شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / امتیاز علی شاکر / نوجوان نسل میں بڑھتا ہوا ڈپریشن کا مرض

نوجوان نسل میں بڑھتا ہوا ڈپریشن کا مرض

بندہ ناچیز نے کچھ روزقبل ڈیپریشن کے حوالے سے ایک کالم لکھا تھا ۔جس کا عنوان تھا ۔ ڈیپریشن لا علاج نہیں ۔خاکسار نے اپنی تحریرمیں اقرار کیا تھا کہ بندہ کوئی نفسیات دان نہیں ہے ۔خاکسار آج بھی اسی بات قائم ہے ۔خاکسار کی اس تحریر کو پڑھ کربہت سارے بہن بھائیوں نے بیرون ممالک اورخاص طورپر پاکستان بھرسے فون کال ‘ای میل اور ایس ایم ایس کے ذریعے سے رابط کرکے اپنی قیمتی آرائ سے نوازا ۔ آج میں ان سب بہن بھائیوں کاشکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے آج کے مصروف دور میں اپنا قیمتی وقت میرے لیے نکالا۔آج میں اپنے بہن بھائیوںکوڈیپریشن کے بارے میں کچھ مزید معلومات سے آگاہ کرنے جارہاہوں۔زیادہ ترماہرین کا خیال ہے کہ ڈیپریشن کے پیچھے کسی صدمے یا کسی حادثے کا ہونالازم ہے ۔لیکن کچھ ماہرین کے مطابق ڈیپریشن کسی حادثے یا صدمے کے بغیر بھی ہوجاتا ہے ۔یہ بات سچ ہے کہ ابھی تک نفسیات دان اور تمام ماہرین ڈیپریشن کے متعلق کوئی حتمی رائے قائم نہیں کرسکے ۔لیکن ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ ڈیپریشن کا باقائدہ علاج اور احتیاتی تدابیر اپنانے سے کافی حد تک اس مرض سے بچا جا سکتا ہے ۔میرے خیال میں ڈیپریشن ایسی کیفیت کانام ہے جس میں انسان سستی اور کاہلی کا شکار ہوکر اپنے آپ کو کائنات کا ناکام ترین شخص تصور کرنے لگتا ہے ۔زیادہ ایسا ہوتا ہے جب انسان کسی مشکل کاسامنا نہیں کرتا اوراس مشکل سے بچنے کی کوشش میں اپنے آپ کوروز مرہ کے معاملات سے دورکرکے خود کو تنہائی کا شکار بنا بیٹھتا ہے ۔ایسی حالت میں مریض کو سب اپنے دشمن لگنے لگتے ہیں،کوئی بھی دوست نظر نہیں آتا۔ مریض کو لگتا ہے وہ دنیا میں تنہا رہ گیا ہو، ایسی کیفیت میں انسان امید کا دامن اپنے ہاتھ سے چھوڑ دیتا ہے۔﴿لیکن اسلام میں مایوسی کو گناہ قرار دیا گیا ہے﴾ اور کوئی بھی کام شروع کرنے سے پہلے ہی یہ فیصلہ کرلیتا ہے کہ اسے اس کام میں ناکامی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا ۔ویسے تو ہم سب ہی ناکامی سے ڈرتے ہیں لیکن اگر کسی ناکامی کو مثبت انداز سے دیکھا جائے تو یقینا ایک ناکامی دوسری کامیابی کا راستہ بتاتی ہے ۔جب ہم ناکامی کو مثبت طریقے سے استعمال نہیں کرتے تو پھر ہم ناکامی سے حد سے زیادہ ڈرنے لگتے ہیں ۔ناکامی کو دنیا کی سب سے بری بات سمجھنے لگتے ہیں ۔ایسی بات جس سے شرم آنی چاہیے اور جس سے بچنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے ۔لیکن اس حقیقت سے ہم منہ نہیں موڑ سکتے کہ ناکامی ہمارا پیچھا نہیں چھوڑتی ۔زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پرہمیں ناکامی کاسامنا کرنا پڑجاتا ہے ۔ناکامی سے گھبرا کر جو لوگ اپنے آپ کو کوسنے لگتے ہیں ‘اپنی صلاحیتوں پر شک کرنے لگتے ہیں ‘یا دوسروں کو برا بھلا کہہ کر اپنی ناکامی کی وجہ قرار دیتے ہیں ۔وہ لوگ انجانے میںڈیپریشن کو اپنی طرف آنے کی دعوت دیتے ہیں ۔ماہرین نفسیات کے مطابق ناکامی اس قدر خوفناک چیز نہیں ہے۔بلکہ ماہرین کا خیال ہے کہ ناکامی کامیابی کا وسیلہ بن سکتی ہے ۔ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ جو لوگ اپنی مرضی سے ناکامی کا خطرہ مول لیتے ہیں اور پھر اس ناکامی سے سبق سیکھتے ہیں ‘ان لوگوں کی کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔چارلس گارفیلڈنے اپنی ایک کتاب میں کامیابیاں حاصل کرنے کے بہت سے طریقے تحریر کیے ہیں ۔انہوں نے اپنی کتاب میں ناکامی سے بچنے کے لیے ایک بہت ہی اہم نکتہ بیان کیا ہے ۔وہ لکھتے ہیں کہ تاریخ میں جو لوگ کامیاب گزرے ہیں ان کو ’’ناکامی کے لفظ سے بہت سخت چڑ تھی ۔شازونادر ہی یہ لفظ ان کی زبان پرآتا تھا ۔کیوں؟اس لیے کہ یہ لفظ منفی احساس پیدا کرتا ہے ۔خوف اور فرارکااشارہ دیتا ہے ۔محترم قارئین آپ نے بھی کسی نہ کسی کامیاب شخص کے منہ سے یہ بات ضرور سنی ہوگی کہ ناکامی کے لفظ کے لیے میری زندگی میں کوئی جگہ نہیں ہے ۔ میرے ایک دوست ہیں محمد رضا ایڈووکیٹ انتہائی کامیاب شخصیت کے مالک ہیں۔ان کے پاس ناکامیوں سے دور رہنے کا بہت ہی اچھا طریقہ موجود ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ زندگی میں کبھی کوئی منزل آخری منزل نہیں ہوتی ۔ان کا کہناہے کہ ٹاپ ﴿TOP﴾ہمیشہ خالی ہے ۔محمد رضا کہتے ہیں کہ جو لوگ دل لگا کرمحنت کرتے ہیں کامیابیاں ایسے لوگوں کے قدم چومتی ہیں ۔اور جو لو گ ناکامی کی طرف زیادہ توجہ دیتے ہیں ،ناکامی ایسے لوگوں کے آنگن میں ڈیرے ڈال لیتی ہے ۔محمدرضا ایڈووکیٹ کالمسٹ کونسل آف پاکستان کے لیگل ایڈوائزربھی ہیں ۔بات چلی تھی ڈیپریشن سے میرے خیال میںڈیپریشن کے پیچھے کوئی نہ کوئی ناکامی ضرور ہوتی ہے ۔لیکن میراخیال حتمی نہیں ہے اس لیے آج اپنے قارئین کو ڈیپریشن سے بچنے کے لیے ماہرین نفسیات کے بتائے ہوئے کچھ طریقے بتائوں گا ۔ڈیپریشن دور قدیم میں موجود تھی لیکن بہت کم تھی ۔جودورجدید کی عام پھیل جانے والی بیماریوں میں سے ایک ہے۔اس کی علامتوں میں’’ طبیعت میںبے چینی‘‘بھوک کی کمی ‘چڑچڑا پن‘گھبراہٹ‘ بے خوابی ‘ذہنی انتشار‘اور تھکاوٹ وغیرہ کے احساس سے لے کر جذباتی بے چینی اور خودسوزی کے خیالات تک شامل ہیں ۔پہلے پہلے ڈیپریشن کو عمر کے درمیانے اور آخری حصے کی بیماری سمجھا جاتا رہا ہے لیکن اب ڈیپریشن کی بیماری نوجوانوں اور چھوٹی عمر کے بچوں میں بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے ۔ڈیپریشن کے مریضوں کی تعداد اتنی تیزی سے کیوں بڑھ رہی ہے ؟نوجوان اور بچے اس زد میں کیوں آنے لگے ہیں ؟ یوں تو ان سوالات کے بہت سے جوابات ہیں لیکن ان میں سے کوئی حتمی نہیں ہے ۔ امریکی صحت کے قومی ادار
ے کے ڈاکٹر رابرٹ فلیڈ بدلتے دور میں ہونے والی معاشرتی تبدیلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں ۔گزشتہ پچاس برسوں میں عورتوں اور مردوں کے روایتی رول بدل گئے ہیں۔بڑی تعداد میں عورتیں محنت مزدوری اورملازمتیں کرنے لگی ہیں۔لاکھوں افراد روزگار اورکاروبار کے مواقع کی تلاش میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے لگے ہیں۔اس طرح وہ اپنے خاندانوں اور دوستوں کی قربت اور تعاون سے محروم ہورہے ہیں ۔ ڈاکٹر رابرٹ فلیڈڈیپریشن کودوبڑی قسموں میں کچھ اس طرح تقسیم کرتے ہیں ۔ایک تو سادہ ڈیپریشن ہے ‘جووقتی طور پرطاری ہوتا ہے اور پھر کچھ عرصے بعد فوری ختم ہوجاتا ہے ۔دوسری قسم کلینیکل ڈیپریشن ہے ۔یہ شدید قسم کاڈیپریشن ہے۔ ماہرین اس سے محتاط رہنے کا مشورہ دیتے ہیں۔کیونکہ یہ کلینیکل ڈیپریشن خاصا اذیت ناک ہوتا ہے ۔اس کے علاج کے لیے تربیت یافتہ ماہرین کی خصوصی توجہ درکار ہوتی ہے ۔ قارئین جہاں تک بات ہے شفا کی تووہ صرف اللہ تعالیٰ ہی عطا کرتا ہے ۔زندگی رہی تو آپ کی خدمت میں ڈیپریشن سے بچنے کے کچھ اورطریقے پیش کروں گا۔اس دعا کے ساتھ اجازت چاہوں گا کہ اللہ تعالیٰ ہم سب پر اپنی خاص رحمتیں نازل فرمائے۔اپنی دعائوں میں خاکسار کو بھی یاد رکھیے گا ۔بشکریہ﴿پریس لائن انٹرنیشنل﴾

یہ بھی پڑھیں  آپ کا ایک روپیہ اور ہزاروں افراد کا روشن مستقبل