تازہ ترینعلاقائی

سرائے مغل:سات سالہ کمسن بچے سے زیادتی کی کوشش کرنے والے بااثر ملزمان کے خلاف کاروائی نہ کرنے پرعوام کا احتجاج

سرائے مغل(نامہ نگار)سات سالہ کمسن بچے سے زیادتی کی کوشش کرنے والے با اثر ملزمان کے خلاف کاروائی نہ کرنے پر عوام کا سرائے مغل پولیس کے خلاف حتجاج۔ پولیس نے غیر قانونی طور پرجرم میں تبدیلی کرکے ملزمان کی حمایت کی ،تفصیلات کے مطابق تھانہ سرائے مغل کے نواحی گاؤں ہلہ کارہائشی ملک محمد منشاء اڈہ ہ لہ میں قصاب کی دکان چلاتا ہے کہ چند دن قبل اس کا کمسن بیٹا عاطف جب دن گیارہ بجے کے قریب دکان سے گھر واپس جارہا تھا تو جیسے ہی گورنمنٹ ہائی سکول ہلہ کے قریب پہنچا تو بوٹا ولد شفیع نے عاطف کو ورغلہ پھسلا کر گندم کی فصل کی طرف لے جاکر بدفعلی کرنے کی کوشش کرنے لگا ۔تو عاطف نے چیخ وپکار کرتے ہوئے رونا شروع کردیا ۔چیخ و پکار سن کر راہگیر جمع ہوگئے جن کو دیکھتے ہی بوٹا موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔محمد منشاء کی مدعیت میں مقدمہ نمبر114/14بجرم367/511 Aدرج ہوا۔تاہم پولیس کئی دن تک ملزم کو گرفتار کرنے میں ناکا م رہی۔ملزم بوٹا کی جانب سے مدعی مقدمہ کو مقدمہ ختم کرنے کی دھمکیاں وصول ہونے لگی۔ملزم عبوری ضمانت کروا کر اسلحہ کے زور پر علاقہ میں گھومنے لگا۔اہلیان محلہ کے سینکڑوں لوگوں نے ملزم کی گرفتاری کو جلد از جلد یقینی بنانے کے لیے پولیس چوکی ہلہ کے قریب احتجاج کیا۔جس میں انہوں صحافیوں کو بتایا کہ ہمارے ساتھ سراسر زیادتی ہورہی ہے ۔پولیس چوکی میں ملزم کا بھائی محمد طارق قومی رضا کار ہے جو اپنے تعلقات کی بنا پر اپنے ملزم بھائی کو بچانے میں پولیس کے ساتھ ملی بھگت کر چکا ہے۔پولیس نے اپنی چالاکی کو استعمال کرتے ہوئے مقدمہ میں درج جرم کو ہی بدل کر رکھ دیا ہے محمد اشرفASI نے جرم 367/511 Aکو377/511میں تبدیل کر دیا جبکہ مدعی کے پاس پہلی درج کی گئی FIRکی کاپی بھی موجود ہے جسمیں صاف صاف پولیس کی جانب سے ملی بھگت نظر آرہی ہے۔محمد عاطف کے دادا،والد اور اہلیان محلہ نے بتایا کہ ملزم اس سے قبل بھی ایسی واردتیں کر چکا ہے ۔لیکن اپنے اثرو رسوخ کی وجہ سے قرار واقع سزا سے بچ جاتا ہے۔ اہلیان محلہ ریاض بھٹی،رحمت موکل،عمر حیات،محمد یٰسین،راشد مستری،ملک حبیب،سیٹھ محمد حمید کے علاوہ احتجاج میں شامل سینکڑوں لوگوں نے ملزم کو کڑی سے کڑی سزا دینے اور محمد اشرف ASIکو مقدمہ میں جرم بدلنے کی بنا پر اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker