تازہ ترینشیر محمد اعوانکالم

بلبلہ

sher muhammad awanوطنِ عزیز میں ایک بار پھر انقلاب کا خواب شرمندۂ تعبیر ہونے یا پھر شایدشرمندہ ہونے کے قریب ہے۔ بہرحال اس نیند زدہ قوم کو ایک بار پھر خواب دکھایا جا رہا ہے بلکہ دکھا دیا گیا ہے۔ اب تو تعبیر کا انتظار ہے جو کہ جوتشی پہلے ہی بتا چکا ہے۔ انتظار اس لئے ہے کہ تعبیر کی تاریخ بھی بتا دی گئی ہے۔ بہرحال اس حسین خواب کے چند ڈراؤنے پہلوؤں کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ چند روز پہلے مینارِ پاکستان پر ایک عظیم الشان جلسے سے خطاب میں محترم طاہرالقادری صاحب نے شفاف الیکشن کا مطالبہ کیا۔ اگرچہ اس میں دو بڑی سیاسی پارٹیوں کی مخالفت زیادہ نظر آئی۔ بہرحال انہوں نے اپنی گزارشات پیش کیں کہ پہلے الیکشن سسٹم ٹھیک کیا جائے اس کے بعد الیکشن ہوگا اور ساتھ ہی دھمکی آمیز تنبیہ بھی کی کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو 14 جنوری کو وہ لانگ مارچ کریں گے اور مطالبات پورے ہونے تک وہاں سے نہیں ہٹیں گے۔ ویسے وہاں سے نہ ہٹنے والا کام تو شاید مسافت زدہ اور آبلہ پا عوام کے حصے میں آئے گا۔ کیونکہ لیڈر تو بلٹ پروف کیبن، لگژری گاڑی یا لگژری فلیٹ میں ہونگے۔
قادری صاحب کبھی نگران حکومت کی ذمہ داری کے لئے راضی تو کبھی اس ذمہ داری سے کنارہ کرتے نظر آتے ہیں۔ مذہبی حلقوں میں بھی کافی متنازعہ شخصیت ہیں اور ان کے ماتھے پر کینڈا کی شہریت کا ٹیکہ ان کی حب الوطنی پر سوالیہ نشان ہے۔ ہائی کورٹ کی رپورٹ اس سے بھی بڑا طمانچہ ہے اور انٹرنیٹ پر احمقانہ اور دوغلے پن کو دکھاتی ہوئی ویڈیوز بھی بہت برا عکس پیش کرتی ہیں۔ لیکن بہت سے پڑھے لکھے ہوئے لوگوں کے مطابق شخصیت نہیں نظریہ کو مدِ نظر رکھنا چاہئے۔ یہ عجیب و غریب فلسفہ تو خیر حلق سے نہیں اترتا۔ بہرحال یہاں مقصد کردار کشی نہیں اس لئے اس بات کو پسِ پشت ڈال بھی دیں تو بھی جو سیاسی جوڑ توڑ وہ کر رہے ہیں وہ ان کے نظریہ کا گلا گھونٹ چکا ہے۔ پچھلے پندرہ سال سے حکومت کا حصہ رہنے اور ڈکٹیٹر کی ہاں میں ہاں ملانے والی ایم کیوایم اور اسی ڈکٹیٹر کی گود میں پرورش پانے والی ق لیگ جنہیں طاہرالقادری صاحب نے اپنی لانگ مارچ ٹرین کا ایندھن بنا یا ہے یہ دونوں موجودہ حکومت کا بھی حصہ ہیں تو یہ احتجاج کا ڈرامہ کرکے ظلم کی چکی میں پسی عوام کو بیوقوف کیوں بنایا جا رہا ہے۔ مستعفی یہ نہیں ہوئے ، ابھی بھی حکومت کا حصہ ہیں۔ ق لیگ تو نومولود نشت پر براجمان ہے۔ کیسا انوکھا احتجاج ہے کہ ڈپٹی وزیر اعظم صدر اور وزیر اعظم کا مشکور و ممنون بھی ہے اور سراپا احتجاج بھی(انوکھا لاڈلا۔۔۔کھیلن کو مانگے چاند) ۔
ان سے بہت زیادہ عقیدت رکھنے کے باوجود انتہائی معذرت کے ساتھ یہ عرض ہے کہ ان کا نظریہ بہت اچھا ہے اور شاید ہی کوئی شخص ہوگا جو ایسا چاہے گا کہ کوئی ایسا سسٹم نہ ہو۔ لیکن ان کے قول و فعل میں تضاد ، روزانہ بدلتا رنگ، بدلتے بیانات اور الیکشن سے عین پہلے یہ دھما چوکڑی یہ چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ یہ سب کچھ ایسا نہیں جیسا دکھایا جا رہاہے۔ کچھ لوگ تو یہ بھی خیال کر رہے ہیں کہ شاید حکمران جماعت بھی کہیں نہ کہیں ان کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ کیونکہ گیلانی PPP کے شریک چیئرمیں بننے جا رہیں ہیں اور صدرِ مملکت ظاہری طور پر سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنے والے ہیں۔ بہرحال اس تاثر کو غلط کرنے کے لئے رحمٰن ملک صاحب ہمیشہ کی طرح سیاسی بھانڈ کا کردار ادا کر کے ان شکوک و شبہات کو رفع دفع کرنے میں کسی حد تک کامیاب ہو گئے ہیں۔ ق لیگ کے سربراہ اپنے ہی حلقہ میں ہار کر اپنی مقبولیت ظاہر کر چکے ہیں اس لئے ان کے ساتھ ہونے یا نہ ہونے سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ بہرحال ملکہ برطانیہ کی گود میں پناہ گزین جو ایک اندازے کے مطابق کبھی بھی پاکستان آنے والے نہیں ہیں اور کینیڈا کے نووارد علامہ نے پاکستانی عوام کی خستہ حالی پر جو فیصلہ لیا ہے اور اکھٹے ہوئے ہیں اس کے پیچھے بین الاقوامی ممالک کا آشیرباد ہے یا اپنے ہی ملک کے کسی بااثر ادارے کا۔ بہرحال یہ سب اس سسکتی، بلکتی، کانپتی ، لڑکھراتی جمہوریت کو ہزیمت پہنچانے کی طرف ایک گھناؤنا قدم ہے۔ اگرچہ چیف کیانی صاحب کی سابقہ خدمات اور اقدامات کو دیکھا جائے تو فوج پاکدامن نظر آتی ہے لیکن ملک میں ایک بہت بڑا حلقہ کسی نہ کسی نہج پر اس کے پیچھے فوج کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ کیونکہ اگر ان کے مطالبات پورے نہیں ہوتے تو مڈبھیڑ ہوگی اس میں فوج خودبخود مجبور نظرآئے گی کہ وہ جمہوریت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دے۔
پاکستان کی بڑی سیاسی پارٹیوں کی متفقہ نگران حکومت انہیں قبول نہیں۔ الیکشن سسٹم اور نگران سیٹ اپ کے لئے انہیں ایسی خوبیوں والے بندے چاہئیں جو ویسے ہی ناپید ہیں حتیٰ کہ یہ مطالبہ کرنے والے خود بھی ان خوبیوں سے مبرا ہیں۔ قادری صاحب نے صادق وامین شخص کا مطالبہ کیا ہے لیکن صادق و امین کو جانچنے کا معیار نہیں بتایا ۔ شاید وہ جسے صادق و امین کہیں وہی صادق و امین ہوگا۔ جن پارٹیوں کو اس مقصد کے لئے ساتھ ملایا ہے ان کا دامن اتنا داغدار ہے کہ شرم بھی شرما جائے۔ روشنیوں کا شہر جہاں ایم کیو ایم کی فرعونیت چلتی ہے وہ مقتل گاہ بنا ہوا ہے۔ ہر شخص کو موت تعاقب کرتی نظر آتی ہے۔ کٹے سر، ادھڑے دھڑ، سڑکوں کو رنگین کرتی لاشیں، بین کرتی مائیں اور گلی گلی ظلم ستم پر نوحہ کناں عوام ان کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔اسپر فاروق ستار صاحب یہ بھی کہ رہے ہیں کہ ہم اس لیے علامہ صاحب کے ساتھ ہیں کہ ہمیں پنجاب میں اپنی جگہ بنانے کا موقع مل رہا ہے۔چند ماہ پہلے پاکستان اس سے بھی بد ترین دور میں تھا اور قادری صاحب بقول انکے صرف اس لیے نہیں آئے کہ لوگ ان کے خلاف ہو جائیں گے کہ یہ جمہوریت کے خلاف محاذ آرائی ہے۔حالانکہ اب بھی بات وہی ہے۔لیکن اس وقت ایک خوف کی وجہ سے ملک وقوم کی محبت سے نظریں کیوں چرا لی اور یہ کیسے پتہ چلے گا کہ کون ٹھیک ہے اور کون ٹھیک نہیں۔ کیاایم کیو ایم یا ق لیگ انتخاب کرے گی یا پھر مسٹر کینیڈا۔ جس کا پتہ ہی نہیں کہ کب بلاوا آ جائے اور وہ واپس کینیڈا پہنچ چکے ہوں۔
قادری صاحب کا نظریہ بہت اچھا تھا اگر و ہ اسے سیاسی رنگ نہ دیتے اور سیاسی گٹھ جوڑ نہ کرتے کیونکہ جس کرپشن کے خلاف آئے ہیں اسی کا بڑا حصہ ساتھ ملانے کے خواہاں ہیں اسی لیے ہی تو انکا کردار مشکوک ہو گیا ہے۔کرپٹ سسٹم اور کرپٹ حکومت کا خاتمہ کرنے کے لیے انہی لوگوں کو ساتھ ملا کہ احتجاج کرنا سمجھ سے بالا تر ہے ۔بہرحال ان سے یہ سوال ضرور ہے کہ اگر حکومت ان کی بات نہیں مانتی جو کہ وہ مانے گی بھی نہیں کیونکہ جمہوریت میں فردِ واحد کی بات کی اہمیت نہیں ہوتی ، اکثریت اہمیت رکھتی ہے۔ تو اس صورت میں قادری صاحب کیا کریں گے کتنے دن قیام فرمائیں گے۔ اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ ان کے ساتھ آئے لوگ توڑ پھوڑ کرے کے ملک کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ بہت سے لوگ تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ یہ شہرت اور فنڈ اکٹھا کرنے کا ایک نادر موقع ہے۔ انہیں ایسا نہیں کہنا چاہئے کیونکہ وہ آخر شیخ الاسلام کہلاتے ہیں۔ لیکن اگراب راستے میں کسی ناخدا نے کان میں پھونک مار دی تب بھی واپسی کا راستہ تو بچا ہی نہیں۔ اگر واپس ہوئے تو لوگوں کی یہ بات سچ ہو جائے گی۔ بہرحال انہوں نے اپنے پاؤں پر ایسی کلہاڑی ماری ہے جس کا زخم مندمل نہیں ہوگا۔
وطن عزیز کو دیمک کی طرح اسی لیے سیاستدان چاٹ رہے ہیں کہ کوئی مخلص نہیں مذہب اور جمہوریت کے نام پر اپنے مفادات حاصل کر رہے ہیں ہیں سب ۔اگر اس ملک میں جمہوریت ہوتی تو کیا ہم اتنی کرپشن کے باوجود ابھی تک دو چار لیڈروں کے آگے پیچھے ہوتے۔ جمہوریت مستحکم نہیں ہوتی تو اس کا ایک ہی حل ہے اور وہ ہے اور جمہوریت، اور جمہوریت، اور جمہوریت۔ اس لئے سیاسی پیادوں اور مذہبی جرنیلوں کو چاہئے کہ جمہوریت کی رانی کو مات دینے کے عزائم کو دفن کر دیں۔ الیکشن اپنے وقت پر ہونے چاہئیں۔ اس مقصد کے لئے کوشش کریں کہ شفاف الیکشن ہوں جو ایک اچھی جمہوریت کو بنیاد ہوں گے۔ یہ بھی گزارش ہے کہ اپنی جوشیلی تقریروں اور لفظی شعبدہ بازی سے ستم زدہ عوام کو بیوقوف نہ بنائیں اور اسے جھوٹی آس دلا کر اپنے مقاصد حاصل نہ کریں۔ کیونکہ آس جب ٹوٹتی ہے تو انسان کہیں کا نہیں رہتا۔ عوام کو بھی چاہئے کہ کسی کی شخصیت ، گفتگو، نظریات اور پارٹی سے متاثر ہو کر اس کا آلہ کاربننے سے پہلے لازمی سوچئے کہ اس سب کے پیچھے کیا مقاصد ہیں اور ملک کیلئے کیا فائدہ یا نقصان ہے ۔ کیونکہ شخصیات اور نظریات سے بھی آگے ہے کچھ اوروہ ہے پاکستان۔
پتھر پھینکے والا بڑی دور سے پتھر پھینکے
اورمیں صرف پڑوسی کے مکاں تک سوچوں

یہ بھی پڑھیں  آئی پی ایل کے سابق کمشنرللت مودی پرتاحیات پابندی

note

یہ بھی پڑھیے :

6 Comments

  1. salam shar saab app ny toh buhat he aacha colum lekha hi. likan sab ko toh azmaa kar dekah liya. abb tahir ul qadri saab ki bari hi.hamary mulaq may buhat paisa.

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker