تازہ ترینشیر محمد اعوانکالم

بلبلہ ( پارٹ ٹو)

sheer awanوہی ہوا نہ بدلتے موسم میں تم نے ہم کو بھلا دیا
کوئی بھی رت ہو نہ چاہتوں کو زوال ہوگا یہ طے ہوا تھا

ٹیکنالوجی نے اگرچہ بہت ترقی کر لی ہے لیکن بھائی لوگوں کا ڈرون راستے میں ٹھس ہوا اور(اخلاقی) فنی خرابی کی وجہ سے قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی ذات پر ہرزہ سرائی کی صورت میں گرا۔ یہ پہلا ڈرون اٹیک تھا جو پاکستان پر برطانیہ سے حملہ آور ہوا اس کے ساتھ ساتھ یہ دنیا کا پہلا ڈرون تھا جس کا اڑان سے چار دن قبل ہی واویلا کر دیا گیا ۔ بہت سے لوگ تو یہ سوچ کر پشیمان ہیں کہ رات کو نہایت نغمگین لہجے والے لیڈر نے پوری قوم کے سامنے اس عہد کی تجدید کی کہ جو بھی حالات ہوں لانگ مارچ میں شرکت بہت ضروری ہے لیکن چند ہی گھنٹوں کے اندر کرامت ہوئی اوروعدہ وفا نہ ہو سکا۔ عزائم ریت کی دیوار ثابت ہوئے اور لانگ مارچ میں شرکت سے انکار کردیا گیا۔ اخلاقی لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ درست نہیں لیکن کیا کریں صاحب اپنی سیاست کا مزاج ہی کچھ ایسا ہے۔ ماضی میں بھی MQM پنجاب گورنمنٹ سے کچھ ایسا ہی ہاتھ کر چکی ہے۔ اگرچہ کینیڈا والے گھاگھ انسان تھے لیکن برطانیہ سے دھوکہ کھا گے۔ اس تمام معاملے میں سوچنے والی بات یہ ہے کہ آخر MQM کاجذبہ حب الوطنی اور نام نہاد انقلابی نعرہ صابن کے جھاگ کی طرح کس لئے بیٹھ گیا۔
چند دن پہلے والے کالم ’’بلبلہ‘‘ میں جب محترم قادری صاحب اور محترم لندن بھائی کے بارے میں چند کھری باتیں لکھیں ۔ اس میں یہ بھی تحریر کیا کہ MQM کو ساتھ ملا کر قادری صاحب نے اپنے پاؤں پر کلہاڑا مارا ہے۔ ایک تو اس سے انہوں نے مارچ کو سیاسی رنگ دے دیا اور دوسرا اپنے لیڈر ہونے پر بھی سوالیہ نشان لگایا۔ MQM جو کہ مختلف ٹی وی چینلز میں یہ بات کر رہی تھی کہ وہ پنجاب میں صرف اپنی بیس بنانے آرہے ہیں کیونکہ پہلے وہ پنجاب میں مضبوط نہیں تھے بلکہ سرے سے ہیں ہی نہیں اور یہ انہیں ایک موقع مل رہا ہے۔ اس لئے جیسے ہی لگا کہ مقاصد پورے نہیں ہوئے تو وہ پیچھے ہٹ گئے۔ بحرحال مالی فائدہ تو انہوں نے اٹھا لیا۔ خشک میوہ جات اور عطیات اتنے اکٹھے ہو گئے کہ چند ماہ گزبآسانی گزر جائیں گے۔ لیکن قادری صاحب کو ان بیانات کے بعد خود علیھدگی اختیار کر کے ثابت کرنا چاہیے تھا کہ انکا ایجنڈا واقع ہی انقلاب ہے لیکن انہوں نے دیر کی۔
اب ایس ایم ایس سروس کے ذریعے یہ پیغام پھیلایا جا رہا ہے کہ شیر شکار کے لئے پہلے آگے آتا ہے پھر پیچھے ہٹتا ہے اور پھر پوزیشن دیکھ کرحملہ کرتا ہے یا پھر ارادہ ترک کر دیتا ہے۔ لیکن حقیقت پسند شخص جانتا ہے کہ یہ شیر بچے کھچے کے انتظار میں ہے۔ ویسے یہ بات بھی غور طلب ہے کہ ارادہ خود کیا یا پیچھے سے کسی نے دم کھینچ لی۔ویسے کارکنوں کی زیادتی ہے کہ انہوں نے اپنے ہر دل عزیز لیڈر کو جانور سے تشبیہ دی۔کچھ ماہرین کے مطابق تو یہ بھی ایک مک مکا ہے شاید انکا اشارہ حلقہ بندیوں کی طرف ہے۔بہرحال ان سے میری درخواست ہے کہ یہ لیڈری ان کے بس کی بات نہیں۔ ہاں! پاکستان کی حد تک تو ٹھیک ہے کیونکہ یہاں کی عوام کی شدید خواہش ہے کہ کوئی نہ کوئی انہیں دھوکہ دیتا رہے۔ اس لئے یہاں ان کی دال گل جاتی ہے۔ ورنہ جس زور و شور اور جس رفتار سے وہ اپنے سپر سانک بیانات، دعوے اور مفادات بدلتے ہیں اور جتنا تضاد ان کے قول وفعل میں ہے یہ کسی لیڈر کا شیوہ نہیں ہوتا۔ ہر تقریر میں وڈیروں اور جاگیرداروں کو کوسنے والے پچھلے پانچ سال سے ایک جاگیردار کی انگلی کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں۔ کھوکھلے نعروں اور گرجنے سے بہتر ہے کہ عملی طور پر اپنا منشور ثابت کر کے دکھائیں اور کوئی منزل پانے کے لئے زبان سے زیادہ ہاتھ پیر ہلائیں۔ اس کیساتھ ساتھ یہ بات بھی یاد رکھیں کہ مجاہدے سے مفادات تو حاصل ہو سکتے ہیں لیکن مجاہدے سے گدھا کبھی گھوڑا نہیں بن سکتا۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ قادری صاحب کیا کرتے ہیں ۔ویسے یہ گمان غالب ہے کہ مک مکا کے خلاف کیا جانے والا انقلاب مک مکا کا شکار نہ ہو جائے۔لیکن اگر ایسا ہوتا بھی ہے تو پریشانی نہیں کیونکہ عوام کی عقل داڑھ ابھی تک نہیں نکلی۔درحقیقت سیاست کے حمام میں سارے ننگے ہیں۔کوئی سو،کوئی نوے اورکوئی پچھتر کی چوری کرتا ہے اور ہم کہتے ہیں کہ یہ ٹھیک ہے حالانکہ ایک روپے کی چوری کا مرتکب بھی چور ہی ہوتا ہے۔بحرحال لیڈر بننے کے دعوے داروں سے التماس ہے کہ خدارا یہ نہ بھولیں کہ خدا سب دیکھ رہا ہے۔ ملکی بگڑتی صورت حال،باڈروں پر حالات کی کشیدگی،کوئٹہ کی اشکبار فضا،قادری صاحب اور چند دوسرے گروہوں کے لانگ مارچ کسی اور طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ ربالعزت پاکستان کو اپنی امان میں رکھے ٖ

یہ بھی پڑھیں  تبلیغی جماعت کے نائب امیر مولانا جمشید علی خان انتقال کر گئے

note

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

  1. bahot khub jnb ap ny tu khary such ki inteha kr de main tu yahe kahou ga altaf bahi master of U turn but ap ka colum zbrdst ha im agree with u

  2. hahaha.satti sb ma sher muhammad hu or ma hamla ni krta ma apni misal aisay bhi ni data jaisay wahan di jaa rai ha q k wo to janwar ki misal ha nam se janwar ni bnta kam se bnta ha hope u understand sda khush rahay

  3. v good written. but every one is criticizing. i suggest to write for betterment of education system or other important issues.

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker