انور عباس انورتازہ ترینکالم

جمہوریت کے کھڑپینچوں کا تحفہ۔۔۔ چینی صدر کا دورہ پاکستان ملتوی

anwar abasآج میرارادہ تھا کہ جمہوریت کے نام نہاد کھڑپنچوں کا تیا پانچا کروں جو سیاست کا لبادہ اھوڑ غیر سیاسی عناصر کے عزائم کی تکمیل کے لیے کام کرتے ہیں۔لیکن ارادے کے مطابق لکھنے کے دوران اطلاع ملی کہ پاکستان کی گھبیر اور کشیدہ صورت حال کے پیش نظر چین کے صدر نے پاکستان کا دورہ ملتوی کردیا ہے۔ چینی صدر کے دورہ پاکستان کے سلسلے میں سکیورٹی معاملات کا جائزہ لینے کے لیے چین کے سکیورٹی حکام کی ایک ڑین پاکستان پہنچی تھی۔جس نے حالات کو چینی صدر کے دورہ پاکستان کے لیے سازگار قرار نہیں دیاجس کے باعث چینی صدر نے پاکستان آنے سے انکار کردیا ہے۔طاہر القادری ، عمران خاں اورشیخ رشید احمد کو مبارک ہو کہ انہوں نے اپنے چال چلن کی وجہ سے پاکستان کے ایک عظیم دوست ملک چین کے صدر کے دورہ کو ملتوی کراکے عظیم خدمت انجام دی ہے۔چین کے صدر کے اس دورہ میں بہت سارے اہم معاملات زیر بحث آنے والے تھے۔جن کے پاکستان کی معاشی ،اقتصادی ترقی پر دیرپا اثرات مرتب ہونا تھے۔ لیکن ہم ( عمران خاں اور طاہر القادری) نے اس موقعہ کو گنوا کر نہ جانے کسے خوش کرنے کی کوشش کی ہے۔پاکستان اس دورے اور دھرنوں سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ کئی برسوں تک نہ کر پائیگا۔ چین کے عظیم راہنماوں نے ہر مشکل گھڑی میں ہمارا ساتھ دیا اور ہر مصیبت کے وقت ہمارے کام آئے ۔ہماری ترقی میں چین کے تعاون کا بڑا ہاتھ ہے۔ لیکن ہم نے چین کے صدر کے دورہ پاکستان مشکل بنا دیا بجائے اسکے کہ ہم انکا عظیم اور فقیدالمثال استقبال کرتے ہم نے حالات ایسے پیدا کیے کہ وہ خود ہی نہ پاکستان آئیں۔۔۔ مجھے معلوم ہے کئی سپر طاقتیں پاکستان اور چین کے بڑھتے ہوئے روابط سے ناخوش ہیں۔اور انکی خوائش ہے کہ پاکستان اپنے پاوں پر کھڑا ہونے نہ پائے تاکہ انکا محتاج رہے۔
اب میں آتا ہوں اپنے ارادے کی جانب کہ ستمبر کے پہلے ہفتے کو اگر انکشافات کا ہفتہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔۔۔جاوید ہاشمی نے عمران خاں کے احتجاج کے پیچھے کارفرما قوتوں اور منصوبہ کاروں کو بے نقاب کیا تو شاہ محمود قریشی کے سگے بھائی مخدوم مرید حسین قریشی نے انکی تحریک انصاف میں شمولیت اور پیپلز پارٹی چھوڑنے کا بھانڈہ پھوڑا۔۔۔تحریک انساف کے وائس چئیرمین مخدوم شاہ محمود قریشی ہو یا میاں خورشیدمحمود قصوری کی ذات گرامی ہو ی۔۔۔یاپھر سردار آصف احمد علی کی شخصیت ہو ۔۔۔یہ تینوں حضرات امریکہ سے اپنی وابستگی کو کبھی پوشید ہ نہیں رکھتے بلکہ بڑے فخر سے ہر مجلس اور اجتماع میں اپنی اس امریکہ نوازی کا ذکر خیر کرتے ہیں۔۔۔2011 گیارہ میں پیپلز پارٹی کی حکومے رخصت ہونے کی یقین دھانی کے بعد وزارت سے مستعفی ہوکر ’’گو زرداری گو‘] کے نعرے بلند کرنے والے شاہ محمود قریشی کے سگی بھائی کی زبانی انکی حقیقت کا بھانڈہ پھٹنے کی داستان سن کر میرے اوسان اور ہواس اڑ گئے۔مخدوم مرید حسین قریشی حامد میر سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں۔یہ دو ہزار گیارہ کی بات ہے ۔میں ان دنوں لندن میں تھا کہ شاہ محمود قریشی کا خون آیا کہ میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔آپ ابوظہبی پہنچ جائیں جب میں ابوظہبی پہنچا تو شاہ محمود نے کہا کہ’’ میں تحریک انصاف جوائن کر رہا ہوں کیا تم میرے ساتھ چلو گے۔‘‘جس پر میں نے کہا کہ ’’میں تمہارا ساتھ نہیں دے سکتا‘‘جس پر شاہ محمود قریشی نے مجھے بتایا کہ ’’ انکی جنرل صاحب سے ملاقات ہے،اسکے بعد مجھے انکے ساتھ ہیلی کاپٹر میں جاکر ایک اور جنرل صاحب سے ملاقات کرنا ہے۔‘‘ انہوں نے مذید کہا کہ ’’اگر تم نے یہ موقعہ مس کردیا تو ہاتھ ملتے رہو گے‘‘
حامد میر کے لیے یہ انکشاف ہوگا لیکن ہر ذی زعور جانتا ہے کہ تحریک انصاف میں سیاستدانوں کی بھرتی کیسی ہوئی اور کس کس نے انٹرویو کرکے لوگوں کو تحریک میں شمولیت کرنے کی ترغیبات دی گئیں۔جن شریف لوگوں نے مسلم لیگی ہونے کا عذر تلاش کرنے کی کوشش کی تو انہیں کہا گیا تم ’’ آپ مسلم لیگ قائد اعظم میں شمولیت اختیار کرلیں اور مسلم لیگی بھی رہیں گے اور اقتدار بھی آپ کے قدم بوسی کریگا۔۔۔اس طرح ہمارا کام بھی چل جائے گا اور آپ کے جدی پشتی خاندانی مسلم لیگی ہونے کا بھرم بھی قائم رہے گا۔حامد میر تم بہت اچحی طرح سے واقف ہو ان سب حالات سے بلکہ اگر میں یوں کہوں کہ تم لوگ عینی شاہد ہو لوگوں کے ضمیر خریدنے اور ایک نئی سیاسی جماعت کی آڑ میں ’’بندے‘‘ میدان میں اتارنے کے لیے کیا کیا پاپڑ بیلے گئے تھے۔تب جاکر تحریک انصاف کی عمارت کھڑی ہوئی۔
غلام مصطفی جتوئی سے لیکر سابق شیر پنجاب مصطفی کھر تک،سیف اللہ سے حامد ناصر چٹھہ تک ۔۔۔ سید منیر گیلانی سے عدلیہ بچاو کمیٹی کے سربراہ سمیت بڑے نیک نام سیاستدان گھرانے ’’راولپنڈی ‘‘ والوں کے لیے خدمات سرانجام دیا کرتے تھے اور ہیں۔بلکہ میں تو یہاں تک کہوں گا کہ نوابزادہ مرحوم کی ساری جماعت ہی ایجنسیوں کے اہلکاروں سے بھری ہوئی تھی۔ جیسا کہ میں آج بھی شیخ رشید احمد کو ایک خفیہ ایجنسی کا سولین افسر کہتا ہوں۔ایسے ہی تو نہیں کہ عمران خاں جسے شیدا ٹلی کہے اوراسے اپنے ہاں ’’ چپڑاسی یعنی نائب قاصد کی ملازمت دینے کو برا سمجھتا ہو اور بعد میں اسکے بغیر ایک قدم بھی نہ چلے اور اس کے اشاروں پر پی ٹی وی پر حملہ اور پارلیمنٹ پر قبضہ کرلے۔۔۔یہ سب کچھ خفیہ والے نہیں کروا رہ
ے تو کون کروا رہا ہے؟گندے کھیل میں شامل لوگ جمہوریت کے بڑے چیمپین بننے کی ناکام کوشش میں ہیں۔

میں نے اپنی چونتیس سالہ صھافتی زندگی میں بڑے بڑے ناموں والے بہت سارے لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ سیاستدانوں کا لبادہ اوڑھ کر کس کس قسم کے مکروہ دھندوں میں ملوث ہیں اور اپنے تمام ناجائز کام سیاست کی آڑ میں کرتے ہیں۔سیاست کا لبادہ اس لیے اوڑھتے ہیں کہ اگر حکام کسی قسم کی تادیبی کارروائی کریں تو سیاسی انتقام کا شور مچایا جا سکے۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
error: Content is Protected!!