تازہ ترینکالممقصود انجم کمبوہ

بحرا نوں،احتجاجوں اور عذابوں کا دیس

یہ قو می امید تھی کہ سا بق صدر جنرل پر و یز مشر ف کے اقتدار سے چلے جا نے کے بعد چمن میں جمہو ری بہا ر آئے گی ہر سو جمہو ریت کے رنگا رنگ پھول کھلیں گے چمن ان پھولوں کی خشبو سے مہک ا ٹھے گا۔زرد چہر ے سر خ و سفید ہو جائیں گے۔ظلم و جبر کا با ب ہمیشہ کے لیے بند ہو جا ئے گا یکجہتی کو فر وغ حاصل ہو گا مہنگائی اور بے روز گاری کو دیس نکا لا مل جائے گا ،انصاف کا دور دورہ ہو گا ۔خد ما تی ادارے تر قی و خو شحالی کی راہ پر گامزان ہو جا ئیں گے۔کر پشن اور بد عنو انی کے سیا ہ ہا تھی کو لگام دے دی جا ئے گی۔سر کاری و نیم سر کا ری اداروں سے کالی بھیڑوں اور بھیڑ یوں سے نجات مل جا ئے گی۔ آئینی اداروں میں اصلا حاتی نظا م فرو غ پز یر ہو گا،دہشت گر دی کا دیو اپنی مو ت آپ مر جائے گا۔لیکن افسوس صد افسوس کہ معاملہ پہلے سے بھی گھمبیر ہو چکا ہے۔اب وہی انقلابی وکلاء،سیا ستدان اور عدا لتی اہلکار ما یو سی کے عالم میں چور اپنے آپ کو کوستے نظر آ ر ہے ہیں اور مشر ف کو نہ سہی اس کے دور کے بعض عوا می اقدا مت کو دبے دبے لفظوں میں سر اہتے ہیں۔را قم نے پر و یز مشر ف کے کٹر دشمن کی زبان سے بھی یہ الفاظ سنے ہیں کہ آ صف علی زرداری پر و یز مشر ف سے بھی بد تر ہے۔بلکہ یہا ں تک کہ متحر مہ بے نظیر بھٹو شہید کے جیا لو ں نے بھی کہنا شر و ع کر دیاہے۔ کہ متحر مہ بے نظیر بھٹو صا حبہ آج ا گر زندہ ہو تی تو ملک عز یزاس حالت کو نہ پہنچتا یہاں آ صف علی زرداری نے پہنچا دیا ہے۔بعض جیا لوں کو جذبا تی ہو کر بھی یہ کہتے ہو ئے سنا ہے کہ مو جو دہ حکو مت سے فو جی آ مر یت ہی بہتر تھی جس میں اتنی مہنگائی بے روز گا ری اور انتشا ر نہیں تھا۔
یہ سچی حقیقت ہے کہ ملک عزیز کو آج جن بحرا نوں اور عذا بوں کا سامنا ہے اس میں ا ضا فہ کے لیے اپو ز یشن کا کر دار ا نتہائی ظا لما نہ رہا۔چہ جا ئیکہ اپو ز یشن ملک عز یز کو بحرا نوں اور عذا بوں سے نجات دلا نے کے لیے حکو مت وقت سے کو ئی جا معہ تعا ون کی پا لیسی اختیا ر کر تی اس کو مز ید مخدوش بنا نے کی جسا رت کر رہی ہے تا کہ ملک عز یز صد یوں پیچھے چلا جا ئے۔ابھی بھی ہم و ہی کچھ کر ر ہے ہے جو ما ضی میں کر تے آئے ہیں۔ذوالفقا ر علی بھٹو کے اقتدار کی بساط لیپیٹ کر ہم نے جمہو ر یت کی گا ڑی کے ٹا ئر پنکچر کر کے سکھ نہیں پا یا۔
آج ہم ا نتہا ئی گھمبیر صو ر تحا ل سے دو چا ر ہیں دشمن ہما ری دہلیز پر پہنچ کر ہما ری گر د نیں دبو چنے لگے ہیں اور ہم ا یک دو سر ے کی ٹا نگیں کھینچنے کی کو ششوں میں مصر وف ہیں پہلے پہل لو کل و مہا جر کا جھگڑا تھا ۔پھر شعیہ اور سنی کے تفر قے نے جنم لیا چلتے چلتے دیو بند اور شعیہ ایک دو سر ے کے خو ن کے پیا سے بن گئے۔اب حا لت لسا نی تفر قا ت و تنا زعا ت تک جا پہنچی ہے۔
حا لا ت روز بروز بگڑ تے جا رہے ہیں جبکہ ہما رے علماء کر ام ،سیا ستدان اور دانشوردانتوں تلے ا نگلیا ں لیے سو چ و بچا ر کے بخا ر میں مبتلا ہیں۔ٹی وی چینلوں پر غدر مچا ہو ا ہے۔عوام ان کی تو تکا ر سن سن کر تنگ آ چکے ہیں۔ سچ جا ننیے تو ٹی وی چینیلوں پر ہو نے وا لی آہ و بقا سے ملک عز یز کوایک رائی کا بھی فا ئدہ نہیں پہنچ رہا بلکہ دنیا ہم پر ہنس رہی ہے اور سیا سی فضا کو مزید مکدر بنا یا جا رہا ہے۔۔سیا ستدان،علماء اور دا نشور ٹی وی چینلوں پر جتنی سیر حا صل بحث کر تے ہیں ا گر وہ ملکی یکجہتی اور بھائی چا رے کے فر وغ کے لیے حکو مت وقت کو ایک میز پر لا نے کی سعی و کو شش کر یں تو کوئی نہ کو ئی مثبت نتیجہ بر آمد ہوسکتا ہے۔لیکن صد افسوس کہ ہم ا یسا لائحہ عمل تیا ر کر نے میں نا کا م نظر آ تے ہیں حکو مت وقت بھی اپنی نا کا می کے زخم چا ٹ رہی ہے۔حالا نکہ صدر آصف علی زرداری اور وزیر ا عظم یو سف رضا گیلا نی کو چا ہیے تھا کہ وہ ایک ایسی گو ل میز کا نفرس کا اہتمام کر تے جس میں ہر مکتبہ فکر کی اہم شخصیا ت کو دعو ت دیتے۔اور مو جو دہ گھمبیر مسا ئل اور مشکلا ت کی بیخ کنی کے لیے کوئی ہمہ گیر پالیسیاں مرتب کرتے لیکن وہ بھی مخبوط الحواسی کا شکارہیں۔اس پر مستزاد یہ کہ اپوزیشن کے بڑے لیڈر میاں نواز شریف بھی تضادات کا شکار ہیں۔ان کی زبان سے بھی کوئی اچھی بات نہیں نکل پاتی۔حالات جس نہج کو پہنچ چکے ہیں لگتا ہے دشمن کو جنگ کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی ہم خود ہی بکھر جائیں گے۔اور دشمنوں پر لگا ئے جا نے والے الزامات کو ہم خود ہی سچ ثا بت کر دکھائیں گے۔ایٹم بم بھی ہمارا تحفظ نہیں کر پائے گا۔ان حالات میں ہماری مدد کو فرشتے بھی نہیں آئیں گے۔کیونکہ ہم اسلامی ملک کے شہری تو ہیں لیکن اسلام سے ہماراذرا بربھی واسطہ نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں  حیدرآباد: عدلیہ اپناکام کرے،سیاستدانوں کواپناکام کرنےدے،بلاول بھٹو

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker