تازہ ترینڈاکٹر بی اے خرمکالم

بورے والہ کا منفرد سیاسی اعزاز

b.a khuramگیارہ مئی2013 ء کو ہونے والے الیکشن میں صوبائی حلقہ232سے پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے حاجی محمد شہباز ڈوگرنے22ہزار سے زائد ووٹ لے کر شکست کھائی اور یہاں کی سیاسی تاریخ جو کہ ایک منفرد اعزاز رکھتی ہے کو بر قرار رکھا بورے والا کی سیاسی تاریخ میں ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ یہاں سے جس ڈوگر فیملی نے الیکشن میں حصہ لیا تو صرف ایک ہی بار اس فیملی کا ممبر ایم پی اے بنا اور دوسری بار ناکامی اور شکست کا سامنا کرنا پڑا ،1970ء کے عام انتخابات میں بورے والا سے پاکستان پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے عبدالعزیز ڈوگر نے صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑا اور جیت گئے پھر 1988ء کے عام انتخابات میں اسی فیملی کے ایک ممبراور سابقہ ایم پی اے کے بھائی نذیر احمد ڈوگر نے پی پی پی کے ٹکٹ پہ الیکشن لڑا اور ناکام رہے سابق صدر جنرل محمد ضیاء الحق کے1985ء کے غیر جماعتی انتخابات میں حاجی خوشحال محمد ڈوگر نے صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑا اور کامیابی نے ان کے قدم چومے بعد ازاں انہوں نے 1993ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے دوبارہ قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا تو ان کے مد مقابل پاکستان پیپلز پارٹی کے عبدالحمید بھٹی کے ہاتھوں انہیں شکست سے دوچار ہونا پڑا، 2002 ء کے انتخابات میں مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم سے بورے والہ کی ڈوگر فیملی کے ایک نوجوان ڈاکٹرنذیر احمد المعروف مٹھو ڈوگر نے اسی حلقہ سے الیکشن لڑا یہ وہ وقت تھا جب کوئی بھی شخص مسلم لیگ ن کا ٹکٹ لینے کے لئے تیار نہ تھا تب ان حالات میں مٹھوڈوگر نے سیٹ نکال کر سیاسی پنڈتوں کو حیرت میں ڈال دیا 2008ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ نے دوبارہ ڈاکٹر نذیر احمد مٹھوڈوگر کو صوبائی اسمبلی کے لئے نامزد کیا مقابلہ تو خوب کیا دل ناتواں نے لیکن قسمت کی دیوی ان پہ مہربان نہ ہوئی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار سردار خالد سلیم بھٹی کے ہاتھوں مٹھو ڈوگر شکست سے دوچار ہوئے حالیہ انتخابات جو کہ گیارہ مئی کو منعقد ہوئے اس میں ایک بار پھر سابق ایم اپی اے حاجی خوش حال محمد ڈوگر مرحوم کے صاحبزادے حاجی محمد شہباز ڈوگر نے پاکستان تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے حصہ لیا وہ تحریک انصاف کو سیٹ تونہ دلا سکے لیکن انہوں نے ہار کر خوب ’’ انصاف ‘‘ کیا یعنی بورے والی کی سیاسی تاریخ کے منفرد ریکارڈ کو ٹوٹنے سے ضرور بچایا یعنی بورے والا میں جس ڈوگر فیملی نے انتخابات میں حصہ لیا ان کے حصہ میں صرف ایک بار ہی فتح آئی اور دوسری بار شکست ان کا مقدر بنی۔

یہ بھی پڑھیں  لندن میں متحدہ کے مزید 3 رہنما شامل تفتیش

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker