تازہ ترینشاہد شکیلکالم

کارنیوال

Shahid Sakilریو ڈی جینیرو جیساٹریڈیشنل تو نہیں لیکن اس سے کم بھی کولون کارنیوال نہیں ہوتا ہر سال گیارہ نومبر کو گیارہ بج کر گیارہ منٹ اور گیارہ سیکنڈ پر اس تہوار کا شاندار افتتاح کولون کے مئیر کی موجودگی میں تقریباً ستر ہزار افراد سے ہوتا ہے یہ تہوار تقریباً ساڑھے تین ماہ تک جاری رہتا ہے اور دنیا بھر کے لوگوں کو مقناطیس کی طرح جرمنی کے پانچویں بڑے شہر کولون کھینچ لاتا ہے ایک نظر اس کے پس منظر اور تاریخ پر۔
پانچ مارچ سن تیرہ سو اکتالیس میں کولون اور ڈسل ڈورف کی سٹی کونسل نے باقاعدہ اس تہوار کا افتتاح بیک وقت دونوں شہروں میں کیا اور چھوٹے بڑے تجارت پیشہ افراد کو اس بات پر آمادہ کیاکہ اس تہوار کو بہتر اور پُر کشش بنانے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں کیوں کہ اس تہوار سے عوام کو تفریح حاصل ہوگی اور کاروبار میں بھی ترقی کے مواقع پیدا ہونگے طویل بحث و مباحثہ کے بعد ایک لائحہ عمل تیار کیا گیا جس میں مختلف کمیونٹی کے پروگرامز شامل کئے گئے اور عوام میں تشہیر کرنے کے بعد اسی سال گیارہ نومبر کو افتتاح ہوا تہوار کے آغاز سے ہی ہلچل مچ گئی ہر گھر گلی کوچے میں جوش وخروش پایا جانے لگا دوکان داروں نے اپنی حیثیت کے مطابق چندہ دیا ،تہوار کے افتتاح میں ہی رنگ برنگے مختلف سٹائل کے (جوکر) ٹائپ کپڑے پہنے گئے خواتین و بچوں میں اس تہوار کو خاصی مقبولیت حاصل ہوئی اور یوں ہر سال نت نئے فیشن ، ڈیزائن اور میک اپ سے اس کا آغاذ ہونے لگا ،صدیوں سے قائم اس تہوار کو پہلے کولون اور ڈسل ڈورف میں منایا جاتا تھا لیکن رفتہ رفتہ اسکی مقبولیت میں اضافہ ہوا اور جرمنی کے دیگر شہروں بون ، کوبلینز ،ویز بادن اور مائینز تک ایک ٹریڈیشنل تہوار سمجھ کر منایا جانے لگا۔
اٹھارہ سو اکہتر میں جرمن فرانس جنگ، انیس سو پندرہ اور انیس سو چھبیس میں دیگر جنگوں کی وجہ سے روکاوٹ پیدا ہوئی ،دوسری جنگِ عظیم میں انیس سو چالیس سے انیس سو اڑتالیس تک ہٹلر نے کرکٹ کی طرح اس تہوار پر بھی پابندی عائد کر دی لیکن جمہوریت کا سورج طلوع ہونے پر دوبارہ نئے طور طریقوں سے اس کا آغاز ہوا آخری بار انیس سو اکانوے میں گولف جنگ بھی آڑے آئی۔یہ تہوار سرکاری طور پر ہر سال نومبر میں شروع ہوتا ہے کولون اور ڈسل ڈورف کے مختلف علاقوں میں مزاح اور رقص و موسیقی سے بھر پور پروگرامز منعقد کئے جاتے ہیں اور ہر علاقے میں منظم طریقے سے اورگنائیز کیا جاتا ہے خاص طور پر ویک اینڈ پر لوگوں کا جوش و خروش دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے اس تہوار کے آخری ہفتہ میں جمعرات کے دن جسے خواتین کا کارنیوال کہا جاتا ہے اپنی پوری آب و تاب سے شروع ہوتا ہے تقریباً ہر فرد رنگ برنگے لباس میں اور خاص میک اپ سے تیار ہو کر پارٹیوں میں شریک ہوتا ہے،کنڈر گارڈن اور سکولز کے بچوں کو خاص طور پر سنوارہ جاتا ہے چہروں پر رنگ برنگے سٹائل سے میک اپ کیا جاتا اور بچے اپنے پسندیدہ کوسٹیوم پہنتے ہیں جن میں سپائیڈر مین ، سپر مین ، آئیرن مین ، بہری قزاقوں اور باربی ڈول وغیرہ سر فہرست ہیں ،سکولز میں رقص و موسیقی کے فنکشن ہوتے ہیں جس میں شامل ہو کر سب انجوائے کرتے ہیں رات گئے تک پارٹیاں جاری رہتی ہیں مختلف مشروبات کا بے دریغ استعمال ہوتا ہے۔اس دن شہر کی پولیس اور فائیر بریگیڈ خاص طور پر ہائی الرٹ رہتی ہے کہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے، دونوں شہروں کے سرکاری حکام ، کمپنیز اور دوکانوں کو جزوی طور پر بند کر دیا جاتا ہے ،شہر کے ہر چھوٹے بڑے کلبز اور ہالز میں میوزک کنسرٹ ہوتے ہیں اور سب مل جل کر اس تہوار کا جشن مناتے ہیں جمعہ اور ہفتہ کے دن بھی اسی طرح کے مختلف رنگا رنگ پروگرامز جاری رہتے ہیں دوسرے شہروں سے آئے آرٹسٹ اپنے روائتی انداز میں ہنسی مزاح اور میوزک پروگرامز کے ذریعے لوگوں کو تفریح مہیا کرتے ہیں اتوار کو ایک بڑا اجلاس منعقد کیا جاتا ہے جس میں پیر کو چلنے والی کارنیوال پریڈ کے روٹس بنائے جاتے ہیں اور پیر کی صبح دس بجے اس تہوار کی آخری تقریب کولون شہر کے مختلف علاقوں سے جلوسوں کی شکل میں شروع ہوتی ہے اس خاص تقریب کیلئے شائقین سارا سال بے چینی سے انتظار کرتے ہیں، اس پریڈ میں ہر علاقے کے لوگوں نے اپنے روایتی رنگ برنگے ملبوسات پہنے ہوتے ہیں یہ پریڈ جلوس کی شکل میں شہر کی بڑی شاہراہوں سے ہوتی ہوئی چھوٹے علاقوں میں داخل ہوتی ہے اور تمام راستوں ،سڑکوں گلیوں کے دائیں بائیں کھڑے شائقین پر چاکلیٹس ، ٹافیاں ، رنگ برنگے پھول اور مختلف تحائف کی بوچھاڑ کرتے ہیں شائقین ان تحائف کو اپنی طرف آتا دیکھ کر پکڑتے ہیں اس عمل میں تقریباً ہر فرد اپنے ساتھ لائے ہوئے دو تین پلاسٹک بیگ بھر بھر کر اپنے ساتھ گھر لے جاتا ہے اور سارا سال چاکلیٹ یا ٹافی سپر مارکیٹ سے خریدنے کی نوبت نہیں آتی خاص طور پر چھوٹے بچے بہت خوش ہوتے اور خوب انجوائے کرتے ہیں،جہاں جہاں سے جلوس گزرتا ہوا آگے کی طرف رواں ہوتا ہے جلوس کے پیچھے پیچھے میونسپل کارپوریشن والوں کی صفائی کرنے والی گاڑی صفائی کرتی رہتی ہے اور یوں ہر علاقے کا یہ جلوس رات گیارہ بجے کولون شہر کے اس علاقے میں اختتام پذیر ہوتا ہے جہاں سے گیارہ نومبر کو گیارہ بج کر گیارہ منٹ اور گیارہ سیکنڈ پر آغاز ہوا تھا۔ ہر سال اس تہوار کی تقریبات پر تقریباً چار لاکھ ساٹھ ہزار یورو کا خرچ آتا ہے جن میں سے ایک لاکھ پینسٹھ ہزار یورو کیٹیر نگ اور ہوٹلز کے علاوہ پچھتر ہزار یورو ٹرانسپورٹ پر خرچ کئے جاتے ہیں ، پچاسی ہزار یورو کے کوسٹیوم بنوائے جاتے ہیں تقریباً پانچ لاکھ یورو سرکاری خزانے سے استعمال کئے جاتے ہیں تین ہزار کمپنیز مختلف انٹر ٹینمنٹ کا اہتمام کرتی ہیں ، تین سو تین ٹن ٹافیوں ، کینڈیز ، سات لاکھ چاکلیٹ کے پیکٹ اور دو لاکھ بیس ہزار مختلف اقسام کے تحائف سڑکوں پر شائقین کے سروں پر پھینک دئے جاتے ہیں ،اس تہوار کی سپانسرز مختلف کمپنیز ہوتی ہیں کولون شہر میں کارنیوال کے چار سو اسی کلبز ہر معاملے میں شئیر کرتے ہیں ،دو میلین سے زائد افراد پڑوسی ممالک خاص طور پر بیلجیم ، فرانس ، نیدر لینڈ ،پولینڈ اور انگلینڈ سے ہر سال یہ تہوار دیکھنے آتے ہیں ،ان کی آمد سے کولون شہر کو آٹھ میلین یورو کا فائدہ ہوتا ہے، اس تہوار کے آنے سے بے روزگاری بھی کم ہوجاتی ہے ایک مطالعے کے مطابق دوہزار آٹھ میں منائے گئے کارنیوال سے پانچ ہزار لوگوں کو روزگار حاصل ہوا تھا ٹیکسی والے خاص طور پر بہت مصروف ہوجاتے ہیں ان آخری چار دنوں میں نو لاکھ ستاون ہزار لوگوں کے شراب خانوں اور ڈسکوز میں انجوائے کرنے سے اڑتالیس لاکھ یورو کی کمائی ہوتی ہے اور ظاہر ہے اسی حساب سے حکومت کو ٹیکس بھی جمع ہوتا ہے جو ملک اور قوم پر ہی خرچ کیا جاتا ہے ۔اسے کہتے ہیں ایک ٹکٹ میں دو مزے۔حکومت پانچ لگا کر پچاس کماتی ہے ،مزے کا مزہ ،کمائی کی کمائی ۔
یاد رہے کارنیوال اور ویلنٹائن ڈے دو مختلف تہوار ہیں ،کارنیوال ہر سال برازیل اور جرمنی میں فروری یا مارچ میں منایا جاتا ہے جبکہ ویلنٹائن ڈے ہر سال چودہ فروری کے دن ہی منایا جاتا ہے۔پاکستان میں ہر تہوار پر حکومت ہر چیز کا بحران پیدا کر دیتی ہے غریب عوام کے منہ سے روٹی ،پانی ،تیل ،بجلی پیٹرول ،گیس ،سب کچھ چھین کر بھی چین سے نہیں بیٹھتی،لوگ تفریح کیا کریں اگر کوئی بچ گیا تو قانون کے رکھوالے اژ دہے کی طرح منہ کھولے نگلنے کیلئے تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔جائیں تو جائیں کہاں ؟؟۔۔

یہ بھی پڑھیں  سیاسی شعبدہ باز اور نظریاتی جانثار

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker