بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

مجید +فاروق=انقلاب پسند رہنما

آذادکشمیر حکومت میں ان ہاؤس تبدیلی کی باز گشت گذشتہ ماہ سے زور و شور کے ساتھ جاری اور دم توڑتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔وزیر اعظم چوہدری عبد المجید ٹھنڈے مزاج اور سیاسی پیچ و خم کے ماہر کھلاڑی ثابت ہوئے۔انہوں نے جس ہوشمندی سے نظام حکومت چلانے کا عزم کر رکھا ہے اس سے ان کے حامیوں میں اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔کراچی اجلاس سے جو انہونی متوقع تھی وہ ریت کا ڈھیر نکلا۔اگر چہ بیرسٹر سلطان محمود مضبوط وکٹ پر ہیں مگر کسی بھی تبدیلی کی صورت میں چوہدری یٰسین اور چوہدری لطیف اکبر کو سائیڈ لائن کرنا ابھی بیرسٹر سلطان محمود کے بس میں نہیں،چوہدری مجید نے جس انداز سے حکومت اور اپوزیشن کو جمہوری دھارے پر چلایا ہے اس سے بھی کسی بڑی تبدیلی کی مستقبل قریب میں توقع نہیں ۔اپوزیشن کے ساتھ ساتھ پارٹی کے اندر کی اپوزیشن کو ایک سمت پر چلانا مشکل سیاسی فن ہے ۔ماضی میں سابق وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان اپنی جماعت کے اندر کی اپوزیشن کا مقابلہ نہ کر سکے اور وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونا پڑا۔یکہ بعد دیگر سردار یعقوب خان اور راجہ فاروق حیدر خان بھی ایسی سازشوں کا شکار ہوئے حالانکہ تینوں کا ایک ہی جماعت سے تعلق تھا ۔ماضی کے ادوار سے اندازہ ہوتا ہے کہ جب جماعتی نظم غیر مستحکم ہو جائے تو پھر اس میں دراڑیں پڑنا شروع ہو جاتی ہیں۔جماعتی نظم اسی وقت غیر مستحکم ہوتا ہے جب قیادت غیر فعال ہو جائے ۔سردار عتیق خان نے جماعتی نظم و ضبط قائم نہ رکھ سکا اپنے سے سینئر ز کی عزت و حرمت کا خیال نہیں کیا اور عملی طور پر بے اعتمادی کا مظاہرہ کر کے جماعت کو ناصرف دولخت ہونے سے بچا سکا بلکہ اس سیاسی عمل کے نتیجہ میں اپوزیشن کی اہلیت بھی کھو گے۔اب لوگ ریاست کی بڑی جماعت کو لبریشن لیگ اور تحریک عمل کی سطح پر دیکھ رہے ہیں ۔واقعی بڑے انسان کی معمولی غلطی سے بڑا نقصان ہونا فطری امر ہوتا ہے۔اس اکھاڑ پچھاڑ کے نتیجے میں پاکستان مسلم لیگ ن نے بازی جیت کر مضبوط اپوزیشن بنا دی جبکہ سردار عتیق خان وٹو کریسی کے نذر ہوگے اب وہ پاکستان کی کسی بھی بڑی جماعت کے سہارے مستقبل بعید تک سیاسی منظر نامہ میں آگے نظر نہیں آرہے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ وہ اب ایک اور بڑی سیاسی غلطی کرنے جا رہے ہیں ۔انہوں نے گذشتہ چند ماہ سے تسلسل کے ساتھ یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ جمہوریت ناکام ہو چکی ہے اور ملک (ان کی سیاست)کا بقاء اس میں ہے کہ ملٹری ڈیموکریسی قائم کی جائے ۔دوسرے لفظوں میں موصوف اب نا دیدہ قوتوں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے راہ ہموار کرنا چاہئتے ہیں جس کا ابھی تک ایک فی صد امکان نظر نہیں آتا۔انہوں نے زرداری کی حمایت بھی کی جب سب کچھ لٹ گیا تو ہوش میں آتے ہی زرداری کے خلاف زبان درازی شروع کر دی ۔ان کی اس پالیسی کے پس پردہ کون ہے یہ تو وہی بتا سکتے ہیں مگر ان کی غیر جمہوری سوچ سے سیاسی حلقوں میں ان کا اعتماد گرتا جا رہا ہے۔انہوں نے زندگی کا بہت قیمتی چانس ضائع کر دیا جس کی تلافی شاہد وہ کافی عرصہ تک نہ کر سکیں۔پاکستان کی سیاست میں پی پی پی اور مسلم لیگ ن جس انداز سے سیاسی عمل جاری رکھے ہوئے ہیں اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ دونوں جماعتیں آئندہ بھی سیاسی منظر نامہ پر ناقابل شکست رہیں گی۔مستقبل بین یہ اندازہ لگاتے ہیں کہ ان دو جماعتوں کے اثر انداز ہونے سے آذادکشمیر کی سیاسی صورت حال سردار عتیق کے خلاف رہے گی۔
جہاں تک پی پی پی کی حکومت کا طرز عمل ہے تو اس بارے ابھی یہ کہنا کہ وہ ان ہاؤس تبدیلی لائیں گے یہ ممکن نہیں ،پاکستان میں انتخابات ہونے میں چند ماہ باقی ہیں اور اس موقع پر کسی تبدیلی کا امکان نہیں ۔ہاں البتہ یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ آئندہ انتخابات کے نتیجے میں مسلم لیگ ن اگر مرکز میں حکومت بنا لیتی ہے تو پھر کسی حد تک آذادکشمیر میں مسلم لیگ ن ایک بار پھر مخلوط حکومت بنانے میں کامیاب ہو سکتی ہے ایسی صورت میں مسلم کانفرنس کا رول کہیں نظر نہیں آتا دکھائی دیتا۔ذمینی حقائق یہی بتاتے ہیں کہ اگر چوہدری مجید نے ہوشمندی کا مظاہرہ کیا تو وہ وزارت عظمیٰ کا دورانیہ طویل کر لیں گے اور یہ بھی اندازہ غلط نہ ہوگا کہ ذہانت سے متوقع بحرانوں کا بہتر انداز سے مقابلہ کرنے میں سرخرو ہو جائیں۔چوہدری مجید ہوائی اعلانات کے خلاف ہیں انہوں نے عملی سیاست کا طویل دور گذارہ ہے ۔جو پارٹی کی ہائی کمان میں تعریفی انداز سے دیکھا جاتا ہے۔انہوں نے ترقی پسند سوچ اور نظریہ کے فروغ کے لئے عام کارکن سے وزارت عظمیٰ تک جو سفر طے کیا ہے یہ انہیں کریڈٹ دیتا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ ان کی سیاسی جد و جہد کی ان کے مخالفین بھی تعریف کرتے ہیں ۔دوران طالب علمی راقم بھی صاحبزادہ محمد اسحق ظفر ( جنہیں میں مرحوم لکھنا مناسب نہیں سمجھتا )ان کے ہمراہ جلال آباد چوکی مظفرآباد میں ایک مظاہرے کے دوران حراست میں رہا ۔اس وقت ضیاء آمریت کے خلاف چند گنے چنے کارکن میدان عمل میں رہے ۔چوہدری مجید کی جمہوری جد و جہد مضبوط بنیادوں پر قائم ہے جن کے ساتھ نظریاتی کارکنان کی ہمدردی موجود ہے اور اس پلس پوائنٹ کی بنا پر ان کی حکمرانی کو چیلنج کرنا مشکل امر ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اب اقتدار کے جوبن میں پی پی پی کے لشکر میں بہت لوگ کریڈٹ حاصل کرنے کے چکر میں نظریاتی جد و جہد سے ہٹ چکے ہیں ۔گیم آف پاور نے سیاست میں جگہ لے رکھی ہے۔بھٹو ازم کی کمزوری فکری لام بندی نہ ہونے سے واقع ہونا بڑا المیہ ہے۔اگر چوہدری مجید جماعتی صف بندی بھٹو ازم پر کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ان کا نام ہمیشہ تاریخ میں یاد گار رہے گا۔لیکن ایسا ہونا اس لئے مشکل ہے کیونکہ جب مفاداتی اور وارداتی گھس آئیں تو پھر نظریات کا جنازہ نکل جانا فطری عمل ہو جاتا ہے۔پی پی پی کی بنیاد عوامی انقلاب پر رکھی گئی تھی ۔عوام کی حکمرانی قائم تب ہی ہو سکتی ہے جب مروجہ بیوروکریسی کی عوام دشمن پالیسیوں کے بجائے عوام کی آواز کو اہمیت دی جائے ۔اگر پٹواری سے ڈی سی اور سیکرٹری تک عوام کو گھسیٹا جاتا رہے تو پھر عوامی انقلاب کے دعوے بے بنیاد کہلائے جائیں گے ۔اگر وزیر اعظم بھٹو ازم کے فروغ کے لئے بہتر اصلاحات لانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر ان کی طویل جد و جہد سنہرے حروف میں رقم ہو گی۔ حالیہ جھٹکا ہوتے ہوتے رہ گیا ہے اب انہیں عام شہریوں کی زندگی بہتر بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے ہونگے ۔انہیں اللہ تعالیٰ نے بڑا موقع عنایت کیا ہے جس کا تقاضہ ہے کہ وہ پوری دیانت داری کے ساتھ شب و روز عوامی بھلائی کے لئے صرف کریں ۔آنے والا وقت اس سے بھی مشکل نظر آرہا ہے ۔جس کے دفاع کے لئے انہیں ہر سطح پر بھر پور توجہ کی ضرورت ہے تاکہ جمہوری نظام مستحکم رہے اور ترقی و خوشحالی کا سفر آسان ہو سکے ۔چوہدری مجید کے لئے یہ بھی پلس پوائنٹ ہے کہ اپوزیشن لیڈ ر راجہ فاروق حیدر خان ایک جرات مند اور انقلابی سوچ کے حامل شخصیت ہیں ان کی جمہوری جد و جہد بھی لائق تحسین ہے ۔راجہ فاروق حیدر خان کی عوام دوست اور جمہوریت پسند سوچ و فکر ہمارا اثاثہ ہے ۔جمہوری تقاضہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن عوام کی خیر خواہی کے لئے مل کر مثبت اندازِ فکر کے فروغ کے لئے ہمہ جہتی بنیادوں پر سیاسی سفر جاری رکھیں ۔آذادکشمیر کے عوام کی خوش بختی ہے کہ انہیں قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف ذہین و فطین ،زیرک و معاملہ فہم اور دور اندیش و علم و حکمت کے خزانے سے فیضیاب نصیب ہوئے ہیں ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی وقار اور ملکی سلامتی کے لئے دونوں سیاسی جماعتوں کے رہنما ’’تنقید برائے تنقید کے بجائے ،تنقید برائے تعمیر‘‘ پر توجہ دیکر جمہوریت کے ثمرات سے عوام کو نوازیں۔اسی فلسفہ اور نظریہ میں ان کا نام ہمیشہ زندہ و تابندہ رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں  متحدہ کو سندھ حکومت کا حصہ بنانے میں میری رائے شامل نہیں، خورشید شاہ

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker