پاکستانتازہ ترین

نئے مالی سال 2012-13 کا وفاقی بجٹ کل جمعہ کو پیش ہوگا

اسلام آباد(بیوروچیف) وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی سربراہی میں حکومت کی اقتصادی ٹیم نئے مالی سال 2012-13 کا وفاقی بجٹ جمعہ کو پیش کرے گی۔ تاریخ میں کسی بھی جمہوری حکومت کا تواتر کے ساتھ پہلی بار یہ پانچواں بجٹ ہے ، جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 25فیصد تک اضافے کا اعلان متوقع ہے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا حتمی فیصلہ کابینہ کرے گی۔ ذرائع کے مطابق انتخابی سال ہونے کے باعث نیا ٹیکس نہ لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ،جبکہ حکومت ایک لاکھ نئے روزگار کے مواقع کا اعلان کرے گی۔ ذرائع کے مطابق نئے مالی سال کے بجٹ کا کا حجم 29 کھرب75 ارب روپے رکھے جانے کا امکان ہے، این ایف سی ایوارڈز کے تحت صوبوں کو فنڈز کی 18فیصد اضافی فنڈز کی فراہمی کا فیصلہ کیا گیا ہے ،جس کے تحت صوبوں کو نئے سال میں 1245ارب کی بجائے 1427 ارب روپے کے فنڈز دیئے جائیں گے۔ نئے مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس وصولیوں کا ہدف 2330ارب تجویز کیا گیا ہے ، ٹیکس بیس میں اضافے سے 80ارب سے زائد ٹیکس وصولیاں ممکن ہوں گی ، بجٹ دستاویزکے مطابق نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 562ارب سے بڑھا کر 737ارب کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے، انکم ٹیکس میں چھوٹ ساڑھے تین لاکھ سے بڑھا کر چار لاکھ کئے جانے کا امکان ہے جبکہ الکوحل بیوریجز اور شراب پر دس فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں پانچ فیصد اضافے کی تجویز ہے، صنعتی خام مال کی درآمد پر ڈیوٹی میں نمایاں کمی کئے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق نئے مالی سال میں مالیاتی خسارے کا ہدف 4.9فیصد مقرر کیاگیا ہے، بجٹ سٹریٹجی پیپر کے مطابق مالیاتی خسارے کا ہدف 4.2فیصد رکھا گیا تھا ، اسی طرح سبسڈی اور تنخواہوں میں متوقع اضافے کے باعث مالیاتی خسارے کا ہدف بڑھایا گیا ، سبسڈی کی مد میں رکھے گئے 120ارب کے فنڈز بڑھا کر 150ارب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ، سبسڈی کا بڑا حصہ توانائی کے شعبے اور بیس ارب فرٹیلائز کی مد میں مختص ہوگا، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے 60ارب روپے مختص کئے جانے کا امکان ہے۔ نئے مالی سال کیلئے سالانہ ترقیاتی پروگرام 873 ارب روپے کا ہوگا، جس میں وفاق کا حصہ 360 ارب روپے اور صوبوں کیلئے 513 ارب روپے مختص کئے گئے ، پی ایس ڈی پی کے علاوہ ترقیاتی مدوں میں 100ارب کے اضافی فنڈز کی فراہمی کا بھی امکان ہے۔ آئندہ مالی سال کیلئے اقتصادی شرح نمو کا ہدف 4.3 فیصد مقرر کیا جارہا ہے ، جس میں زراعت کی ترقی کا ہدف 4 فیصد ، فصلوں کی شرح نمو 4 فیصد جبکہ لائیو سٹاک کیلئے 4.2 فیصد کا ہدف مقرراور مینوفیکچرنگ شعبہ کی نمو کا ہدف 4.1 فیصد اور خدمات کا ہدف 4.6 فیصد مقرر کیا جارہا ہے جبکہ دفاع کے لئے545ارب روپے مختص کئے جانے کا امکان ہے

یہ بھی پڑھیں  مریم نواز آج اپنی 44 سالگرہ منا رہی ہیں

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker