تازہ ترینشیر محمد اعوانکالم

چہ مگوئیاں

sheer awan

منتظر تھے ہم اپنی باری کے
اور کھڑے تھے قطار سے باہر

حضرت علیؓ کے قول کا مفہوم ہے کہ آخر تک کسی کے ساتھ چلو ۔کیونکہ یا تو تمہیں اچھا دوست ملے گا یا اچھا سبق۔اس الیکشن کے نتائج سے یوں لگ رہا ہے کے عوام نے پچھلی حکومت سے ایک اچھا سبق لیا اور کرپشن کے ریکارڈ ہولڈر سابقہ وزرا ء اور ممبر قومی صوبائی اسمبلی کے ساتھ ساتھ سابقہ حکومتی جماعتوں کوبتا دیا کہ عوام کی خدمت کی بجائے اپنی جیبیں بھرنے کا انجام کیا ہوتا ہے۔الیکشن سے چند روز پہلے والے سیاسی تجزیہ میں جب میں نے لکھا کہ زمینی حقائق کے مطابق پی ٹی آئی تیس ،پی پی پی پی تینتیس ، ایم کیو ایم پندرہ اور نون ایک سو پندرہ سے زائد لے گی تو بہت سے احباب اور قاری نالاں نظر آئے لیکن آج سب آپکے سامنے ہے۔کیونکہ صرف بینرز اور شور شرابہ سے اندازہ لگانے اور مختلف علاقہ جات کی سیاست،سیاسی جوڑ توڑ،لوگوں کی آراء ،ان علاقوں میں ڈویلپمنٹ،شخصی اور نظریاتی ووٹ،ووٹ ٹرن آوٹ اور ایسے بہت سے دوسرے حقائق کو مدنظر رکھ کے اندازہ لگانے میں یہی فرق ہوتا ہے۔بحرحال شکر خدا کاکہ عوام نے ووٹ تقسیم نہ کر کے مخلوط حکومت سے جان چھڑا لی ہے ۔اب ہر شخص کو چاہیے کہ نو منتخب حکومت کا ساتھ دے اور اگر اچھا دوست ملے تو اگلی بار اسکا ساتھ دیں اور اگر اچھا سبق ملے تو دوسری جماعتوں کی طرح اسے بھی کنارے سے لگا کے سبق سکھائیں۔بحرحال اپنے ملک کی ترقی کے لیے گلے شکوے ،پارٹی بازی اور علاقہ و زبان کی سیاست کو بالاے طاق رکھ کر ملکی ترقی کے لیے یکجا ہو جائیں ۔
سونامی کی لہریں بحیرہ پختونسناں سے بڑے زور سے ٹکرائی لیکن ارد گرد اسکے فقط چھینٹے پڑے۔البتہ اس بحیرہ کے نواحی علاقہ راوالپنڈی کے پرانے مکین سونامی کی لپیٹ میں آ گئے حالانکہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے اس علاقہ میں ( سکولز،کالجز،ہسپتال،کاردیالوجی سنٹر،یورالوجی سنٹر،روڈز اور برجز)ڈویلپمنٹ کے بڑے بند لگائے تھے۔سونامی بچوں کو بہت مایوسی ہوئی ہو گی لیکن انکے لیڈرز کو نہیں کیونکہ انکو رزلٹ کا پتہ تھا اور اگر وہ اس سے زیادہ توقع کر رہے تھے تو پھر وہ سیاست کی کتابوں کو مزید سٹڈی کریں۔بحرحال باؤلر نے اچھا سکور کیا۔ہو سکتا ہے کے انہیں پشاور کے ٹیسٹ میچ میں کھیلنے کا موقع ملے تو وہاں اپنی صلاحیتیں منوا سکتے ہیں۔امید ہے وہ عوام کے جذبات سے کھیلنے کی بجائے مثالی حکومت بنا کر دل جیتیں اور وفاق میں مخلص مضبوط اپوزیشن کا کردار نبھائیں گے نہ کہ اپنی انا روا رکھیں۔لیکن ڈرون گرانے،طالبان سے مذاکرات ،امن و امان،پولیس مافیا اور ڈاکو مافیا سے نجات بہت بڑے چیلنج ہیں جنکا وہ کئی بار وعدہ کر چکے ہیں اور ساتھ ہی وہ یہ بھی فرماتے رہے ہیں کہ یہ سب اختیار صوبوں کے پاس ہے۔خان صاحب کے پاس اپنی صلاحیت کا لوہا منوانے کا سنہری موقع ہے۔اور اسکے ساتھ ساتھ گزارش ہے کہ وہ اپنے جیالوں کو ملک میں امن قائم رکھنے کا کہیں کیونکہ تبدیلی سے پہلے تمیز کی ضرورت ہے جو ہر پارٹی کے جیالوں میں ناپید ہو چکی ہے۔ہر پارٹی کے لیڈر کو چاہیے کے اپنے جیالوں کو ملک میں امن وامان قائم کریں تا کہ ملک میں سرمایہ کاری کرنے والوں کا اعتماد بحال ہو۔جو لوگ شکست تسلیم نہیں کرتے انہیں فتح نصیب نہیں ہوا کرتی۔
نواز شریف صاحب مقبول ترین لیڈر کے طور پر ایک بار پھر سامنے آئے ہیں۔یا تو یہ آزاد لوگوں کو ساتھ ملاکر حکومت بنائیں یاپھر فضل الرحمن اور شیرپاؤ کو ساتھ ملائیں اس کاایک فائدہ یہ بھی ہے کہ خیبر میں چند آزاد لوگوں کی مدد سے مخلوط حکومت بنانے کا امکان بھی ہو گا۔لیکن اگر وہ سیاسی بصیرت رکھتے ہیں تو انکو ساتھ نہیں ملانا چاہیے ایک تو پی ٹی آئی کی حکومت بنے گی اور صوبے کو فائدہ ہو گا کیونکہ مخلوط حکومت ہمیشہ نقصان دہ اور کرپٹ ہوتی ہے دوسرا یہ کہ پی ٹی آئی کی کارکردگی بھی سامنے آ جائے گی۔ کہ پی ٹی آئی اور نون دونوں مل جاتے تو بہتر تھا دونوں اس وقت تک ملک کی پسندیدہ ترین جماعتیں ہیں اس سے پی ٹی آئی کی خیبر میں حکومت بھی پکی ہو گی اور سب سے بڑھ کے سونامیوں اور شیروں میں بڑھتی چپکلش بھی کم ہو گی اور ملک میں کچھ سکون ہو گا کیونکہ نوجوانوں میں بڑھتی رنجشیں ناصرف امن و امان کی خستہ دیوار کے یے ایک دھکا ہے بلکہ چھوٹی بڑی دشمینوں کا سبب بن رہی ہیں جو کہ باہمی بھائی چارہ کو درگور کر رہی ہیں۔بحرحال نون کو سیاسی وضع داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور خیبر میں مخلوط حکومت کا مشورہ دینے والوں کو ہر گز ہر گز گھاس نہیں ڈالنی چاہیے۔۔۔۔
۔کراچی کو باپ کی جاگیر سمجھنے والوں کا چہرہ دکھانے کے لیے تو خیر کئی کالم لکھنے ہونگے اور ہر شخص کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا بحرحال چہ مگوئیاں جاری ہیں لیکن تحریر بڑی ہوتی جا رہی ہے اس لیے باقی اگلی تحریر میں آپ کی نظر کروں گا۔یہاں یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ الیکشن ہو گئے ہیں خدارا اب پارٹی اور شخصیات کے سحر سے نجات حاصل کریں۔بالخصوص نوجوان ایک دوسرے سے لڑنے جھگڑنے اور دھرنوں کی بجائے ملک کا سوچیں۔اگر یہ حکومت غلط کام کرے گی تو ہم اسے بھی بھرپور انداز میں تنقید کا نشانہ بنائیں گے۔لیکن فی الحال اسے کام کرنے دیں ۔سٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے صرف اس لیے کہ ملک میں مخلوط حکومت نہیں بن رہی اگر ہر جگہ اپنی انا کی تسکین کے لیے دھرنے ہونگے تو پھر سے وہی حال ہو گا جو پچھلے پندرہ سال میں رہا ہے اور پھر یہ کبھی بھی ٹھیک نہیں ہو گے ۔خدا آپکو اور وطن عزیز کو سلامت رکھے

یہ بھی پڑھیں  ٹیکسلا:بزم ثنا خوان مصطفیٰ کے زیراہتمام جشن عید میلاد النبی ﷺ کے سلسلے جمیل آباد سے ٹیکسلا تک جلوس

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker