تازہ ترینطارق حسین بٹکالم

۔،۔ بحران کا واحد حل ۔،۔

TARIQ BUTTآج کل پی پی پی اپنی سب سے بڑی سیاسی حریف مسلم لیگ (ن) کا دفاع کر رہی ہے جسے وہ کسی زمانے میں خود جمہوریت کی دشمن اور قاتل کہا کرتی تھی۔یہ دن بھی جیالوں نے دیکھنے تھے کہ جنرل ضیا ا لحق کی باقیات کا مقدمہ پی پی پی لڑے گی اورایسی بے خودی سے لڑے گی کہ جیالے کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں ر ہیں گئے ۔ مسلم لیگ(ن) کی تو سمجھ آتی ہے کہ اس کی مرکز میں حکو مت ہے اور اس کا تحر یکِ ا نصا ف سے الجھنا بھی سمجھ میں آتا ہے لیکن پی پی پی کس بنیاد پر طوفان اٹھا کر تحریکِ انصاف سے الجھ رہی ہے؟مسلم لیگ (ن) نے بڑی ہی دانشمندی سے پی پی پی کے غبارے میں ہوا بھر کر اسے آگے کر دیا ہے اور اسے جمہوریت بچاؤ کا لالی پاپ تھما دیا ہے۔اب حالت یہ ہے کہ مسلم لیگ(ن) کی حکومت کو بچانا پی پی پی کا فرضِ اولین بن گیا ہے کیونکہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو بچانا جمہوریت بچانے کے مترا دف ہے ۔ اب سوال یہ پید اہوتا ہے کہ اگر مسلم لیگ (ن) اس جگاڑ سے نکل گئی تو وہ اس فتح کا سار ا کریڈٹ اپنے کھاتے میں ڈ ال کر سارے ثمرات خود سمیٹ لے گی اور پی پی پی کے ہاتھ کچھ نہیں آئیگا ؟پی پی پی کی قیادت کو یہ احساس نہیں ہو رہا کہ وہ آگ سے کھیل رہی ہے جو اسے بھسم کر کے رکھ دے گی۔اس وقت پاکستانی سیاست کا سارا محور تحریکِ انصاف اور مسلم لیگ (ن) بنی ہوئی ہیں جس میں پی پی پی وچولے کا کردار ادا کر رہی ہے ۔ اگر میں یہ کہوں کہ پی پی پی مسلم لیگ (ن) کی بی ٹیم بنی ہوئی ہے تو بے جا نہ ہوگا ۔ایک زمانہ تھا کہ دوسری جماعتیں پی پی پی کی بی ٹیم ہوا کرتی تھیں لیکن اب حالت یہ ہو گئی ہے کہ پی پی پی جیسی ملک گیر جماعت کو مسلم لیگ (ن) کی بی ٹیم کا کردار ادا کرنا پڑ رہا ہے جسے جیالے تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں۔سچ تو یہ ہے کہ جو سیاسی جماعت بھی بی ٹیم قرار پاتی ہے سیاست میں اس کا مٹ جانا اٹل ہوتاہے۔مسلم لیگ(جونیجو گروپ)، مسلم لیگ (چٹھہ گروپ) مسلم لیگ (ہم خیال گروپ) ، مسلم لیگ(جناح گروپ) اور پی پی پی پیٹر یا ٹک گروپ کہاں ہیں وہ تو ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتے کیونکہ وہ بی ٹیم کا رول ادا کیا کرتے تھے اور بی ٹیم کا رول بس ایک مخصوص وقت کیلئے ہی ہوتا ہے اس کے بعد اس کا رول چونکہ ختم ہو جاتا ہے لہذا وہ جماعت خود بخودتاریخ کا حصہ بن جاتی ہے۔ایک وقت تھا کہ پی پی پی پنجاب کی سب سے مضبوط جماعت ہوا کرتی تھی لیکن ۲۰۱۳ ؁ کے انتخابات میں اس کا پورے پنجاب سے ایک ممبر بھی منتخب نہیں ہو سکا ۔ اس کی کوئی نہ کوئی وجہ تو ہوگی کہ اتنی بڑی جماعت کا پنجاب سے صفایا ٰکیوں ہو گیا ہے؟اس وقت حا لت یہ ہے کہ پا کستان تحریکِ انصا ف کے کئی جواں سال کارکن موجودہ اسمبلی میں برا جمان ہیں لیکن پی پی پی کے سکے بند،منجھے ہوئے اور تجربہ کار پارلیمنٹیرین اسمبلی سے باہر بیٹھے ہوئے ہیں جو قوم کے ساتھ زیادتی ہے۔ایسے افراد کو اسمبلی کے اندر ہونا چائیے کیونکہ ان کی ذہانت،تجربہ اور دیانتداری اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ وہ اپنی فہم و فراست سے پاکستان کی خد مت کریں اور ملک کیلئے ایسے اعلی قوانین بنائیں جس سے اس ملک کا مقدر سنور جائے لیکن پی پی پی کے غیر عوامی اندازِ سیاست نے انھیں اسمبلی سے باہر کیا ہوا ہے ۔اب فرض کر لیں کہ مسلم لیگ(ن) اس بحران کا شکار ہو کر نئے انتخا بات میں چلی جاتی ہے تو پھر بھی پی پی پی کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا بلکہ سارے ثمرات تحریکِ انصاف سمیٹ لے گی؟گویا کہ مسلم لیگ(ن) اور تحر یکِ انصاف ہی سیاسی فوائد و نقصان کی محور بنی ہوئی ہیں جبکہ پی پی پی رنگ سے باہر کھڑی تماشہ دیکھ رہی ہے ۔ کوئی اس بات کو تسلیم کرے یا نہ کرے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف اس وقت پنجاب کی مقبول ترین جماعت ہے ۔ اب جب کبھی بھی یدھ پڑے گا وہ مسلم لیگ (ن) اور تحریکِ انصاف کے درمیان ہی ہو گا کیونکہ وچولوں کا کوئی مقام نہیں ہوتا۔پی پی پی اگر اپنا وجود منوانا چاہتی ہے تو اسے جمعہ جنج نال بننے کی بجائے میاں محمد نواز شریف کے خلاف ڈٹ جانا چائیے اور ایک ایسی حکومت کے قیام کی کوششیں کرنی چائیں جو عوامی امنگوں کی ترجمان ہو، جس میں عوام کے حقوق کی ضمانت موجود ہو،جہاں کرپشن حرام ہو اور جس میں عوام کو بھیڑ بکریاں نہ سمجھا جاتا ہو۔،۔
پی پی پی اس وقت غیر محسوس انداز میں مسلم لیگ (ن) کی ساری سیاسی غلطیوں ، زیادتیوں اور کوتاہیوں کا ملبہ اٹھائے ہوئے ہے ۔اسے اس وقت ا حساس نہیں ہو رہا کہ وہ کیا کر رہی ہے لیکن جب یہ وقت نکل جائیگا تو اسے ا حساس ہو گا کہ وہ کتنی بڑی غلطی کی مرتکب ہو چکی ہے لیکن اس وقت پلوں کے نیچے سے پانی گزر چکا ہو گا ۔ پی پی پی ذولفقار علی بھٹو کی جماعت ہے جس نے محروم طبقا ت کیلئے تاریخی جدو جہد کی تھی ۔ پی پی پی اور محروم طبقات کے درمیان ایک فطری اتحاد ہے لیکن پی پی پی کی قیادت نے میاں برادران کی خو شنودی میں اپنے روائتی ووٹر کو بھی ناراض کر لیا ہے۔پی پی پی کے جیالوں کا تو کوئی پرسانِ حا ل نہیں کیونکہ وہ میاں برادران کے ساتھ اس طرح کے سمجھوتوں کے قائل نہیں ہیں ۔وہ ذولفقار علی بھٹو کی اس سیاست کے پیرو کار ہیں جس میں عوامی مفاد کو جان کا سودا چکا کر بھی پورا کیا جاتاہے۔ میاں برادران کو بچانا جمہوریت کی خدمت نہیں بلکہ جمہوریت کے ساتھ دشمنی ہے۔ ایک ایسی جماعت جس کے ہاتھ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں بے گناہوں کے خو ن سے رنگے ہوئے ہوں اس کی حمائت میں پی پی پی کا سینہ تان کر کھڑا ہو جا نا سب کیلئے باعثِ حیرت بنا ہوا ہے۔ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں بھی ہماری طرح پارلیمانی جمہوریت کا دور دورہ ہے لیکن وہاں پر کسی کی حکومت اس وجہ سے نہیں بچائی جاتی کہ حکومت ختم ہونے سے جمہوریت کو دھچکا لگے گا۔جنتا دل کے راہنما اور بھارتی وزیرِ اعظم وشوا ناتھ پرتاب سنگھ نے کانگریس کو شکست دے کر اپنی حکومت قائم کی لیکن تھوڑے ہی عرصے کے بعد جنتا دل کے ایک اور راہنما چندر شیکر نے اسمبلی کے اندر ایک فارورڈ بلاک بنا لیا جس کی وجہ سے وشوا ناتھ پرتاب سنگھ سمبلی میں اپنی اکثریت کھو بیٹھا ۔اس کے خلاف عدمِ اعتماد کی تحریک لائی گئی اور یوں وشوا ناتھ پرتاب سنگھ کو مستعفی ہونا پڑا ۔ جنتا دل کے راہنما چندر شیکر نئے وزیرِ اعظم بنے ،انھیں کانگریس کی سپورٹ حا صل تھی لیکن کانگریس نے چند مہینوں کے بعد چندر شیکر سے اپنی حمائت واپس لے لی اور یوں چندر شیکر کو اسمبلی توڑ کر نئے انتخا بات کا اعلان کرنا پڑا ۔یہ وہی بھارتی انتخابات ہیں جس میں راجیو گاندھی ایک خود کش حملے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے اور کانگریس اکثریتی جماعت بن کر ابھری تھی اور نرسما راؤ نے وزیرِ اعظم کا منصب سنبھالا تھا ۔بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی ) کے راہنما اٹل بہاری واچپائی کو بھی مڈ ٹرم انتخا بات کا سامنا کرنا پڑا تھا لہذا جمہوریت میں مڈ ٹرم انتخا بات کوئی انہونی بات نہیں ہوتی بلکہ یہ بھی جمہوری تسلسل ہوتا ہے جس سے جمہو ریت مزید مضبوط ہوتی ہے۔ بھار ت میں کبھی یہ توجیہ پیش نہیں کی جاتی کہ نئے انتخابات سے جمہورت کو خطرہ ہے لہذا اسمبلی اپنی مدت پوری کریگی اور ہم کسی کی حکومت گرانے نہیں دیں گئے ۔ ہمارے ہاں تو پی پی پی یہ راگ الاپ رہی ہے کہ ہم میاں نواز شریف کی حکومت کسی بھی صو رت میں گر نے نہیں دیں گئے کیونکہ میاں محمد نواز شریف کی حکومت جمہوریت کی علامت ہے۔پتہ نہیں میاں برادران جمہوریت کی علامت کب سے بن گئے ہیں؟پاکستان کی پچیدہ سیاسی صورتِ حال اس بات کی متقاضی ہے کہ یہاں پر مڈ ٹرم انتخابات کا ڈول ڈالا جائے کیونکہ معاملات اتنے گھمبیر ہو چکے ہیں کہ یہ کسی بھی طرح سلجھائے نہیں جا سکتے کیونکہ اب معاملہ سیاسی سے زیادہ انا پرستی کا مظہربن چکا ہے اور کوئی فریق بھی اپنی شکست کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔سیاست میں انانیت نہیں ہوتی بلکہ صورتِ حا ل کے مطابق اپنی حکمتِ عملی ترتیب دی جاتی ہے اور پھر اس کے مطابق عمل پیرا ہوا جاتا ہے۔اس وقت عمران خان استعفے کے بغیر واپس نہیں جانا چاہتے جبکہ میاں محمد نواز شریف مستعفی ہونے سے منکر ہیں جسے پی پی پی مزید ہوا دے رہی ہے ۔اگر ہم واقعی اس بات میں سنجیدہ ہیں کہ ہمیں جمہوریت کیلئے راستہ بنانا ہے تو پھر مڈ ٹرم انتخا بات کے علا وہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے جو پاکستان کو موجودہ بحران سے نکال سکے۔اس کی وجہ بڑی واضح ہے کہ انتخا بات ۲۰۱۳ ؁ میں وسیع پیمانے پر دھاندلی ہوئی تھی جس پر ساری سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہے ۔کاش حکومت مڈ ٹرم انتخابات پر سنجیدگی سے غور کرنے کیلئے آگے بڑھے تا کہ موجودہ بحران کا افہام و تفہیم سے خاتمہ ہو سکے۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker