شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / برسہ برس سے اسلامی ماحول میں سرسبز و شاداب جامع پنجاب

برسہ برس سے اسلامی ماحول میں سرسبز و شاداب جامع پنجاب

ہر ایک تنظیم میںاچھائیاں بھی ہوتی ہیںبرائیاںبھی ہوتی ہے ہر تنظیم کے کچھ چاہنے والے بھی ہوتے ہیں اورکچھ اسے ناپسند بھی کرتے ہیں یہی معاملہ آج کل اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان جامع پنجاب کے ساتھ ہو رہا ہے کچھ کالم نگار اور ٹی وی اینکرمخالفت میں اتنے آگے بڑھ گئے ہیں کہ انصاف اور مروجہ تنقید کے اصولوں سے ہٹ کر تنقید برائے تنقید پر چل پڑے ہیں اور ایسے محسوس ہوتا ہے کہ تعلیمی دور کے وقت وہ کسی جمعیت مخالف تنظیم میں شامل رہے ہوں گے جامع پنجاب میں برسوں سے طالبعلموں میں مقبولیت کی وجہ جو کام وہ اس وقت نہ کر سکے ہوں گے سوچا چلو اب دل کی بڑہاس نکال لو اور خوب کیچڑ اُچھال لویا پھر یہ صاحبان روشن خیال ہیں جو جمعیت کے جامع میں اسلامی پروگرام سے اختلا ف رکھتے ہیں…۔ایسے ہی ایک ہمارے محترم کالم نگار صاحب جو جمعیت کے کارناموں سے شاید واقف نہیں یا جان بوجھ کر دل کی بڑاس نکال رہے ہیں یا اس سے الرجک ہیں نے اپنے ایک کالم جو ہمارے نظر سے ایک دو اخبارات میں گذرا ہے۔ مضمون نگار نے پہلے تو ڈاکٹر مجاہد کامران اور ایک محترم پروفیسر ڈاکٹر شوکت علی صاحب کی تعریف کی ہے ہم بھی اور سب لوگ یہی کہتے ہیںقوم کو اپنے مادرِ علمی کے حضرات کا احترام اور عزت لازمی کرنا چاہیے۔ پھر کچھ پاکستان کے بڑے لوگوں کا ذکر کرتے ہوئے ، ایک سابق مرکزی سیکرٹری اطلاعات جمعیت کے مضمون کا بھی ذکر کیا ہے جس میں انہوں نے پنجاب یونیورسٹی میں جیتنے والے صدور کا ذکر کیا ہوگا ﴿ہماری نظر سے یہ مضمون نہیں گزرا﴾ یہ مضمون ہمارے محترم کالم نگار کو ناگوار گزرا ۔ فرماتے کہ ان صدور میں سے کسی نے ایٹم بم نہیں بنایا…..۔ واقعی ایٹم بم نہیںبنایا مگر ایٹم بم بنانے والے کے تاثرات سن لیں۔میں زمانہ طالبعلمی میں اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ رہا ہوں﴿ جنگ راولپنڈی بدھ 6 /جون 2012﴾۔ میں اپنے اسلام آباد کے قیام کے دوران ایک محفل میں شریک تھا جس میں کہوٹہ میں ملازمت کے سخت اصولوں کی بات چھڑ گئی۔ ایک شخص بولامحسن پاکستان ڈاکٹرعبدالقدیر خان فرماتے ہیں’’ جمعیت سے زیادہ پاکستان کا کون وفادار ہو سکتا ہے‘‘ جمعیت کی مدر جماعت کے لیے محسن پاکستان کے ریمارکس بھی سن لیں۔ قاضی حسین احمد کی جماعت اسلامی میں شرکت کی دعوت پر کہا ’’ہاں اگر اس ملک میںکوئی اصولی سیاسی جماعت ہے تو وہ صرف جماعت اسلامی ہے جس کامیں احترام کرتا ہوں۔میرے ان ریمارکس کو اگر شمولیت سمجھا گیاتو مجھے اس پر بھی اعتراض نہیں‘‘ کالم نگار مزید فرماتے ہیں کہ جمعیت نے ملک کی جغرافیائی سرحدوں کے دفاع کیلئے اپنا خون نہیں بہایا ۔ اس سلسلے میں عرض ہے ا یک زمانہ تھا تعلیمی اداروں میں نعرہ لگایا گیا کہ ایشیا سرخ ہے یعنی کیمونزم کو ویلکم کہا گیا مگر یہ جمعیت ہی تھی جس نے اس سرخ آندھی کے آگے بند باندھے اور کہا ایشیا سبز ہے جمعیت کے لوگ ڈٹ گئے روس کو پاکستان میں قدم نہیں جمانے دیے اور گرم پانیوں تک رسائی سے روکا جس سے آج پاکستانی قوم محفوظ ہے۔افغانستان میں روس کی شکست میں بھی جمعیت کا خون شامل ہے جس سے ایک طرف تو مشرقی پاکستان کا بدلا لیا گیا تو دوسری طرف روس کی شکست سے اسلامی دنیا کی چھ اسلامی ریاستیں آزاد ہوئیںتو دوسری طرف مشرقی یورپ کی جان سرخ آندھی سے چھو ٹ گئی۔کشمیر جو قائد اعظم (رح) کے مطابق پاکستان کی شہ رگ ہے اس کی آزادی کی جد وجہد میں جمعیت کا خون شامل ہے سری نگر میں مہمان شہدا کے قبروں کے کتبے اس کی گواہی دے رہے ہیں۔
پاکستان کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے البدر کے شہیدوں کے لیے پاک فوج کے لوگوں سے معلومات کی جاسکتی ہیں پاکستانی فوج کے شانہ بشانہ مکتی باہنی کا مقابلہ کس نے کیا کس نے 10000 نوجوان کا خون بہا یااور آج بھی بنگلہ دیش میں زیر عتاب کون ہے۔
فرماتے ہیںملک کے بہت سے محترم لوگ اس طلبہ تنظیم میں شامل نہیں رہے مگر پھر بھی وہ قدآور لوگ ہیں۔ صحیح بات ہے بہت سے قد آور شخصیات ہمارے ملک میں موجود ہیں اور قابل احترام بھی ہیں ملک کی ترقی میں حصہ لے رہے ہیں ہم تو صرف یہ کہہ رہے ہیں پوری دنیا میں تحریک اسلامی کی قیادت اسلامی جمعیت سے تربیت یافتہ افراد کر رہے
ہیںجماعت اسلامی پاکستان کی ساری قیادت جمعیت سے ہی آئی ہے ۔
فرماتے ہیں جمعیت نے اپنی جماعت کے لیے تو قربانیاں دی ہونگی مگر مادرِ وطن کے لیے خون نہیں بہایا۔ ملک کے لیے قربانیوں کا اوپر ذکر کر دیا گیا ہے دہرانے سے کوئی فائدہ نہیں ۔جمعیت نے ساری قربانیاں ملک وقوم کے لیے دی ہیں اس کی مدر جماعت بھی ملک کے لیے کام کر رہی ہے کرپشن سے پاک، پڑھی لکھی، اعلیٰ تعلیم یافتہ ، نڈر اور قابل
اشخاص پر مشتمل ہے۔

یہ بھی پڑھیں  بلوچستان اسمبلی کے نو منتخب اراکین نے حلف اٹھا لیا

2
قارئین میری بدقسمتی کے اسکول کالج کی تعلیم کے دوران میں اس تنظیم میں شامل نہیں رہا مگر خوش قسمت ہوں کہ میرے سارے بچے بچیاں جمعیت میں شامل رہی ہیں اس لیے میں لمبے عرصے جمعیت کو قریب سے جانتا ہوں.ملک کے تعلیمی اداروں میں قال اللہ اور قال رسول اللہ کی کون صدا بلند کر رہا ہے کن نوجوانوں نے مساجد کو آباد کیا ہوا ہے کون قرآن اور حدیث کے دروس کی مجالس سجا رہا ہے کون آذاد خیالی کے آگے بند باندھ رہا ہے اور بہترین اخلاق کی آبیاری کر رہا ہے۔
صاحبوں اس دنیا میں آذادخیالی ہمیشہ سے رہی ہے اور رہے گی۔ انسان اپنی خواہشوں کا اسیر رہتا ہے اسلام اس آذاد خیالی کو ایک نظام کے اندر منضبط کرتا رہا ہے اور یہ تسلسل ازل سے ابد تک جاری رہے گا اور جاری ہے ہمارے پیارے پیغمبر حضرت محمد صلی علیہ وسلم فرماتے ہیں میں مکارم اخلاق کے لیے اُٹھایا گیا ہوں یعنی اخلاق کی تکمیل کروں۔ اسی طر ح اسلامی معا شرے میں نیکیاں کرنے والے سے تعاون اور بُرائیاں کرنے والوں کو روکنے کا بھی کہا گیا ہے اگر میں یہ کہوں کے جمعیت کی بنیاد اسی اسلامی فلسفے پر رکھی گئے ہے تو بے جا نہ ہو گا ۔ وہ خود برائیوں سے اجتناب کرتی ہے اور دوسروں کو دعوت دیتی ہے اس لیے برائیوں پر ٹوکنے سے کچھ حضرات کو ناگوار گزرتا ہے جیسے جامع پنجاب کا موجودہ مسئلہ ہے۔
اس میں شک نہیں اللہ کے مبعوث کردہ پیغمبران(ع) ہی کامل انسان ہوتے ہیںانسان کبھی بھی کامل نہیں ہو سکتا ۔جمعیت میں بھی کمزوریاں ہے سارا پاکستان جانتا ہے مولانا مودودی(رح) نے اسی کمزوری پر ایکشن لیا تھا ابھی کچھ عرصہ پہلے عمران خان کے جامع پنجاب کے واقعے پر قاضی حسین نے ایکشن لیا اور جمعیت کے لوگوں کو تنظیم سے نکالا تھامجھے علم ہے اس تازہ واقعے پر بھی جمعیت نے کچھ لوگوں کونکالا ہے ۔
اصل بات وہی ہے جو تنظیم تعلیمی اداروں میں اسلامی نظام کے لیے کام کر رہی ہے اس کے دشمن بھی اس کی مخالفت میں پیش پیش رہتے ہیں طرح طرح سے رکاوٹیں ڈالتے ہیں جس کی وجہ سے کوئی نہ کوئی کمزوری واقع ہو ہی جاتی ہے مگر نقاد حضرات کو چاہیے ہے کہ کمزوریوں کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ جمعیت کی مثبت سرگرمیوں پر بھی نظر رکھیں۔
۔ حالیہ مسئلے پر جمعیت کا مو،قف ایک پریس کانفرنس میں ناظم جمعیت طلبہ جامع پنجاب حق نواز صاحب نے اس طرح بیان کیا ہے کہ وٹو گروپ جرائم پیشہ ہے پیسے لیکر کسی کے لیے بھی کام کرتا رہا ہے اور کر سکتا ہے اس کے ہاتھوں اویس عقیل کا قتل ہوا ہے جس کی ایف آئی آر ابرار وٹو کے نام کٹی ہوئی ہے اسی کی سرپرستی وائس جانسلر صاحب کر رہے ہیں تاکہ طالب علموں میں دہشت پھیلے ۔ جمعیت والے ایک سال سے انتظامیہ سے درخواست کرتے رہے ہیں کہ جامع سے دہشت گردوں کو نکال دیا جائے ۰۰۵ سیکورٹی گارڈ ۰۵ کمانڈو سیکورٹی پر ۰۵ لاکھ کے خرچ ہونے کے باجود کچھ نہیں کیا گیا اور قاتل ایک طالب علم کو قتل کر گئے ان کے کارناموں کے تصاویر ملکی اخبارات میں چھپ چکی ہیں۔ اس قتل پر طالبعلموں کے معمولی سے ریکشن کو زردصحافت کے کچھ ٹی وی ایکر نے جامعہ پنجاب پر زرد صحافت کی… ..کیا ۶۲ مئی کو کوئٹہ بلوچستان میں جامعہ بلوچستان شعبہ زو لوجی کے پروفیسر ظہور احمد اور ان کے بیٹے پر قوم پرست تنظیم نے تشدد کر کے ٹانگ توڑ دی۔جامعہ پنجاب میں ٹیچر پر تشدد کے جھوٹے واقعہ پر زرد صحافت کرنے والے ٹی وی اینکر اس واقعے پر بھی کوئی خصوصی پروگرام کریں گے؟ میڈیا جیسے معزز شعبہ کو مفادات کے حصول کی خاطر بدنام کرنے والے ان کالی بھیڑوں کی وجہ سے آزادی صحافت پر سے عوام کا اعتماد اُٹھتا جا رہا ہے اسلامی جمعیت طلبہ جامع پنجاب میں پر امن تعلیمی ماحول اور مثبت روایات کی امین ہے۔ انہوں نے کہا سرچ آپریشن میں انتظامیہ کہ نا اہلی سے یہ ثابت ہوا کہ پنجاب یونیورسٹی کے انتظامیہ میں شامل چند افراد نے یہ تمام ڈرامہ صرف اپنی ذاتی انا کی تسکین کی خاطر رچایا اور اس کا مقصد یونیورسٹی میں ہونے والی بے قاعدگیوں، کرپشن اور دوسرے معاملات کی نا کامیوں کو چھپانا ہے ۔اس آپریشن سے ثابت ہوا کہ نہ تو جامع پنجاب میں غیر طلبہ موجود ہیں اور نہ ہی کوئی غیر قانونی سر گرمیوں میں ملوث ہے۔دو تین دن سے جاری اس غیر یقینی صورتحال سے طلبہ کے تعلیمی نقصان اور خوف و ہراس کو پھیلانے کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوا ۔یونیورسٹی انتظامیہ پہلے جیسی مثبت سرگرمیوں کو سبو تاژ کرنا چاہتی ہے انہوں نے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف اور چیف جسٹس ہائی کورٹ سے مطالبہ کیا کہ واقعہ کی جوڈیشنل انکوائری کر وائی جائے تاکہ آئندہ ایسی شرم ناک حرکتوں کی وجہ سے تعلیمی نقصان کرنے والوں کا محاسبہ کیا جا سکے یونیورسٹی میں ہونے والی بے ضا بطگیاں اور بد انتظامی عوام کے سامنے آ گئی ہے ۔جانسلر پنجاب یونیورسٹی جناب لطیف کھوسہ اس کا نوٹس لیں۔

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑہ : مسلم لیگ (ن) کی حکومت عوام سے کئے گئے وعدوں کی انشاء اللہ تکمیل کریگی . پا کستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اکبر علی خان