شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / پروفیسر رفعت مظہر

پروفیسر رفعت مظہر

جاگدے رہنا، ساڈے تے ناں رہنا

مولانا فضل الرحمٰن اکتوبر میں اسلام آباد کی ”تالابندی“ پر تُلے بیٹھے ہیں۔ 2018ء کے انتخابات سے پہلے اُنہوں نے بڑی محنت سے جماعتِ اسلامی کو منا کر ایم ایم اے کو فعال کیا۔ دراصل مولانا کو حکمرانی کا ”چسکا“ ...

مزید پڑھیں »

کب تک۔۔۔۔۔ آخر کب تک؟

100 دنوں میں ملک کی تقدیر بدلنے کے دعوے کو چھوڑیں کہ غالباََ 35 پنکچروں کی طرح یہ بھی ایک سیاسی بیان تھا۔ ایک کروڑ نوکریوں اور 5oلاکھ گھروں کی نویدبھی بھٹو مرحوم کے ”روٹی، کپڑا اور مکان“ کا چربہ ...

مزید پڑھیں »

جنت نظیر وادی پر موت کے منڈلاتے سائے

حضرتِ اقبالؓ نے رَبّ ِ لَم یزل کے حکم کو شعری قالب میں ڈھالتے ہوئے فرمایا خُدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا ہماری معاشی، معاشرتی، ...

مزید پڑھیں »

کشمیر کی پُکار

چارعشرے گزرنے کے باوجود ”سقوطِ ڈھاکہ“ کا دکھ سلامت، زخم ہرے اور شہیدوں کے لہو کی خوشبو نَس نس میں سمائی ہوئی۔ وہ 16 دسمبر 1971ء کادرد میں گندھا دن تھا جب ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں ہماری عظمتوں کی ...

مزید پڑھیں »

کشمیر کامقدمہ

آدم خور درندے نریندرمودی کی باچھوں سے ٹپکتا لہو کسی کو کیوں نظر نہیں آتا؟۔ کشمیر کی بیٹی کے سر سے ردا چھیننے والے وحشیوں کے ہاتھ قلم کیوں نہیں کیے جاتے؟۔ ڈیڑھ لاکھ کشمیریوں کے خون سے رنگین لہو ...

مزید پڑھیں »

ضمیر کی منڈی

36 ووٹ 64 ووٹوں پر بھاری پڑے، سینٹ میں ”باپ“ (BAP) نے معرکہ مار لیا اور تحریکِ انصاف نے ”ایویں خوامخواہ“ کوئلوں کی دلالی میں مُنہ کالا کر لیا۔ نیا پاکستان بنانے والوں نے ہارس ٹریڈنگ کے خاتمے کے دعوے ...

مزید پڑھیں »

یومِ سیاہ بمقابلہ یومِ تشکر

ایک سال گزرنے کے بعد اپوزیشن کو خیال آیا کہ اُس کے ساتھ 25 جولائی 2018ء کے انتخابات میں ”ہَتھ“ ہو گیا اِس لیے احتجاج کرنا چاہیے۔ اِس احتجاج کا کم از کم ہمیں تو کوئی مشترکہ ایجنڈا نظر نہیں ...

مزید پڑھیں »

ضمیر کا قیدی؟؟؟

کافی عرصہ پہلے پی ٹی وی پر ”اندھیرا اُجالا“ نامی ڈرامہ بہت مقبول ہوا۔ اُس ڈرامے میں معروف مزاحیہ اداکار عرفان کھوسٹ نے حوالدار کا کردار ادا کیا۔ اُس کا تکیہ کلام تھا ”دہ جماعت پاس ہوں، ڈائریکٹ حولدار ہوں“۔ ...

مزید پڑھیں »

پکڑ دھکڑ کا موسم

ہمیں رانا ثناء اللہ کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں کیونکہ اُنہیں پکڑ دھکڑ کے اِس موسم کا کچھ تو خیال کرنا چاہیے تھا۔ وہ فیصل آبادی ہیں اور پنجابی کا یہ محاورہ خوب جانتے ہوں گے ”آپے پھاتھڑیے تَینوں کون ...

مزید پڑھیں »

وہ خود ہی تماشا ہیں، وہ خود ہی تماشائی

وزیرِاعظم صاحب نےمہنگائی کو کنٹرول کرنے کا حکم صادر فر ما دیا ہے۔ اِسے کہتے ہیں قوم کے ساتھ ”ہَتھ“ کرنا۔ اِسے کہتے ہیں ”تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو“۔ دَست بستہ سوال ہے کہ مہنگائی کی کِس ...

مزید پڑھیں »