ہموار ہو چکی ہے،فیٹف نے تسلیم کیا کہ اب پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈالنے کا معاملہ زیر غور نہیں،واشنگٹن کے وڈرورلسن سینئر مین اور جنوبی ایشیا کے اسکالر مائیکل کلیگیلمن نے بھی وضاحت کی اب پاکستان کو کبھی بھی بلیک لسٹ میں نہیں ڈالا جائے گا،فیٹف کے صدر نے پریس کانفرنس میں کہاپاکستان سے کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جا رہا پاکستان نے متاثر کن اقدامات کئے ہیں پاکستان کو مزید کارکردگی کا موقع نہ دینا نا انصافی ہو گی،عالمی سطع پر یہ پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہے جس سے اس کی ساکھ بہترین انداز میں دنیاکے سامنے آئی،پاکستان نے دہشت گردوں کی مالی معاونت،منی لانڈرنگ روکنے کے لئے ہر سطع پر اتھائے اقدامات کا اعتراف دنیا کرتی ہے،پاکستان نے FATFکی سفارشات پر حوالہ ہنڈی،کرنسی بارڈر رحیم،دہشت گردوں کے خلاف مالی معاونت کے مقدموں میں عالمی تعاون،دہشت گردی کے قانون میں ترمیم،مالی اداروں کی جانب سے مخصوص مالیاتی پابندیوں کا نفاذ،اے ایم ایل کی خلاف ورزیوں پر پابندیاں عائد کرنے،نامزد اور اداروں کے ذریعہ کنٹرول کردہ سہولیات اور خدمات شامل ہیں،وزیر صنعت حماد اظہر نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان نے فیٹف کے ایکشن پلان پر متاثر کن پیش رفت کی انہوں نے وزیر اعظم،وفاقی و صوبائی وزراء سمیت پوری قوم کو مبارک باد دی،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ باقی 6اقدامات پر بھی کام کر رہے ہیں،ہماری کوشش ہے کہ پاکستان گرے لسٹ سے بھی نکل جائے،انڈیا اور اس کے اتحادیوں کی بھرپور کوشش رہی کہ کسی نہ کسی طرح پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کرایا جائے،وہ بری طرح ناکام ہوئے ہم نے جو اقدامات کئے ان کی مثال ماضی قریب میں نہیں ملتی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے معاملات کو جانچنے پر حکومت اور پارلیمان بہترین قانون سازی کی اور مزید کرنے جا رہی ہے،شاہ محمود قریشی نے 28جولائی کو انکشاف کیا تھا کہ اپوزیشن ایف اے ٹی ایف پر قانون سازی کے ذریعے نیب قوانین میں تبدیلی شرائط رکھی ہیں اگر پوزیشن کی تجویز کردہ شرائط مطابق34نیب ترامیم پر عمل کیا جاتا تواحتساب کا عمل ہی ختم ہو جاتا بلکہ قانون ہی باقی نہ رہتا،حفیظ شیخ نے بھی کہا تھا کہ ہم گرے لسٹ سے باہر نکلنے والے اقدامات کو یقینی بنا رہے ہیں،گورنر سٹیٹ بینک رضا باقر نے بھی بتایا تھا کہ پاکستان اس فہرست سے نکلنے پر نمایاں کارکردگی دکھائی ہے،شہزاد اکبر کے مطابق پاکستان کے گرے لسٹ میں شامل ہونے کے دو اسباب ہیں جعلی اکاؤنٹس اور شریف خاندان کی کرپشن، پاکستان کو جون2018میں شامل کرتے ہوئے ضروری اقدامات کے لئے اکتوبر2019کا وقت دیا تھابعد میں 4ماہ مزید ملے،فروری میں پاکستان نے27میں سے 14اقدامات پر عمل کر لی تاہم 21سے23اکتوبر کو فیٹف کی طرف سے منی لانڈرنگ کا جائزہ لینے والی سیفک رپورٹ کا جائزہ لیا گیاتاہم کورونا وبا کے باعث پاکستان کو مزید 5ماہ کاوقت مل گیا،پاکستان نے گرے لسٹ سے نکلنے کے لئے اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت سے متعلق قوانین میں ترمیم پر 8بل بنائے اس قانون سازی پر اتفاق رائے کے لئے حکومت اور اپوزیشن کے 36ارکان پارلیمان پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی گئی،حکومت اپوزیشن کی مدد سے اب تک8میں سے6ترمیمی مل پاس کروا چکی ہے،اس دوران پاکستان نے 8افراد پر پابندیوں کا اعلان کیا جن کا تعلق شدت پسند تنظیموں تھاان شدت پسند تنطیموں میں نام نہاد دولت اسلامیہ،القاعدہ اور تحریک طالبان جیسی تنظیمیں شامل تھیں،کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے حافط سعید ان کے ساتھیوں کو بھی رواں سال سزا سنائی گئی،اب تک ترکی،ملائشیا اور چین نے پاکستان کی حمایت میں سب سے زیادہ اور قابل تحسین کردار ادا کیا،ایک اجلاس میں امریکہ نے سعودی عرب کو سپاکستان کے حق میں اپنا ووٹ واپس لینے پر قائل کر لیا اس وقت پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنے کے لئے سعودی عرب کے فیصلہ کن ووٹ کی ضرورت تھی اگر سعودی عرب اس وقت اپنا ووٹ پاکستان کے حق میں دے دیتا توپاکستان کب کا گرے لسٹ سے باہر نکل چکا ہوتا جو بہت بڑی کامیابی ہوتی،پاکستان کے علاوہ اس وقت ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں پاکستان کے علاوہ البانیہ،جمیکا،برادوس،بہاماس،بوٹسوانا،کمبوڈیا،گھانا،آئی لینڈ،میودی نیور،میانمار،نانکاراگوا،پانامہ سائبیریا،یوگنڈا،یمن اور زمبابوے بھی شامل ہیں،بلیک لسٹ میں شامل آئس لینڈ اور منگولیا کو نکال دیا گیا جبکہ شمالی کوریا اور ایران وہ ممالک ہیں جو ابھی تک دنیا بھر میں سے بلیک لسٹ میں شامل ہیں،1989میں G7ممالک امریکا،برطانیہ،فرانس،کینیڈا،جرمنی،اٹلی اور جاپان نے FATFقائم کی جس کا فرانس کے دارحکومت پیرس میں آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ دویلپمنٹ کی عمارت دفتر قائم ہے، اس وقت اس بین الحکومتی ادارے کے ممبران کی تعداد37تک ہو چکی ہے،پاکستان اس کا ممبر نہیں البتہ پاکستان اس گروپ سے وابستہ ایشیا پیسفک گروپ کا حصہ ہے،ایف اے ٹی ایف کی براہ راست یا بلا واسطہ وسعت180ممالک تک ہے،اس ادارے کا بنیادی مقصد بین الاقوامی مالیاتی نظام کو دہشت گردی،کالے دھن کو سفید کرنے اور اس قسم کے دوسرے خطرات سے دنیا کو محفوظ رکھنا ہے۔گرے لسٹ میں موجود ممالک پر عالمی سطع پر مختلف نوعیت کی معاشی پابندیاں لگ سکتی ہیں جبکہ عالمی اداروں کی جانب سے قرضوں کی فراہمی کا سلسلہ بھی اس بنا پر روکا جا سکتا ہے،پاکستان گرے لسٹ میں شامل واحد ایٹمی مملکت ہے اور جتنا شکار دہشت گردی کا پاکستان ہوا کوئی اورملک نہیں دوسری جانب پاکستان اس حو الے سے بھی واحد ملک ہے جس نے مسلط کی گئی دنیا کی بد ترین دہشت گردی کو شکست دی،پاکستان کی ترقی دنیا بھر کے ممالک کی آنکھ میں جھبتی ہے مگر اس کے خلاف دشمنوں کے تمام ترعزائم خاک کی نذر ہو جائیں گے،

یہ بھی پڑھیں  ٹیکسلا:آمریت کی پیداوار حکومت عوام کے بنیادی حقوق غصب کر رہی ہے، محمد صدیق خان

a

یہ بھی پڑھیے :

What is your opinion on this news?

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker