تازہ ترینڈاکٹر بی اے خرمکالم

بورے والا کا جرنیلی روڈ ٹوٹ پھوٹ کا شکار

برصغیر پاک و ہند کے بادشاہ فرید خاں المعروف شیر شاہ سوری نے اپنے دور حکومت میں ریاست بہاول پور سے دہلی تک سڑک بنوا کر ایک تاریخی کام سر انجام دیا تھا اس سڑک پہ لڈن بورے والہ ،پاکپتن ،قصور ،لاہور جیسے اہم شہر واقع ہیں اس سڑک کو جرنیلی روڈ بھی کہا جاتا اسی جرنیلی روڈ پہ ضلع وہاڑی کی تحصیل بورے والا بھی واقع ہے وقت گرزنے کے ساتھ ساتھ اس کے نام میں بھی تبدیلی رونما ہوتی گئی بور ے والہ میں موجود اس سڑک کولاہور روڈ کہا جاتا ہے آج کل یہ جرنیلی روڈ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے فوارہ چوک سے لیکر پل نہر مجاہد کالونی تک کا درمیانی فاصلہ پہ جگہ جگہ گڑھے پڑے ہوئے ہیں اس جرنیلی روڈ کے ایک طرف بورے والا شہر کی نواحی آبادی شاہ فیصل کالونی اور دوسے جانب مجاہد کالونی کا علاقہ ہے اور دونوں آبادیوں کے درمیان ایک ریلوے ٹریک بھی ہے شاہ فیصل کالونی میں سیوریج کا سسٹم بری طرح تباہ و برباد ہے سیوریج لائنیں بند اور گٹر ابلتے رہتے ہیں شاہ فیصل کالونی کے سیوریج کا گندا پانی سیوریج لائنیں بند ہونے کے باعث گٹر ابل کر جرنیلی روڈ پہ پہنچ چکا ہے وطن عزیز پاکستان کے لوگ ہمیشہ سے انوکھے کام سر انجام دینے میں کمال کی مہارت رکھتے ہیں ان کی ہمیشہ سے یہی کوشش ہوتی ہے کہ بس آج کا دن گزار لو کل دیکھا جائے گا جیسا کہ ہماری حکومتوں کا بھی روز اول سے یہی وطیرہ رہا ہے اور اسے پنجابی میں ’’ ڈنگ ٹپاؤ ‘‘ پالیسی کہا جاتا ہے بلدیہ بورے والہ کے افسران نے اسی ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پہ عمل کرتے ہوئے ابلتے گٹروں کے گندے پانی کوسڑک نیچے سے گزار کر جرنیلی روڈ کی دوسری جانب ڈال دیا ہے اب یہاں ایک مسلہ جو کہ آنے والے دنوں میں ایک بڑے حادثے کا موجب بن سکتا ہے وہ یہ ہے کہ لاہور روڈ کے ساتھ ساتھ ریلوے ٹریک بھی موجود ہے سیوریج بند ہونے کی وجہ سے گٹروں سے نکلنے والا گندا پانی چوک فوارہ سے لیکر نہر پل مجاہد کالونی تک ایک تالاب کا منظر پیش کر رہا ہے اس گندے پانی کی وجہ سے جہاں ہیپاٹائٹس جیسی موذی بیماریان جنم لے رہی ہیں وہیں سیوریج کے پانی نے ریلوے ٹریک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جو کہ کسی بڑے حادثے کا موجب بن سکتا ہے جرنیلی سڑک المعروف لاہور روڈ سیوریج کے پانی سے بری طرح توٹ پھوٹ کا شکار ہے ابھی چار دن پہلے بلدیہ نے داتا فلور ملزکے نزدیک سیوریج کے گندے پانی کوغیر قانونی طریقہ سے سڑک توڑ کر دوسری جانب ڈال دیا ہے اگر ہیوی مشینری کا ستعمال کیہا جاتا تو یہ کام صرف تین سے پانچ گھنٹوں کا تھا لیکن چار روز گزرنے کاباوجود مکمل نہیں ہوسکا اس جرنیلی روڈ پہ ٹریفک کا بہاؤ بہت زیادہ ہے غیر قانونی طریقہ سے سیوریج پائپ ڈالنے کی وجہ سے سڑک پہ گھنٹوں ٹریفک بلاک رہتی ہے
آنے جانے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہاہے سیوریج کا گندا پانی اکثر اوقات کھڑا ہونے کی وجہ سے بسیں اور کاریں اس تیزی سے گزرتی ہیں کہ موٹر سائیکل اور سائیکل سواروں پہ گندے پانی کے چھنٹوں سے حلیہ تک بدل جاتا ہے اس کثیر الاشاعت جریدہ کی وساطت سے اعلی حکام سے مطالبہ ہے کہ بندسیوریج لائنیں بحال کی جائیں اور جرنیلی روڈ جس کی ایکی تاریخی حیثیت ہے اسے بھی مرمت کیا جائے

یہ بھی پڑھیں  ڈسکہ:اللہ کے گھر میں بھی امانت میں خیانت کا کردار

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

  1. Bohttt khuoob Sir,,,, I agree with You,,, ager Hakomat-e-Pakistan, Burewala k Awaam kay dayrina masaeyl hall ker dayn tto Burewalians bhi Sukh kay saans lay sakayn…

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker