تازہ ترینکالممحمد شفقت اللہ خان سیال

بولواس کالم کوکیانام دو

shafqatمیں اپنے دوست مدثراسماعیل بھٹی کے ہمراہ شاہ جیونہ اپنے دوست کے پاس گیا اس نے ہم کو دعوت دے رکھی تھی جب ہم وہاں پہنچے تو اس نے ہماری بڑی عزت کی اور ہم کو اپنے ساتھ اپنے ڈیرے پر لیے گیا وہاں اسے نے ہم کو کھانا کھلایا۔اور پھر ہم لوگ باتوں میں مصروف ہوگئے میں نے اپنے دوست سے اجازت لی اور اپنے گھر کو چل پڑئے۔کچھ دور جانے کے بعد ہماری گاری پینچر ہوگئی تو میرے دوست مدثر نے اپنے دوست کو کال کی تو وہ کچھ دیر کے بعد اپنے بیٹے اور بھانجے کے ہمراہ گاڑی پر آگیا ۔ اس نے ہم کو پانی پی لایا اور پھر گاڑی کو لے جا کر اڈئے پر سے ٹھیک کروا کر اس دوست سے اجازت لی جو بار بار اصرار کر رہا تھا کہ آج رات میرے پاس رہے جاؤ ۔ہم نے اس سے اجازت لی اور گھر کو نکل پڑے ۔اور خدا کا شکر ادا کیا اور اس اللہ کے نیک بندے کے لیے دل سے دعا نکل رہی تھی کہ آج بھی ایسے لوگ اس دنیا میں ہے جو ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور بھائی چارہ رکھتے ہیں ورنہ آج کے اس دور میں وہ بندہ کہا سکتا تھا کہ میں مصروف ہو میں نہیں آسکتا یا میں گھر نہیں ہو ں وغیرہ وغیرہ لیکن وہ اللہ کا بندہ آیا ۔اس کا یہ بھی احسان ہے لیکن آج کے اس نفسا نفسی کے دور میں کوئی کسی کا نہیں ۔لیکن بزرگ درست فرماتے ہے کہ ابھی اس دنیا میں اللہ کے نیک بندوں کی کوئی کمی نہیں جن کی وجہ سے ابھی بھی بھائی چارئے کی فیزا برقرار ہے آج کے اس دور میں جہاں کرپشن۔لوٹ مار۔چوری۔ڈکیتی۔راہ زانی اور جہاں حوا کی بیٹیوں کی عزت شرے عام نیلام ہو رہی ہے سکول جانے والے طالب علم سے لیکر غریب مزدور تک جو گھر سے سبزی ۔وغیرہ یا بچوں کا دودھ لینے جاتے ہے باہر جا کر پرچی جوا والوں کے پاس ڈیرہ ڈال لیتے ہیں اور ان کو نہیں معلوم کہ انہوں نے گھر کب لوٹ کر جانا ہے ان کے گھر والے اس انتظار میں ہوتے ہیں کہ وہ سبزی لیے کر آئے گا تو تو کھانا کھائے گئے ۔مگر ان کو کیا معلوم اس نے سبزی کے پیسوں کی پرچیاں لیکر جوا کھیل لیا اور ہار گیا ۔اور کئی اس انتظار میں ہوتے ہیں کہ چھوٹے چھوٹے بچے بھوک سے رو رہے ہوتے ہے اور ان کی ماں ان کو چپ کروا رہی ہوتی ہے اور بول رہی ہوتی ہے کہ ابھی دودھ لیکر آتے ہے تو آپ کو دودھ دیتی ہوں ۔جبکہ دودھ لیکر آنے والے نے تو دودھ کے پیسوں کی پرچیاں لیکر جوا کھیل ڈالا۔نہ جانے یہ لعنت ہمارے معاشرے میں کہا سے آگئی ۔او اللہ کے بندوں ہم مسلمان ہے جوا کی اجازت ہمارا مذہب اسلام نہیں دیتا ۔یہاں چند روپوں سے اس لیے جوا کھیلتے ہیں کہ ان کا بہت بڑا انعام نکل آئے گا مگر نہ جانے کتنے اسے لوگ جو ابھی ایسی امید پر ہے جو سارا دن مزدوری کرتے ہیں اور شام کو اپنی حلال کی کمائی حرام کی راہ پر لگا دیتے ہے سارا دن کی مزدوری کی رقم سے جوا میں لگا کر ہار جاتے ہے اور منہ اٹھا کر گھر کو چل پڑتے ہیں گھر میں داخل ہوتے ہی اس کے بچے بھاگ کر اس کو لیپٹ جاتے ہیں کہ ابو جان آ گے اورپھر وہ اپنے باپ سے سوال کرتے ہیں کہ ابو جان چیز لے دو ۔ابو پیسے دو مگر اس کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا اس کی بیوی کہتی ہے کہ گھر کا سامان لے دو گھر میں کچھ بھی نہیں کھانے پینے کو ۔مگر اس کا منہ لٹکا ہوا ہوتا ہے ایک تو سارا دن مزدوری کی شام کو سارے پیسے جوا میں لگا کر گھر آگیا اور کسی کو بھی کوئی جواب نہیں دیئے رہا تو اس کی بیوی بولی خدا کے لیے کچھ لیے کر آؤ گھر میں کھانے کو کچھ بھی نہیں تو وہ اٹھ کر اپنے محلے والی دوکان پر جاتا ہے وہاں سے ادھار سامان لاکر اپنے بیوی بچوں کو دیتا ہے اس کی بیوی بولی او خدا کے بندے تو سارا دن مزدوری کرتا ہے اور شام کو اپنی حلال کی کمائی سے جوا کھیل دیتا ہے چھوڑ دے ایسے برے کام ۔اور وہ منہ لٹکائے کہتا ہے کہ میں تم لوگو ں کے لیے ہی کر رہا ہوں ۔مگر ہماری قسمت ہی خراب ہے تو اس کی بیوی جو کہ اللہ کی نیک بندی بولی مزدوری کیا کرو اور اللہ سے مانگ وہ تم کو ضرور دیئے گا ۔اب جہاں بھی دیکھوں آپ کو پرچی جوا والے ٹی وی جوا گیم والے ہر جگہ نظر آئے گئے ۔او نام کے مسلمانوں تم اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو لوٹ رہے ہو کچھ تو خدا کا خوف کرو آخر ایک دن مرنا ہے اور اس وقت اپنے رب کے پاس لوٹ کرجانا ہے تو اس وقت کس منہ سے اس کے پاس تم جاؤ گئے اور اپنے رب کو کیا جواب دوگئے۔آج اگر ہمارئے ملک کا قانون سختی کرنا شروع کردیئے تو پرچی مافیا آپ کو کسی جگہ نظر نہیں آئے گا مگر۔۔۔۔۔۔اب یہ تو ایک کاروبار لوگوں نے بنا لیا ہوا ہے اپنے کی بھائیوں کو لوٹنا ۔یہاں افسوس کے علاوہ کچھ نہیں سکتا ۔ایک اور کچھ لوگوں نے کاروبار شروع کیا ہوا ہے جو نجانے درست ہے کہ نہیں یہ آپ لوگ فیصلہ کرئے کہ آپ پی ٹی سی ایل سے نیٹ لگواتے ہیں تو تقریبا 16سے17روپے ماہوار بل آتا ہے اور جبکہ اور لوگ پی ٹی سی ایل سے نیٹ لیے کر آگے سیل کر رہے ہیں وہ عوام سے 500روپے ماہوار کنکشن دیئے رہے ہیں اس کے بارے معلوم کرنے کے لیے پی ٹی سی ایل کے آفس گئے ۔وہاں پر بیٹھے ہوئے لوگوں سے انچارج کے بارے پوچھا تو انہوں نے کہا ابھی آ جاتے ہے ان کے کمرئے میں ان کی جگہ کوئی اور آدمی بیٹھا ہوا تھا تو ان سے موبائل پر رابطہ کیا تو انہوں نے کہا میں ابھی آرہا ہوں آپ باہر بیٹھوں ۔توفون بند ہونے کے بعد میں ان کے کمرے سے باہر آگیا ۔اور ان کے پی آئے والے کمرے میں بیٹھ گیا ۔وہاں کمپیوٹر پر دو بندے کام کر رہے تھے تو ان لوگوں سے پوچھا کہ جو پی ٹی سی ایل کے ملازم تھے نیٹ کے بارے کہ پرائیویٹ لوگ پی ٹی سی ایل سے کنکشن لیے کر عوام کو پانچ سو روپے فی کسٹمر دیئے رہے ہے کیا
یہ جائیز ہے کے نہیں انہوں نے کہا کہ ناجائز ہے ابھی بات ہو رہی تھی کہ انچارج صاحب بھی تشریف لے آئے سلام کرکے بیٹھ کر بولا جی کیا بات ہے تو ان سے سوال کیا ہم اس لیے آئے ہیں کہ یہ پرائیویٹ لوگ جو خزانہ سرکارکو کافی نقصان دیئے رہے ہے کہ چند لوگ ایسے ہے نیٹ تو آپ سے بہت عوام نے لگوا رکھا ہے مگر چند ایسے لوگ ہے جو پی ٹی سی ایل کا نیٹ لگوا کر اپنی چھتوں وغیرہ پر انٹینے لگا کر عوام میں پانچ سو روپے فی کنکشن دیئے رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہمارے کام ہے اپنے کسٹمر کو سروس دینا ۔جائے آپ پی ٹی اے سے رجوع کرئے ہمارے خیال میں یہاں کوئی غلط کام نہیں ہو رہا ۔میں نے دوسرا سوال کیا کہ ہم ہر ماہ تقریبا 16سے17سوروپے بل ادا کررہے ہیں اور یہ پانچ سو روپے میں کنکشن دیئے کر خزانہ سرکار کو نقصان نہیں دے رہے کیا آپ کا کسٹمر ایک کنکشن لیے کر آگے نہ جانے کتنے لوگوں کو سیل کر رہا ہے یہ تو ان لوگوں نے کاروبار بنا رکھا ہے تو وہ بولا پہلے ایک دفعہ سب نیٹ بند کروا دیئے تھے مگر پھر ہم کو آڈار آگے کہ ان لوگوں کے کنکشن اور نیٹ چلوں کر دیئے۔انہوں نے یہ سب آف دی ریکارڈزبانی بات کی۔۔اور میں یہی بات سن کر باہر آگیا ۔اور سوچ میں پڑ گیا کہ۔۔۔۔افسوس۔کیا ہم مسلمان ہے کیا ہم پاکستانی ہے میں یہ سوال آپ پر چھوڑتا ہوں کہ یا کاروبار کیا درست ہے ۔کیا اس سے خزانہ سرکار کا نقصان نہیں ہورہا کیا۔یہ فیصلہ آپ کرئے ۔خدااور اس کے رسولﷺ کو حاضر ناظر جان کر ایک مسلمان پاکستانی شہری ہونے کے ناطے ۔۔۔
ابھی جاری ہے۔note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button