پاکستانتازہ ترین

چیئرمین سینیٹ عدالت میں پیش ہوں گے؟ سپریم کورٹ کے نوٹسزپررائےمانگ لی

اسلام آباد (بیوروچیف) چیئرمین سینیٹ نے توہین عدالت ایکٹ کے خلاف دائر درخواستوں پر سپریم کورٹ کے جاری کردہ نوٹسز کی قانونی حیثیت پر وزارت قانون سے رائے مانگ لی۔ سینیٹ سیکریٹریٹ کا موقف ہے کہ بل کی منظوری سے چیئرمین کا براہ راست کوئی تعلق نہیں۔ انھیں عدالت میں بلانا غیر ضروری ہے۔ سینیٹ سیکریٹریٹ کے مطابق، سپریم کورٹ کے نوٹس پر چیئرمین سینیٹ خود عدالت میں پیش نہیں ہوں گے کیونکہ توہین عدالت ایکٹ سے ان کا براہ راست کوئی تعلق نہیں۔ مذکورہ بل حکومت نے پیش کیا جسے دونوں ایوانوں نے منظور کیا۔ سینیٹ سیکریٹریٹ کے مطابق، ایکٹ کی منظوری کے بعد آئینی اداروں کے سربراہان کو عدالت طلب کرنا غیر ضروری ہے۔ اس سے آئینی عہدوں کی تضحیک ہوتی ہے۔ عدالت کو قانون غلط سمجھنے پر نوٹسز دینا ہوں تو بل کی حمایت کرنے والوں کو جاری کرنے چاہئیں۔ سینیٹ سیکریٹریٹ کا کہنا ہے کہ توہین عدالت قانون کے خلاف 6 درخواستیں دائر کی گئیں جن میں سے صرف 2 میں ہی اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کو فریق بنایا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سینیٹ کے قانونی مشیر انہی خطوط پر جواب تیار کر رہے ہیں جو کہ آئندہ سماعت پر سپریم کورٹ میں جمع کرایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker