آر ایس مصطفیٰتازہ ترینکالم

بس رہنما کا نام ہی صدیوں زندہ رہتا ہے

rs mustafa10 جولائی 1925کو ملائشیا کے ایک قصبے ایلورستار کی ایک غریب بستی میں ایک بچہ پیدا ہوا،یہ اپنے والدین کا دسواں بچہ تھا اسلئے کوئی خاص خوشی نہ کی گئی ۔اس بچے کے والد ایک ماسڑ تھے ، آمدنی کم اور مسائل کا ڈھیرزیادہ تو اس لئے اس بچے کو بھی اپنے دوسرے بہن بھائیوں کی طرح اپنے حصے کا کام کرنا تھا تو وہ اپنی پڑھائی کے ساتھ ساتھ فروٹ کا سٹال لگاتا۔اس بچے میں کوئی چیز نہ تھی سوائے یہ کہ وہ ایک ذہین ،قابل اور محنتی طالب علم تھااسکا ایک مقصد حیات تھا ٰٰوہ اپنے حالات سدھارنا چا تھا جس کے لئے اس نے بیحد
تعلیم میں رجحان دیکھتے ہوئے اس کے والد نے قرض لیکر اسے تعلیم حاصل کرنے کیلئے اسے سنگاپور بھیجا جہاں سے وہ طب کی ڈگری لیکر لوٹاوہ اپنے قصبے کے چند قابل ڈاکٹرز میں سے ایک تھا ۔ذہانت اور قابلیت کی وجہ سے اسے جلد ہی سرکاری نوکری بھی مل گئی مگر اس نے جلد ہی اس سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔اس 1957 میں پرائیویٹ پریکٹس شروع کی اور دن رات کام کیا اور اس نے پریکٹس کے ساتھ ساتھ مختلف اخبارات و رسائل میں لکھنے کا آغاز کیااور شہرت اس میدان میں بھی اسکی منتطر کھڑی تھی ایسے ہی اس میں سیاست کا شوق پیدا ہوا اور 1964میں وہ پہلی بار اسمبلی جا پہنچا ۔16 جولائی81 19کو وہ اپنے ملک کا چوتھا وزیرآعظم بنا،جی ہاں اب وہ اپنی منزل پر پہنچ سکتا تھا اب وہ امرا میں اپنا شمار کروا سکتا تھا مگر اس نے اپنی ذات اور اپنے خاندان سے بے نیاز ہوکر اپنے ملک اور قوم کو امیر بنانے کا سوچا اور اپنے ارادے پر ایسا عمل کیا کہ اس قوم نے 22 سال مسلسل اپنا وزیرآعظم منتخب کیا۔یہ غریب ،فروٹ فروش ڈاکٹر جس نے خود غربت میں آنکھ کھولی مگر اس کے فیصلوں نے قوم کو امیر بنادیا اس امیر قوم کے غریب وزیرآعظم کا مہاتیر محمدتھا جسے قوم نے اس کی کارگردگی کی بنیاد پر مسلسل بائیس سال منتخب کیا یہاں تک کہ مہاتیر محمد نے خود ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا۔مہاتیرمحمد نے ملائشین معیشت کو ایسے پر لگائے کہ کہ مضبوط معیشت بن گئی اس نے چار کام کئے ، اس نے قرضوں سے نجات حاصل کی، صنعت وتجارت کو فروغ دیا،تعلیم کو عام کیا اور محروم طبقوں کو خود کفیل کیا۔مہاتیر محمد نے سکول کالجز اور یونیورسٹیوں کا جال بچھادیا اور تعلیم کو عام کردیا،اس نے 1990 میں ویژن2020 کی سوچ دی ،اس ویژن پر بھرپور طریقے سے کا م کیا اور 1996 ملائشیا ایشین ٹائیگر بن گیا۔
اگر مہاتیر محمد کا موازنہ اپنے ملک کے سابق وزراء آعظم اور صدور سے کیا جائے تو ہمیں دیوار پہ لکھا صاف نظر آتا ہے کہ انھوں نے بھی اپنا ایک ویژن و مقصد بنایامگر وہ ویژن و مقصد ملک وقوم کو امیر بنانا ہرگز نہ تھا بلکہ وہ مقصد اپنے خاندان کی معیشت کو مضبوط سے مضبوط تر کرنا تھا ،اپنے خاندان کو تعلیم یافتہ بنانا تھا،اپنے خاندان کی صنعتیں لگانا تھا ،ان کا مقصد محروم طبقوں کی بجائے اپنی محرومیوں کو دور کرنا تھا۔ان سب سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے حکمران ہرگز ویژن سے خالی نہ تھے بس فرق صرف اتنا ہے کہ ان کا ویژن ملک کے نام پر قرض لیکر اپنی صنعتیں لگانا تھا۔ان حکمرانوں نے ملک و قوم کو امیر بنانے کی بجائے اپنے خاندانوں کو امرء میں شامل کیا ،کرپشن کا بازار گرم کئے رکھا ۔آج قوم اپنے ان حکمرانوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتی کہ کہاں سے آئے تھے کہاں اب ان کی آخری آرام گاہیں ہیں کیونکہ قومیں اپنے رہنماوءں کو یاد رکھتی ہے اور حکمران وقت کی ڈھول میں گم ہوجاتے ہیں ان کا کوئی نام لیوا نہیں رہتا۔اللہ اپنے کرم سے جب کسی کو اقتدار عطا کرتا ہے تو اسے دو راستے فراہم کرتا ہے کہ اپنی قوم کا لیڈر بن جائے یا حکمران ،جن لوگوں نے رہنمائی کی بجائے حکمران بننے کو فوقیت دی آج ان کا کوئی نام لیوا نہیں اور ان کی قبر تک سے واقف نہیں اور جنہوں نے قوموں کی رہنمائی کی ان کا آج تک زندہ و جاوید ہے قومیں ان رہنماوءں کو قائد آعظم ،نیلسن منڈیلا،مہاتیر محمد کے ناموں سے جانتی ہے ۔قومیں اپنے رہنماوءں کی یاد مناتی ہیں ان کے یوم پیدائش ،برسی مناتی ہے اپنے ان رہنماوءں کی استمعال شدہ چیزوں کو غلافوں میں لپیٹ کر عقیدت سے رکھتی ہے مگر حکمران کا نام وقت کی دھول میں کہیں گم ہوجاتا ہے بس رہنما کا نام ہی صدیوں زندہ رہتا ہے

یہ بھی پڑھیں  جھنگ:پیپلزپارٹی کو چھوڑ کر جانے والے بعد میں پچھتائیں گے، سردار حاجی خان پٹھان

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker