بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

براؤن شوگر سکینڈل اور دوطرفہ تجارت

گذشتہ دس روز سے بھارت کی ہٹ دھرمی،نااہلی، نالائقی کے سبب سینکڑوں خاندان المناک صورت حال سے گذر رہے ہیں،المیہ یہ ہے کہ بھارت کی دیدہ دلیری پر کوئی ٹھوس اقدام کہیں سے سامنے نہ آنا بے حسی کا منہ بوتا ثبوت ہے۔قارئین کے علم میں ہوگا کہ چکوٹھی کراسنگ پوائینٹ سے دو طرفہ تجارت ہیروئین ’’براؤن شوگر‘‘سکینڈل سامنے آنے کے بعد معطل ہے جس کے سبب ۷۶ٹرک اور ۵۵ مسافر دونوں اطراف سے رکے ہوئے ہیں۔
۲۰۰۵ء میں پاکستان اور بھارت نے اعتماد سازی کے نام پر کشمیری شہریوں کو آرپار آنے جانے کیلئے بس سروس کا آغاز کیاجبکہ۲۰۰۸ء سے کشمیر کے آرپار امن کوششوں کو تیز کرنے کیلئے تجارتی سرگرمیوں کیلئے ٹرک سروس شروع کی ،جو گذشتہ دس سال سے کامیابی کے ساتھ جاری ہے جس سے دونوں اطراف کے شہریوں میں ہم آہئنگی،اعتماد اور معاشی و سماجی تعلقات کو فروغ حاصل ہوا ،اسی نتیجہ میں امن کوششوں کو کافی حد تک کامیاب کہا جا سکتا ہے۔
بد قسمتی سے گذشتہ ہفتہ اس پار سے ایک ٹرک میں بھارتی انتظامیہ کے بقول بڑی مقدار میں براؤن شوگربر آمد ہوئی ، جس کے بعد ٹرک ڈرائیور کو حراست میں لیکر ٹرک ضبط کرلیا گیا۔بھارتی انتظامیہ کے اس اقدام پر اس پار ٹرک اور ڈرائیور وں کو اس وقت تک جموں کشمیر انتظامیہ کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا جب تک ڈرائیور اور ٹرک بھارت واپس نہیں کرتا،اس صورت حال سے دونوں طرف کے سینکڑوں تاجروں کا مال ٹرکوں پر پیک ہے اور اندیشہ ہے کہ معاملہ طول پکڑنے سے کروڑوں روپے کا نقصان ہوسکتا ہے۔
اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ منشیات کا کاروبار،سمگلنگ دونوں ممالک کیلئے سود مند نہیں،انسانیت کے قاتل چاہئے اس پار ہوں یا اس پارہرگز معافی کے لائق نہیں۔اس ضمن میں ڈی جی ٹاٹا برگیڈیئر(ر)محمد اسماعیل نے تاجروں کی تنظیم کے سینئر نائب صدر اعجاز احمد میر کے ہمراہ گذشتہ روز چکوٹھی کراسنگ پوائنٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کہاکہ اگر بھارت کے پاس منشیات کے ثبوت ہیں تو وہ تمام شواہد کے ساتھ ڈرائیور کو ہمارے حوالے کرئے تاکہ قانون کے تحت کارروائی کی جا سکے۔مگر بھارت جان بوجھ کر معاملہ و طول دیکر دو طرفہ تعلقات کو پھر دس سال قبل کی صورت پر لانا چاہتا ہے ۔اس واقعہ میں صداقت نہیں ہے ۔بھارت من گھڑت الزامات لگا کر امن کوششوں کو تباہ کرنا چاہتا ہے ۔تاجر رہنما اعجاز میر نے کہا کہ بھارت کی بے جا ہٹ دھر می سے دونوں اطراف کے تاجروں کو کروڑوں روپے کا نقصان ہو سکتا ہے جس کا کون ذمہ دار ہوگا۔اس موقع پر بھارتی ٹرک ڈرائیوروں کو گرم ملبوسات پیش کئے گے اور طعام و قیام کو معیاری رکھے جانے کے اقدامات اٹھائے گے۔
ڈی جی ٹاٹا کا موقف سامنے آنے کے بعد واضح ہوتا ہے کہ بھارت نے ایک منصوبہ بندی سے منشیات کا ڈرامہ رچا کر امن کوششوں کے خلاف سازش کی ہے،ان کے اس موقف کو زمینی حقائق کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ حقیقت ہے کہ دونوں اطراف کے کسی ایک تاجر کی اتنی سکت و پسلی نہیں کہ وہ قریباًدو ارب روپے کی سمگلنگ کر نے کی سوچ بھی سکے۔آخر اتنی مقدار میں کیسے منشیات برآمد ہوئی۔۔؟؟؟دوسری دلیل یہ ہے کہ بھارت نے دس روز گذرنے کے باوجود ا بھی تک کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کئے محض ڈرائیور کو گرفتار کر کے پروپیگنڈے سے اپنی اجارہ داری کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔عالمی دنیا کا اصول بھی ہے کہ جو جرم کا محرک ہے وہی قابل گرفت ہے،یہ کہیں بھی نہیں ہوا،نہ ہی ہوگا کہ جرم کوئی کرئے اور بھرے کوئی،لہذا بھارت کی بے جا دلیل کسی بھی لحا ظ سے قابل قبول اور عالمی معیار کے مطابق نہیں۔
مان لیا کہ منشیات بر آمد ہوئی،تو بھارت کو ثبوت پیش کرنے میں کیارکاوٹ ہے۔۔۔؟؟؟جب پاکستان غیر جانبدارانہ تحقیقات کااظہار کررہا ہے تو بھارت کی اپنی رٹ شک و شبہات کو جنم دے رہی ہے۔ہونا تو یہ چاہئے کہ دونوں اطراف کی انتظامیہ اپنی سیکیورٹی کی خامیوں کو زیر بحث لاکر آئندہ احتیاط کا مظاہرہ کریں تاکہ کسی بھی جانب سے ایسے واقعات رونما نہ ہونے پائیں۔مگر اس کے برعکس بھارتی انتظامیہ کی روش کسی بھی لحاظ سے حوصلہ افزاء نہیں،بلکہ اس طرح دونوں اطراف کے تاجروں کو کروڑوں روپے کا نقصان ہو سکتا ہے جس سے سینکڑوں گھرانے شدید دباؤ کا شکار ہو نگے۔اب یہ تجارت دو ممالک کی حد تک نہیں رہی بلکہ اس میں دونوں اطراف کے سینکڑوں شہری تاجرشامل ہیں،جنہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتااگر بھارت نے اپنے خودساختہ رویہ کوترک نہ کیا تو اس سے بھارت کی خارجہ سطح پر نام نہاد قائم تاثر کہ بھارت امن کوششوں کا علمبردار ہے غلط ثابت ہو جائیگا اور بھارت کو پوری دنیا میں سبکی ہوگی۔بھارت نے جو عالمی سطح پر دوڑ لگا رکھی ہے کہ ’’بھارت کو پسندیدہ‘‘ملک قرار دیا جائے ،اس کی ان بے جا ہٹ دھرم پالیسی سے ناصرف امن کوششوں کو دھچکا لگ سکتا ہے بلکہ بھارت کی پسندیدہ خواہش بھی پو ری نہیں ہو سکے گی۔اس سارے افسانے کی ایک سمجھ آنے والی کہانی نظر آرہی ہے کہ بھارتی حکمرانوں کو دنیا میں نیچا دکھانے اور آمدہ انتخابات سے قبل ٹارگٹ کرنے کیلئے ممکن ہے اپوزیشن ذہین سے تعلق رکھنے والے انتظامی افسروں نے مربوط سازش کر کے یہ سکرپٹ بنایا ہو،بہر حال جو بھی پس منظر ہو ، بھارتی انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ عالمی قوانین کے مطابق معاملہ کو یکسو کرئے اس ضمن میں دونوں اطراف کی قیادت کو بھی کردار ادا کرنا چاہئے کیونکہ تجارت بند ہونے سے جہاں عمومی طور پر منفی اثرات مرتب ہونگے وہیں دو نوں اطراف کے تاجروں کو کاروباری نقصان سے بچانا بھی پیش نظر رکھنا ہوگا۔دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے لیکن بھارت ابھی تک رام مندر سے باہر نہیں نکل پایا جو بھارت کی ناکامی اور خطہ میں دہشتگردی کے فروغ کی بنیاد ہے۔پاکستان نے ہمیشہ امن کوششوں کے حوالے سے ہر ممکن اقدامات اٹھائے لیکن بھارتیوں کی بد نیتی، ہٹ دھرمی اور توسیع پسندانہ عزائم بڑی رکاوٹ رہے۔عالمی سطح پر معاشی بحران سنگین ہوتا جارہا ہے ،یورپی ممالک نے صدیوں کے تنازعات حل کر لئے،ایک کرنسی،ویزہ فری زون قائم کرکے معاشی بحران کا مقابلہ جاری رکھا ہوا ہے مگر بھارت جو جنوبی ایشیاء کا بڑا ملک ہے اور آبادی کے تناسب سے غربت ، بے روزگاری اور معاشی ناہمواری کا سامنا بھی ہے اس کے باوجود اسے ڈیڑھ ارب انسانوں کی زندگی کا احساس نہیں۔اس قدر عوام دشمنی دنیا میں کہیں نہیں جو بھارت کے اندر موجود ہے اگربھارت نے بدلتے ہوئے عالمی حالات میں اپنی روش نہ بدلی تو جنوبی ایشیاء کا امن مخدوش ہو جائیگا اور اس کی تمام تر ذمہ داری بھی بھارت پر ہوگی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ممالک مل کرباہمی تنازعات سمیت دیگر مسائل پرسنجیدہ کوششیں کریں تاکہ خطہ میں امن قائم ہو،مذکورہ واقعہ پر غیر جانبدارنہ تحقیقات کی جائے اور گذرے دنوں میں تاجروں کو جو نقصان ہوا ہے اس کا بھارت ازالہ کرئے تاکہ تجارتی اعتمادسازی کو فروغ ہو سکے۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
error: Content is Protected!!