آصف یٰسین لانگوتازہ ترینکالم

بجٹ اور بلوچستان عوام کی توقعات

جمعرات کے دن بلوچستان کے معروف نوجوان و صوبائی وزیر مشیر خزانہ میر خالد خان لانگو نے صوبائی اسمبلی بلوچستان میں بجٹ 2014-2015 ء پیش کیا ۔ بزرگ و گہری نگاہ پسند لوگوں نے میر خالد خان لانگو کی بجٹ کی تعریف اس قدر کی ہے کہ بلوچستان کی تاریخ کا پہلا سب سے بہترین بجٹ اس ٹیکنوکریٹ نوجوان صوبائی وزیر خزانہ نے پیش کی ہے ۔جس سے عوام اور ملازمین میں خوشی کی لہر پیدا ہوئی ہے ۔ اس سے قبل شاید ایسا کوئی بجٹ پیش ہوا ہو۔ پاکستان کا سب سے بڑا اور امیر و قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ سب سے آگے و ترقی یافتہ ہونے کے بجائے سب سے پیچھے اور پسماندہ ترین صوبہ کا درجہ رکھتا ہے ۔ لوگوں کا الزام ہے کہ بلوچستان عوام کی محرومی کی وجہ سردار اور نواب لوگ ہیں لیکن درحقیقت یہ ایک غلط تاثر ہے۔ کیوں کہ سردار وں اور نوابوں نے آج تک کسی بچے کا ہاتھ تھام کر اسے ہتھیار تھمایا یا اسے گمراہ نہیں کیا ہے۔ اور نہ ہی کسی کے ہاتھ سے قلم اورکتابیں چھینی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے سرداروں و نوابوں نے ہمیشہ بلوچ قوم کی ترقی اور خوشحالی کی طرف قدم بڑھانے کی ہمیشہ کو شش کی ہے ۔ محرومی تو بہت ہے مگر پاکستان کی حکومت اعلیٰ کی غلطیاں و نا انصافیوں نے بلوچستان کو کافی نقصان پہنچایا ہے ۔ حکمرانوں ابتداءِ پاکستان میں خان آف قلات کو دباؤ کا شکار بنا کر 1948ء میں خود مختار بلوچ سرزمیں بلوچستان کوپاکستان کا حصہ بنانے کے لئے اپنی ضد پوری کی تھی ۔ نوابوں و سرداروں کے ساتھ ہمیشہ حکومت اعلیٰ پاکستان نے دھوکہ جاری رکھا ہے ۔ ون یونٹ کے خاتمے کے بعد صوبائی درجہ 1971ء میں دیا لیکن پھر بھی لوگ تبدیل ضرور ہوئے مگر بلوچستان کے ساتھ ناروا سلوکی جاری رہا ہے ۔ بلوچستان کو صو بہ تو بنایا مگر اس کو لوٹنے کے لئے ہر ضد پوری کی گئی ہے ۔ خداداد تمام وسائل سے اسے حکمران محروم رکھتے گئے ۔ نواز شریف یا بے نظیر بھٹو سب نے قسم اٹھائی تھی کہ بلوچستان کو لوٹنا ہی ہے اور نوابوں و سرداروں کو بدنام کرنا ہے ۔ خیر سیاسی حکومت تو ٹھگ ہی نکلے بلوچستان کے لئے ۔ مشر ف نے آمریت کا ناجائز فائدہ اٹھا کرلاکھوں افغان کونا راض کر کے بلوچستان کے پشتوں علاقوں میں مقیم بنایا ۔ 8لاکھ سے زائد افغانی پشتون کو بلوچستان میں داخل کر کے پشتون اضلاع پشین ، زیارت، قلعہ سیف اللہ ، قلعہ عبداللہ، لورلائی اور چمن سمیت کوئٹہ میں بھی بلوچوں کی اکثریت کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش کی ضد پوری کی ۔ آخرکار حقوق مانگنے والے لوگوں کے خلاف آپریشن شروع کردی تاکہ بلوچ قوم کی زبان بند ہو جائے بلوچ کے چند عظیم سیاسی شخصیات کو قتل کر دیا جس میں مجید لانگو، بالاچ مری ،نواب اکبر بگٹی سمیت ہزاروں نوجوان قتل کر دیئے گئے ہیں ۔ قصور سب کا ہے مگر ناپاک نظریات کے مالک وقت کے ظالم حاکم پرویز مشرف نے بلوچستان کو سب سے زیادہ مالی و جانی نقصان پہنچا یا ہے ۔ اللہ کا شکر ہے کہ بلوچستان آباد اور قائم و دائم ہے ۔ بلوچستان کی تاریخ میں کسی بھی حکومت اعلیٰ نے کوئی نظر ثانی نہیں کی ہے ۔ اب جبکہ ایک عام آدمی وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبد المالک بلوچ کی شکل میں ہے اور وزیر خزانہ بلوچستان بھی ایک عام نوجوان ہے جس نے اپنی مدد آپ کے تحت اتنی بلند نام پیدا کی ہے ۔ 28 سالہ نوجوان ہر دل عزیز شخصیت ممتاز قبائلی رہنماء میر خالد خان لانگو نے محکمہ خزانہ کی وزارت کی زمہ داری سنبھالتے ہی عوامی مسائل کا حل تلاش کر لیا ۔ آفس کے اوقات کے پابند اور عوامی مسائل کے سنوائی اور حل کی خواہش مند ہیں ۔ جائز کام کو ترجیح دیکر فر فر کرنے والا نوجوان نے بلوچستان عوام کی دل جیت لیے ہیں۔ اس بار بلوچستان بجٹ میں بنانے میں دن رات ایک کر کے تاریخ ساز بجٹ پیش کیا ہے ۔ آج سے قبل ہر بجٹ پر بلوچستان عوام کو مایوسی ہی مایوسی ملی ہے لیکن اس بار عوام میں خوشی کی لہر پیدا ہو چکی ہے ۔ میر خالد خان لانگو نے بلوچستان کی تاریخ کا سب سے بڑی بجٹ کل رقم 215.713ارب روپے کا بجٹ پیش کر دیا ہے جہاں بجٹ میں محکمہ تعلیم اور محکمہ صحت کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے ۔
پانچ ارب روپے سے انڈو منٹ فنڈ کے تحت بلوچستان میں ایجوکیشن انڈو منٹ کمپنی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے ۔ جبکہ سکولوں اور کالجوں میں سہو لیات کی فراہمی کے لئے 324.884 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں ۔تعلیم کے ترقیاتی اور غیر ترقیاتی اخراجات کی مد میں بجٹ میں 16فیصد کا اضافہ کر کے ایک اچھا قدم بڑھایا ہے ۔200سے زائد اسکولوں کو مڈل کا درجہ دیا جائیگا جس کے لئے 750.00 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ 50 پچاس سے زائد سکولوں کو ہائی کیا درجہ دینے کے لئے 425.00 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔
ضلع آواران اور کیچ کے زلزلے سے متا ثر ہونے والے 160میں سے 23سکولوں کی دوبارہ تعمیر سمیت 80سکولوں کی مرمت اور تعمیر کے لئے بجٹ میں 200ملین مختص کیے ہیں۔ خضدار، تربت اور لورالائی میں انٹر میڈیٹ بورڈ قائم کیے جا رہے ہیں ، کلی شیخان پشتون آبادکوئٹہ، کان مہترزئی ، قلعہ سیف اللہ و شبود اور خالق آباد منگچر میں بوائز انٹرکالجز قائم کیے جا رہے ہیں ۔جبکہ کچلاک، ہرنائی، حب اور مچھ میں نئے گرلز انٹر کالجز کا پروگرام ہے ۔سبی میں ایک یونیو رسٹی اور گوادر میں کام سیٹ یو نیورسٹی کے قیام کا بھی اعلان کیا ۔ صحت کے لئے بھی بہت اہم رول ادا کر کے گزشتہ برس کی بجٹ سے 26 فیصد اضافہ کیا ہے ۔ ای پی آئی کو ریج کو بہتر بنا نے کے لئے 70 نئے ویکسی نیشن سینٹرز کھولے جائینگے اور آئندہ مالی سال میں 1.214بلین روپے کی مفت ادویات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ صحت مند بلوچستان منصوبے کے تحت 500 دل کے مریضوں کو مفت علاج فراہم کیا جائیگا۔ پولیو وائرس سے بلوچستان کو پاک بنایا گیا ہے جس میں بلوچ و پشتون قبائلی لوگوں کی تعاون رہی ہے ۔پی ایس ڈی پی کیلئے 50.742بلین روپے مختص کیے گیے ہیں جس میں بیرونی تعاون کا حصہ 2.723بلین روہے جبکہ غیر ترقیاتی بجٹ 164.97بلین ہوگا۔
میر خالد خان لانگو سب سے اہم ترین مسئلہ بے روزگاری کو نظر ثانی فرماتے ہوئے تقریباَ لگ پھگ 4000اسامیاں پر کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے جو بلوچستان کی تاریخ کا سب سے اہم فیصلہ ہے ۔ اس سے قبل ایسا کبھی نہیں ہوا ۔ بے روزگاری بلوچستان میں اہم مسئلہ ہے جس سے نوجوان غصہ کر کے مجبوری طور پر بھی پہاڑوں پر جانے کی تمنا رکھتے ہیں اس سے کافی بہتری آئے گی۔ اور ملازمین میں مرعات کا بھی دینے کا اعلان کیا ۔بجٹ میں ریونیو اخراجات کا تخمینہ135.050 فیصد ، صوبے کی اپنے وسائل سے آمدن کا تخمینہ 8.970 بلین روپے جبکہ وفاق سے حاصل ہونے والی آمدنی میں سے قابل تقسیم پول سے 141.213 بلین براہ راست منتقلی 16.858 بلین دیگر 10.000 بلین جبکہ کیپٹل محصولات 23.279 ارب ہوگا۔ بجٹ میں آمدن کا کل تخمینہ 200.051 بلین ہے جبکہ بجٹ خسارہ 15.662 بلین روپے ہوگا۔ امن و امان کے لئے غیر ترقیاتی بجٹ میں17251.118ملین روپے مختص کیے گئے ہیں جو موجودہ مالی سال کے مقابلے میں200 فیصدزیادہ ہے اور یہی مختص پچھلی حکومت کی امن و امان کی کے مختص کی گئی رقم سے 900 فیصد زیادہ ہے ۔
دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں کی تربیت کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے جس سے بہتری کے امکانات صاف ظا ہر ہوتے ہیں ۔اس بجٹ میں توانائی کی بحران کو کم کرنے کے لئے 3235.775ملین روپے مختص کئے گئے ہیں جو موجودہ مالی سال کی بجٹ سے میر خالد لانگو نے 25فیصد اضافہ کیا ہے ۔جہا ں ایک ارب روپے کی لاگت سے شمسی توانائی کا پروجیکٹ شروع کیا جائیگا جس سے 300 دیہات کو بجلی فراہم کی جائیگی۔کوئٹہ میں جنا ح روڈ پر میو زیم اور صوبائی لائبریری کی تعمیر کے لئے 95 ملین اور زیارت میں محسن بر صغیر قائد اعظم محمد علی جنا ح کی ریزیڈنسی کی تعمیر و مرمت کے لئے 50 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
بحرحال ! میرخالد خان لانگو وزیر خزانہ نے بلوچستان کے ملازمین کی ریٹائر منٹ ، لون اور دیگر پیکجز کو فوراََ حل کرنے کی جو زمہ داریاں نبھائی ہیں شاید آج سے پہلے کبھی ہواہو۔ گزشتہ روز ایک66 سالہ شخص بتا رہا تھا کہ میر خالد لانگو کی زاتی دل چسپی کی وجہ سے اس کا کام جو گزشتہ 6سالوں سے نہیں ہو رہا تھا جسے ٹریزری و ڈی جی سے چند گھنٹوں میں کرواکر بوڑھے کی عمر بھر کی دعا وصول کرلی۔
اس بجٹ میں بلوچستان کے لے بہت کچھ ہے ۔ انشاء اللہ اس حکومت کی بجٹ عوام کے لئے بہت مفید ثابت ہوگی۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button