تازہ ترینفیصل اظفر علویکالم

کرپشن کے بے تاج بادشاہ

یوں تو وطن عزیزپاکستان کے تقریباََ سبھی سرکاری و غیر سرکاری ادارے کرپشن کی بہتی ہوئی گنگا میں ہاتھ دھونے میں مصروف ہیں‘ پاکستان کے ریکارڈ ہولڈر کرپٹ ترین اداروں میں ریلوے پی آئی اے‘ نیشنل ہائی وے اتھارٹی‘ این آئی سی ایل‘ یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن واپڈا اور محکمہ پولیس وغیرہ زیادہ بدنام ہیں‘ پاکستان کے ان تمام بڑے اداروں کی کرپشن کے ’’چرچے‘‘ بھی بہت ہوتے رہتے ہیں لیکن ان تمام اداروں کیساتھ ساتھ ایسے ادارے بھی اس فہرست میں شامل ہیں جو چپکے چپکے ان بڑے اداروں سے زیادہ ملک و قوم کو نقصان پہنچا رہے ہیں‘ ان اداروں میں کرپشن کا یہ عالم ہے کہ اللہ کی پناہ‘ ملک و قوم کے خزانے کو لوٹنیوالے ان اداروں میں پنجاب ہائی وے ڈیپارٹمنٹ نمایاں مقام رکھتا ہے جس کا فخر پنجاب ہائی وے ڈیپارٹمنٹ کے افسران کے چہروں سے چھلکتی ہوئی خوشی سے صاف ظاہر ہوتا ہے‘ پنجاب ہائی وے ڈیپارٹمنٹ کیساتھ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ‘ مقامی ڈویلپمنٹ اتھارٹیز‘ وفاقی دارلحکومت کا ترقیاتی ادارہ سی ڈی اے‘ پاکستان پوسٹ وغیرہ بھی قومی خزانے کی ’’دُرگت‘‘ بنانے میں انتہائی ایمانداری اور ’’جانفشانی‘‘ سے مصروف ہیں‘ ان تمام اداروں میں چھوٹے عہدوں پر موجود افسران اور ملازمین کی کرپشن کے نت نئے طریقوں نے پوری دنیا میں تہلکہ مچا رکھا ہے‘ پنجاب ہوئی وے ڈیپارٹمنٹ جو ان اداروں میں اپنی مثال آپ ہے کے افسران کی کرپشن سے لبریز مقبولیت کو دیکھتے ہوئے ہمسایہ ممالک کے اداروں کے افسران اور ملازمین نے بھی یہ سوچ لیا ہے کہ وہ ایک ایک ماہ کا تربیتی کورس ان افسران کی زیر نگرانی مکمل کر لیں تو راتوں رات کروڑ پتی بن سکتے ہیں‘ پاکستانی اداروں میں بڑھتی ہوئی کرپشن کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے پاکستانی قوم کو ان اداروں پر اور ان کے ’’قابل ترین‘‘ افسران پر بجا طور پر فخر کرنا چاہئے‘ ایسے حالات میں ان تمام اداروں کے ریٹائرڈ افسران کو چاہئے کہ وہ عالمی سطح کے ٹیوشن سنٹر کھول لیں اور علم کے اس ذخیرے کو غیر ملکی عوام میں بھی منتقل کریں تا کہ وہ دن دو گنی اور رات چوگنی ترقی کر سکیں‘ اس کار خیر میں ان اداروں کے حاضر سروس افسران بھی حصہ لے سکتے ہیں بالکل اسی طرح جس طرح وہ سرکاری ملازم ہوتے ہوئے بھی جعلی فرمز (کمپنیاں) بنا کر ملک و قوم کا بیڑہ غرق کرنے اور قومی خزانہ دونوں ہاتھوں اور پاؤوں سے لوٹنے میں مصروف ہیں‘ میرا ان تمام سرکاری ملازمین جو ریٹائرڈ ہو چکے ہیں یا سروس میں ہیں انہیں مخلصانہ مشورہ ہے کہ وہ عالمی سطح کا کرپٹ تربیتی مرکز قائم کریں جس کی باگ دوڑ پنجاب ہائی وے ڈیپارٹمنٹ کے ریٹائرڈ افسران کے ہاتھ میں دی جائے اور باقی محکمہ جات کے ’’قابل ترین‘‘ افسران اساتذہ کے طور پر وہاں غیر ملکی ’’طالبعلموں‘‘ کو اپنے تجربے‘ علم اور مفید مشوروں سے نوازیں۔
وطن عزیز اگر مثبت چیزوں میں نام نہیں کما سکا تو اس کی کمی اس طرح پوری کی جا سکتی ہے اور اس کیساتھ ساتھ ان ریٹائرڈ افسران کے ’’معاشی حالات‘‘ بھی ’’سنبھل‘‘ جائیں گے‘ مجھے قوی امید ہے کہ اگر اس طرح کا کوئی ادارہ قائم کر لیا جائے تو اس کا ’’طوطی‘‘ پوری دنیا میں نہ صرف بولے گا بلکہ چیخے گا بھی لیکن شرطِ لازم یہ ہے کہ اس ادارے کی باگ دوڑ پنجاب ہائی ڈیپارٹمنٹ کے ریٹائرڈ افسران کے ہاتھ میں دی جائے‘ پھر طالبعلموں کو معلوم ہوگا کہ جعلی فرمیں کیسے بنائی جاتی ہیں؟ ان فرموں کو ٹھیکے کس طرح دیئے جاتے ہیں؟ کول تار کے ڈرم کس طرح غائب ہوتے ہیں؟ سرکاری گاڑیوں کا ایندھن کہاں اور کیسے فروخت کیا جاتا ہے؟ بنائے جانے والے پُل اور فلائی اوور کیسے گرتے ہیں؟ سیمنٹ کہاں استعمال کیا جاتا ہے؟ سریے کا بہترین استعمال کیا ہوتا ہے؟ قیمتی سرکاری گاڑیوں کے پارٹس کیسے چوری ہوتے ہیں اور ان پارٹس کے اچھے دام کہاں سے ملتے ہیں؟ بھاری سرکاری مشینری کس طرح غائب کی جاتی ہے؟ مشینری کو کھڈے لائن لگانے کیلئے دریا موزوں ہوتا ہے یا کوئی اور طریقہ یا ذریعہ؟ افسرانِ بالا کو کیسے خوش کیا جاتا ہے؟ ایک ہی سیٹ پر کس طرح 20,20 سال گزارے جاتے ہیں؟ ’’سب اچھا ہے‘‘ کی رپورٹ کیسے تیار ہوتی ہے؟ کس طرح اپنی مدتِ تکمیل کے ایک ہی ماہ بعد عمارت یا سڑک کھنڈرات میں تبدیل ہوتی ہے؟ فائل نکالنے یا فائل بنانے کے دام کس طرح بڑھائے جا سکتے ہیں؟ احتسابی اداروں کے افسران کا منہ بند کیسے کیا جاتا ہے اور کس طرح ایک پراجیکٹ کو چار سے 5 سال کیلئے لٹکایا جاتا ہے؟ جب کرپشن کے یہ طالبعلم ’’اسرار و رموز‘‘ کی یہ باتیں پنجاب ہائی وے ڈیپارٹمنٹ کے قابل ترین افسران سے سیکھ لیں گے تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں ورلڈ ریکارڈ ہولڈر ’’کرپشن کا بے تاج بادشاہ‘‘ بننے سے نہیں روک سکے گی۔

یہ بھی پڑھیں  رینالہ خورد:ایس ڈی او رینالہ خورد کی ملی بھگت قبضہ مافیا نے اریگشن کی سکنی اوراراضی پر قبضہ جما لیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker