تازہ ترینرپورٹس

ایشیا میں خواتین میں بریسٹ کینسرمیں اضافہ

برطانیہ میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق ملک میں رہائش پذیر ایشیائی نسل کی خواتین میں چھاتی کے کینسر کے مرض میں دیگر نسلی گروپوں کی خواتین کے مقابلے میں اضافہ ہوا ہے۔اس سے پہلے سفید فام خواتین کے مقابلے میں ایشیائی خواتین میں چھاتی کے کینسر کی بیماری کم پائی جاتی تھی۔ یہ نئی تحقیق کینسر ریسرچ یو کے نامی تنظیم کی مدد سے کی گئی ہے۔برطانیہ میں رہائش پذیر مدھو کو تینتالیس برس کی عمر میں پتہ چلا کہ انہیں چھاتی کا کینسر ہے۔وہ کہتی ہیں ’میری چھاتی کا سائز تبدیل ہو رہا تھا اور عام طور پر پستان چھونے پر نرم ہوتے ہیں لیکن مجھے وہ سخت لگے۔ اس کے بعد میں نے ڈاکٹر کو دکھانے کا فیصلہ کیا اور ڈاکٹر نے مجھے براہ راست ہسپتال جانے کو کہا‘۔مدھو کے گھر سے کچھ ہی فاصلے پر رہنے والی رجنا بھی چھاتی کے کینسر کی مریض ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’جب مجھے اپنے بائیں پستان سے کچھ رساؤ ہوتا ہوا دکھائی دیا تو میں نے ڈاکٹر کے پاس جانے کا سوچا۔ انہوں نے مجھے فوری طور پر ہسپتال جانے کو کہا جہاں مجھے بتایا گیا کہ مجھے کینسر ہے‘۔برطانیہ میں چھاتی کا کینسر ایک عام بیماری کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے اور یہ دیکھا گیا ہے کہ ہر تین میں سے ایک خاتون اس سے متاثر ہے لیکن پہلے برطانیہ میں رہنے والی ایشیائی خواتین میں اس کے مریضوں کی تعداد کم پائی جاتی تھی۔لیکن ایک نئی تحقیق میں پتہ چلا ہے کہ پہلے کے مقابلے میں ایشیائی خواتین میں چھاتی کے کینسر کے مزید کیس سامنے آ رہے ہیں۔اس تحقیق میں شریک ڈاکٹر پونم مگتاني کا کہنا ہے،’چھاتی کے کینسر کی وجہ سے خواتین کی اموات میں اضافے کے اعداد و شمار تو سامنے نہیں آئے ہیں لیکن جس طرح سے مریض سامنے آ رہے ہیں اس سے یہ ضرور معلوم ہوا ہے کہ پہلے کے مقابلے خواتین میں چھاتی کے کینسر میں اضافہ ہوا ہے‘۔”یہ تحقیق چھاتی کے کینسر کے بارے میں ایک الگ طرح کا رجحان سامنے لائی ہے۔ اس کی روک تھام کے لیے کام کرنے کے ساتھ ساتھ سكریننگ ہو اور یہ یقین ہونا چاہیے کہ سب کو سكریننگ کی سہولت ملے۔”ڈاکٹر مگتانیرجنا کے مطابق وہ وقت دور نہیں ہے جب زیادہ ایشیائی خواتین کو یہ پتہ چلے گا کہ انہیں چھاتی کینسر ہے۔ وہ کہتی ہیں، ’میں اپنے خاندان میں پہلی عورت ہوں جسے چھاتی کا کینسر ہوا ہے اس لیے تعجب کی بات نہیں ہے کہ چھاتی کے کینسر کے معاملات کی تعداد بڑھ رہی ہے‘۔مدھو کہتی ہیں۔’اپنے آس پاس میں جن لوگوں کو جانتی ہوں، میں نے محسوس کیا ہے کہ یہاں رہنے والی ایشیائی خواتین میں چھاتی کا کینسر ہے اور یہ دیکھ کر مجھے فکر ہوتی ہے۔ مجھے یہ پتہ نہیں ہے کہ یہ بیماری کہاں سے آ رہی ہے‘۔اس تحقیق کی بنیاد سنہ 1991 اور 2001 میں کی گئی مردم شماری ہے۔ اس تحقیق میں الگ الگ نسلی گروپوں کی خواتین میں کینسر کے حوالے سے مطالعہ کیا گیا لیکن ڈاکٹر مگتاني کا کہنا ہے کہ اس کے نتائج ابھی بھی حتمی نہیں ہیں۔وہ کہتی ہیں،’یہ تحقیق چھاتی کے کینسر کے بارے میں ایک الگ طرح کا رجحان سامنے لائی ہے۔ اس کی روک تھام کے لیے کام کرنے کے ساتھ ساتھ سكریننگ ہو اور یہ یقین ہونا چاہیے کہ سب کو سكریننگ کی سہولت ملے‘۔روایتی طور پر دیکھیں تو ایشیائی خواتین ابھی بھی چھاتی کینسر پر بات کرنا پسند نہیں کرتی ہیں. لیکن اب لوگوں کا نظریہ بدل رہا ہے اور کینسر پر کام کرنے والے اس گروپ میں فی الحال 50 خواتین شامل ہیں۔حالانکہ یہ گروپ چھاتی کے کینسر سے متاثرہ خواتین کی مدد کر رہا ہے لیکن ڈاکٹر مگتاني کا کہنا ہے کہ ایشیائی خواتین کو اس مہلک مرض کے خطرے سے آگاہ کرنے کے لیے مزید کام کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں  بھائی پھیرو: کروڑوں روپے سے بنی بھگیانہ کلاں کی واٹرسپلائی بیس روز سے بند

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker