پاکستانتازہ ترین

جب تک ڈرون حملے بند نہیں ہوتے امن عمل آگے نہیں بڑھ سکتا،چوہدری نثار

ch nasaarاسلام آباد(بیورو رپورٹ)وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ جب تک ڈرون حملے بند نہیں ہوتے اس وقت تک امن عمل آگے نہیں بڑھ سکتا۔امریکی ڈرون حملے کے باوجود طالبان میں بھی بعض لوگ مذاکرات چاہتے ہیں،حکومت اور اپوزیشن متفق ہیں کہ ڈرون حملے پاکستان کی سالمیت کے خلاف ہیں۔ بیرون ممالک اور بعض طاقتیں اپنے مفادات کے تحت اس خطے کے امن کو تباہی کے دہانے پر لارہی ہیں پارلیمنٹ کوملک کے طول وعرض کا تحفظ کرنا ہے ۔شہید قرار دینا اور نہ دینا انتہائی نامناسب بات ہے اور یہ موقع نہیں ہے کہ اس طرح کی باتیں کی جائیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ پاک فوج اگر امریکہ کی جنگ لڑ ر ہی ہے تو پھر امریکہ پاک فوج کو ہی کیوں چارج شیٹ کرتا ہے۔تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے ایک ہاتھ سے نہیں اگر حکومت مذاکرات کی بات کرتی ہے اور دوسری جانب سے مسلسل انکار کیا گیا تو وہ کام کریں گے جو ایک محب وطن پاکستانی کو کرنا چاہیے۔ اندھے مذاکرات کی بات نہیں کررہے ہیں کیونکہ یہ مسئلہ ملک کے مستقبل کا ہے۔وہ پیر کو یہاں قومی اسمبلی کے اجلاس میں امریکی ڈرون حملہ اور طالبان سے مذاکرات کے حوالہ سے بحث سمیٹ رہے تھے۔ قومی اسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹہ پچاس منٹ کی تاخیر سے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت تلاوت کلام پاک سے شروع ہوا ، بعدازاں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ڈرون حملوں کے حوالے سے ہونیوالی بحث کو سمیٹتے ہوئے کہا کہ ایک بات اپوزیشن کی جانب سے سامنے آئی ہے کہ ہم اس بحث کو طول دے رہے ہیں صرف ایک دن ہی جمعرات کو ایوان سے غیر حاضر رہا جس کے باعث اس بحث کو اس روز سمیٹ نہ سکا ۔ اپوزیشن اور حکومت دونوں کی جانب سے یہ بات اتفاق رائے سے سامنے آئی ہے کہ ڈرون حملے پاکستان کی سالمیت کے مخالف ہیں اور مذاکرات کو ترجیح دی جائے تاکہ ملک میں امن قائم ہو ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک انتہائی گھمبیر حالات سے گزر رہا ہے ۔ بیرون ممالک اور بعض طاقتیں اپنے مفادات کے تحت اس خطے کے امن کو تباہی کے دہانے پر لارہی ہیں اب اس پارلیمنٹ کا حصہ ہونے کے باعث اس ملک کے طول وعرض کا تحفظ کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے اہم نوعیت کے معاملات میں اپوزیشن نے اپنے سیاسی اختلافات سے بالا ہوکر طالبان سے مذاکرات کی حمایت کی اور تمام سیاسی جماعتوں کی بالغ نظری کے باعث اپوزیشن حکومت کا ساتھ دے رہی ہے ۔میں نے کہا کہ کراچی کا آپریشن کامیاب نہیں ہوگا لیکن اب آپریشن کامیاب ہورہا ہے کراچی میں بزنس کمیونٹی ، میڈیا اور سول سوسائٹی نے فیڈ بیک دیا ہے کہ ساٹھ فیصد حالات وہاں بہتر ہوچکے ہیں۔اس آپریشن کو صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر کامیاب بنائینگے۔انہوں نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس دو ماہ دو دن پہلے بلائی گئی اور ایک راہ متعین کی گئی اور قومی مفاد میں فیصلے کئے گئے۔اگر مذاکرات کی پہلی اینٹ رکھ دی جاتی تو اس ایوان کو ان مذہبی اور سیاسی رہنماؤں کے نام بتادیتا مگر اب نہیں بتا سکتا کیونکہ اس سے ان علماء کرام اور سہولت کاروں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ان کو سیاسی جماعتوں کے بارے میں بتاتا جنہوں نے اس معاملے پر بھرپور تعاون کیا اور ایوان کو کچھ اہم ایشوز پر بھی آگاہی فراہم کرتا مگر افسوس ایک ڈرون حملے کے عین موقع پر ہر چیز کو تباہ کردیا اور بارہ گھنٹے پہلے ان مذاکرات کو پاش پاش کردیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وزیراعظم کو اعلیٰ سطحی امریکن کی جانب سے وضاحت پیش کی گئی ہے کہ ہم نے امن مذاکرات کو دھچکا نہیں لگایا حالانکہ میرے حقائق کے مطابق یہ ڈرون اٹیک ایک شخص پر نہیں مذاکرات کی میز پر کیا گیا ہے کیوں کہ اس حملے سے ایک شخص قتل نہیں ہوا مذاکرات کا عمل قتل ہوگیا کیونکہ یہ مذاکرات پی ٹی آئی ، نواز لیگ یا ایک جماعت کا نہیں بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کا یہ مذاکراتی عمل تھا ۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کے کسی ترجمان کو جوابدہ نہیں بلکہ خدا کے بعد اس پارلیمنٹ کو جوابدہ ہوں۔انہوں نے کہا کہ بہت سے بلیک اینڈ وائٹ شواہد میرے پاس ہیں جن کو صرف اس لئے سامنے نہیں لایا کیونکہ مذاکرات کے عمل کو ڈی ریل نہیں کرنا چاہتے۔اس معاملے کو دیانتداری سے آگے بڑھا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سابق ڈکٹیٹر سمیت اہم شخصیات کو اس ایوان میں جوابدہ بنایا ہے حالانکہ ہم اس وقت اپوزیشن میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس امن عمل میں جس طرح پاک فوج نے دل و جان سے اس عمل کی حمایت کی وہ سب کے سامنے ہے اور جنرل نیازی کی شہادت کے بعد فوج میں بہت سخت ردعمل پایا جاتا تھا مگر فوجی قیادت نے برد باری کا مظاہرہ کرتے ہوئے امن عمل اور مذاکرات کی پھر بھی حمایت کی مگر اس کے باوجود چرچ حملہ اور قصہ خوانی بازار کے واقعات رونما ہوگئے پھر بس پر حملہ کردیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ امن عمل میں پاکستان تحریک انصاف سب کے سامنے ہے مگر ان کے صوبائی اراکین کو بھی نشانہ بنایا گیا حالانکہ تحریک انصاف امریکہ کی مخالف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شہید قرار دینا اور نہ دینا انتہائی نامناسب بات ہے اور یہ موقع نہیں ہے کہ اس طرح کی باتیں کی جائیں۔انہوں نے کہا کہ پاک فوج کی اس ملک کے دفاع اور سالمیت کے لیے بہت قربانیاں ہیں ان کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ پاک فوج اگر امریکہ کی جنگ لڑ ر ہی ہے تو پھر امریکہ پاک فوج کو ہی کیوں چارج شیٹ کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ افغان متحارب گروپوں اور افغان طالبان کے تعلقات پاک فوج سے بہتر ہیں اور یہی ط

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button