شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / بس کرہ ظالمو۔۔۔۔۔۔ ”لوگ امن چاہتے ہیں“

بس کرہ ظالمو۔۔۔۔۔۔ ”لوگ امن چاہتے ہیں“

جن دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ریگن اور سویت کیمونسٹ پارٹی کے جنرل سیکرٹری میخائل گوربا چوف کے درمیان یورپ میں نصب ایسے تمام میزائلوں جو پانچ سو سے 5000کلومیٹر فاصلے تک مار کر سکتے ہوں، ہٹا کر انہیں تلف کرنے کے سمجھوتے سے سیاسی سرد مہری کے خاتمے کا دور شروع ہوا، فضا میں اس تبدیلی کے پیش نظر مشرقی جرمنی میں حزب اختلاف کی پارٹیوں نے کھل کر آزادی اور اصلاحات کا مطالبہ کرنا شروع کر دیا 1988ء کے اوائل میں امن تحریک گراس روٹس چرچ کے 120 ارکان کو بغیر اجازت مظاہرہ کرنے پر گرفتار کر لیا گیا گرفتارشدگان سے یکجہتی کے اظہار کے لیے گی گیتھ سیمن چرچ میں ہونے والے دعائیہ اجتماع میں 200سے زائد افراد نے شرکت کی، دو ہفتے بعد اجتماع کے شرکاء کی تعداد بڑھ کر 4000 ہو گئی۔ ڈریسڈن میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کر دیا۔ جو انسانی حقوق پر تقریر اور پریس کی آزادی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ مشرقی جرمنی کی کیمونسٹ پارٹی کے ہٹ دھرم ارباب بست و کشاد اس بات پرڈٹے ہوئے تھے کہ وہ اپنی حکومت کے خلاف مزاحمت کو کچل کر دم لیں گے۔ بدنام زمانہ خفیہ سروس ”اسٹاسی“ کے جاسوسوں کو مزاحمت کرنے والوں کے خلاف مصروف عمل کر دیا گیا۔ اسٹاس کے کارندوں کی مصروفیات اتنی بڑھ گئیں کہ انہیں اوور ٹائم کرنا پڑتا تھا۔ ستمبر 1989ء میں ہنگری نے اپنی سرحدیں کھول دیں تا کہ مشرقی جرمنی اور مغربی جرمنی منتقل ہونے کے خواہشمند لوگ ہنگری پہنچ کر مغربی جرمنی جا سکیں۔ مشرقی جرمنی سے ہزاروں جرمن آسٹریا کے راستے مغربی جرمنی پہنچے۔ مشرقی بلاک کے نظم و ضبط میں دراڑ پڑنے سے مشرقی جرمنی کے لوگوں میں صدائے اجتماع بلند کرنے کا حوصلہ بڑھتاگیا اور احتجاج کرنے والوں کی تعداد روز بروز بڑھتی گئی۔ نوبت یہ اینجارسید کہ عین اس وقت جب مشرقی برلن میں قیادت عوامی جمہوریہ جرمنی کے قیام کی 40ویں سالگرہ منا رہی تھی اور اس سلسلے میں پر شکوہ پریڈ اور دیگر تقریبات ہو رہی تھیں۔ لپزگ میں مظاہروں کی وجہ سے ٹریفک مفلوج اور درہم برہم ہو چکی تھی۔ انتہائی اقدام کے طور پر ایرک ہونیکر نے سوشلسٹ یونٹی پارٹی (SED) کے چیئرمین کے عہد ے سے استعفیٰ دے دیا۔ اور ان کی جگہ ایگون کرنز پارٹی کا سیکرٹری جنرل اور سربراہ مملکت مقرر کیا گیا۔ عوام سڑکوں پر نکل آئے اور بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ کی وجہ سے وزارتی کونسل اور SEDپولیٹیکل بیورو کے ارکان مستعفی ہو گئے۔ بالآخر اس غیر متشدد تبدیلی سے جسے نرم انقلاب کا نام دیا گیا تھا مملکت کے تمام ستون اور محکمے مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گئے جیسے آج جموں کشمیر میں پائی جانے والی مبینہ صورت حال ہے،انتشار اور بے یقینی کی کیفیت کو مشرقی جرمن انتظامیہ کے جاری کردہ ایک فرمان کی مبہم عبارت نے ابتر کر دیا۔ اس فرمان کے تحت مغرب کی جانب سفر کرنے پر عائد پابندیاں نرم کی گئی تھیں جس کی وجہ سے 9نومبر 1998ء کو مشرقی جرمنی کے لاکھوں باشندے اپنا گھر بار چھوڑ کر مغربی برلن اور وفاقی جمہوریہ جرمنی کے دوسرے علاقوں میں منتقل ہو گئے۔ مشرق سے نکلنے والے لوگوں کے اس سیل رواں کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ دوسری طرف مغربی جرمنی کے شہریوں نے ان کا پرجوش خیر مقدم کیا۔ دیواربرلن جو دونوں طرف کے جرمنوں کے درمیان سدراہ بنی ہوئی تھی ہزاروں جرمنوں کے جوش و جنوں کی تاب نہ لا کر مٹ گئی جن میں سے ہر شخص تقسیم اور نفرت کی اس علامت کا ٹکڑا بطور یادگار حاصل کرنے کا متمنی تھا۔سویت یونین کے سخت ظالمانا روئیے اور بہیمیانہ رد عمل کے باوجود مشرقی جرمنی کے لوگ ڈٹ گئے اور آخر کار گوربا چوف میخائل کو یہ فیصلہ کرنا پڑا کہ مشرقی جرمنی کے لوگوں کی آزادی کے خواب کو چکنا چور کرنے سے معاملہ روز بروز بگڑتا چلا جائے گا اور سویت یونین مزید بدحالی اور انتشار کا شکار ہو کر بکھر جائے گا۔ آخر وہی ہوا کہ پاکستان اور افغانی مجاہدوں نے سویت یونین کا جنازہ نکال کر چھوڑا۔ پاکستان کے مشرقی بازو کو کاٹ کر بنگلہ دیش بنانے والا سفید ریچھ آخر کار اپنے ملک کے ایک نہیں کئی بازو کٹوا بیٹھا، یہ ہے مکافات عمل جس سے بھارت کو سبق سیکھ لینا چاہیئے۔ تاریخی حقائق متنبہ کر رہے ہیں کہ بھارت باز آ جائے ورنہ سویت یونین سے زیادہ بکھر جائے گا اور اس سلسلے کو امریکہ بھی نہیں روک پائے گا۔ یہ وہ عالمی طاقتیں ہیں جنہوں نے پاکستان کو کمزور سمجھ کر اس کا مشرقی بازو کاٹا اور مودی سرکار نے بغلیں بجائیں امریکہ بھی خفیہ جشن مناتا رہا وہ دن دور نہیں کہ بھارت اور امریکہ بھی اس عذاب میں مبتلا ہو کر رہیں گے لیکن ہم بغلیں اور جشن نہیں منائیں گے بلکہ ہم محفل میلاد منائیں گے اور ان ظالموں کو جو ہمارے پیارے نبیﷺ کی شان میں گستاخیاں کرتے آ رہے ہیں ان کے منہ میں خاک ڈالیں گے امریکہ اور بھارت کو یہ بات سمجھ لینی چاہیئے کہ مسلمانوں پر ظلم و ستم ان کو بہت مہنگا پڑے گا یہ ہمارے جہادی لوگوں کو خرید کر ہمارے غموں اور دکھوں میں اضافہ کر سکتے ہیں کر لیں۔ مستقبل میں لکھے جانے والے تاریخی حقائق انکی سوچ سے بھی بڑھ کر ہونگے۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھ رہا ہے اسلام کے پرچم کو کبھی سرنگوں نہیں ہونے دے گا۔ آخر کار کفر کا ہی منہ کالا ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں  ہار نہیں مانوں گا، کنیریا