اعظم عظیمتازہ ترینکالم

چیمپیئن دُنبہ بمقابلہ دُنبے کا بچہ

آج کہنے کو بہت کچھ ہے مگرجو کچھ بھی کہنا اور سمجھاناچاہوں گا؛ اِنتہائی اختصار کے ساتھ بیان کروں گا،آپ سب سے التماس ہے کہ میرے لکھے کا سیاسی ، اخلاقی اور سماجی پہلواور مطلب خودنکالیں گے۔دنیا کو جتنی ترقی کرنی تھی کرلی ہے ۔اَب تک کرونا وائرس کی دواایجاد نہ کرنے کا کیا یہ مقصدنہیں لیا جاسکتاہے؟ کہ دنیا کی ترقی اور ایجادات کی رفتاررک گئی ہے ۔ جلد ہی ہماری یہ ساری دنیا سمٹ جائے گی اور ایک وقت ایسا بھی آجائے گا؛ جب ہماری یہ جدید دنیا سمٹتے سمٹتے اتنی چھوٹی ہوکر ایک نقطے جتنی ہو کر ختم ہوجائے گی۔
بہر کیف، داناکہتے ہیں اگرکہ موجودہ دنیا میں دعاو ¿ں ، بد عاو ¿ں ، نعرے اور نعروں کا مقابلہ کیا جاتا اور اگراِن سب کی کوئی قیمت ہوتی تو یقینی طور پر سب سے زیادہ ہم دولت مند ہوتے۔ کیوں کہ دعائیں ، بددعائیں اور نعرے اور نعروں کی ایجادات میں ہماری پاکستانی قوم درجہ بدرجہ خود کفیل ہے۔ اِس لئے دنیا کا کوئی ملک اور کوئی بھی قوم ہمارا اِن حوالوں سے مقابلہ نہیں کرسکتی ہے۔نعرے ہم خود مناتے ہیں؛ اور خود ہی لگاتے ہیں ۔دعاو ¿ں اور بددعاو ¿ں کا معاملہ بھی کچھ اِس سے مختلف نہیں ہے۔
غرض یہ کہ ایسا لگتا ہے کہ جیسے آج ہمارا سیاسی، اخلاقی اور سماجی ڈھانچہ دعاو ¿ں ، بددعاو ¿ں اورنعرے اور نعروں پرہی قائم ہے۔ ہم 72سال میں سِوائے دُعائیں اور بددعائیں دینے ، لینے اور طرح طرح کے نعرے بنانے اور نعرے لگانے کے کوئی کام نہیں کرسکے ہیں؛ یا یوں کہہ لیں کہ ہم اِس کے علاوہ کچھ کرہی نہیں سکتے ہیں ۔تب ہی ہم ترقی نہیں کرسکے ہیں ۔اگر کسی کو اِس سے اختلاف ہے ۔تو وہ اپنی لب کُشائی کرنے کی بجائے؛ قوم کو اِسی حال پر رہنے دے ۔ابھی تک جس پر چل کر یہ خوش ہے ۔اگر کسی نے اِسے اِس گرداب سے نکالنا چاہا توقوم اِس کا قبر تک پیچھا نہیں چھوڑے گی یعنی کہ قوم کو سیدھی راہ دِکھانے والے کی خیرنہیں ہوگی۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ میری قوم کا ایک بہت بڑا طبقہ عقل اور آنکھ پر پٹی باندھے کسی نہ کسی سے متاثر ہے۔جو حقیقت کو جاننے کا روادار ہی نہیں ہے ۔ یہ طبقہ برسوں سے بھیڑچال چل رہا ہے۔ جیسا کوئی اِسے جِدھر کو ہانک دیتا ہے؛ یہ اُدھر کو اپنا نقصان کی پرواہ کئے بغیر چل پڑتا ہے۔ جس کی وجہ قوم میں اخلاقی، سماجی اور سیاسی اعتبار سے اچھائیوں کی نسبت برائیاں زیادہ پیداہوگئی ہیں۔
پچھلے زمانے کی بات ہے کہ ایک صاحب کو دُنبہ لڑانے کا بہت شوق تھا۔ اپنے اِس شوق کی تکمیل کے خاطر ایک اعلیٰ نسل کا دُنبہ خرید لائے، جس کی خوب خدمت کرتے ، اپنی ذات سے زیادہ دُبنے کی خوراک اور صفائی سُتھرائی کا خیال رکھتے ، اِسے میدان میں اُترنے سے لے کر مقابلے کے تمام حربے اور گُر سیکھاتے ۔حتی کہ ایک وقت گزرنے کے بعد جب مطمئن ہو گئے کہ اِن کا دُنبہ مکمل طور پر صحت مند اور وزن میں پوراہوگیاہے؛ اور لڑائی کے سارے حربے سیکھ چکا ہے؛ پھر اِن صاحب نے پہلے تو اپنے دُبنے کو ضلعی سطح سے شہر اور پھر ملک گیر ہونے والے دُبنے کی لڑائیوں کے مقابلوں کے لئے پیش کردیا ۔کچھ ہی مقابلوں میں شرکت کے بعد اِن کے دُبنے کی فتح و کامرانی اور کامیابیوں اور اِن کی بھی شہرت کے ڈنکے بجنے لگے۔
اَب تو جہاں کہیں بھی دُنبے کی لڑائی کا کوئی مقابلہ ہوتا؛ اِس میں یہ دونوں سرفہرست اور نمایاں ہوتے ۔یوں جہاں اِن کی شرکت یقینی ہوتی تو وہیں جیت کے سوفیصد امکانات بھی روشن ہوتے ،نہ صرف اپنی ریاست میں بلکہ پڑوسی ریاستوں میں بھی دونوں کی خُوب شہرت ہوگئی تھی ۔
اِس طرح کئی سالوں تک اِن صاحب کے دُنبے نے اپنی کامیابی کے ساتھ اعزارات کے ریکارڈ بھی خُوب قائم کئے ۔جس سے دُنبے کے ملک میں غرور اور تکبر پیدا ہوگیا۔اِس نے یہ سمجھا کہ اَب اِس کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ اِن کے دُبنے کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتاہے۔ اِسی وجہ سے ایک بھرے میدان میں ہونے والے مقابلے کے بعد اِن صاحب نے اپنی گردن تان کر او رسینہ پھولا کر باآواز ِبلند مجمع کو للکار دیا کہ ہے کسی کے پاس ایسا دُنبہ ہے ۔جو میرے دُنبے کا مقابلہ کرے ۔ کوئی ہے؟ جو میرے دُبنے کو ہرائے اور شکست دے: تو میں اپنی ہار تسلیم کرتے ہوئے جتنے والے دُنبے اور اِس کے مالک کو اپنی جانب سے انعامات کے خزانے دے دوں گا؛ ابھی اِن کا یہ اعلان ختم ہی ہوا تھا کہ بھر ے مجمع میں سے ایک آدمی اُٹھا اور اِس نے آگے بڑھ کر آواز سے کہا کہ ” ہاں میرا دُنبے کا بچہ جو ابھی کچھ ہی سال کا ہے۔ رنگ بھی جو کالا ہے۔ اور تمہارے دُنبے کے مقابلے میں وزن میں بھی بہت کم (یہی کوئی 14یا 15کلو کا )ہے۔ جِسے میدان میں لڑائی کا تجربہ بھی کچھ نہیںہے۔ آج میں تمہارے دُنبے سے اپنے دُنبے کے بچے کی میدان میں لڑائی اور مقابلے کی تاریخ کا اعلان کرتا ہوں ۔
اِس آدمی کے اعلان پر پہلے تو فاتح دُنبے کا مالک بہت حیران ہوا۔!!پھر مذاق سے بولا کیوں اپنے دُنبے کے بچے کی جان کے در پر ہو؟لالچی آدمی کیوں اِس سے کس دُشمنی کا بدلہ لے رہے ہو؟ کہاں میرا ڈھائی من کا دُنبہ اور کہاں تمہار ا یہ پندرہ کلو کے وزن والا دُنبے کا بچہ ؟ اگرپھر بھی واقعی تم یہی چاہتے ہو تو پھر مجھے کیا اعتراض ہے۔ !مجھے تمہاری دعوت اور چیلنج قبول ہے۔ دن تاریخ ،وقت اور مقابلے کا مقام طے کیا گیاجس کے بعد اگلے مقابلے کی تاریخ اور مقام تک مجمع چھٹ گیا ۔
بہر حال، آخر کار مقابلے کی تاریخ آگئی۔ مقابلے کے لئے میدان سج گیا ۔ اِس اَنوکھے مقابلے کو دیکھنے اور اِس سے لفت اندوز ہونے کے لئے لاکھوں کا مجمع تھا۔میدان بھی کھچاکھچ بھراہوا تھا ،دونوں ہی جانب سے بلا کی گرم جوشی تھی ، ہر طرف شوربرپا تھا۔ ایسے میں ایک جانب میدان میں دُنبے کی لڑائیوں کے مقابلوں کے حوالوں سے کئی ریکارڈیافتہ( دودھ جیسا سفیدڈھائی من کا)دُنبہ اور اِس کا مالک تھا ۔تو دوسری ہی جانب کالے رنگ کا یہی کوئی 14یا15کلوکے وزن والا( جِسے پورا دُنبہ بھی نہیں کہا جاسکتا بل کہ) دُنبے کا بچہ اور اِس کا مالک تھا۔کچھ ہی دیر میں مقابلے کے تمام ضروری تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ،باقاعدہ طور پر مقابلے کے لئے اعلان ہوا اور پھر یکا یک مقابلے کے ریفری نے مقابلے کی سیٹی بجائی ۔ یوں مقابلہ شروع ہوگیا ۔
اِس دوران میدان میں اِنسانی آنکھوں نے دیکھا کہ” بڑا اور چھوٹا دُنبہ اپنی اپنی جانب سے دوڑتے ہوئے مقابلے کے نشان تک پہنچتے ہیں۔ مگریہ کیا ؟کہ بڑاچییمپئن دُنبہ چھوٹے دُنبے کو دیکھتے ہی دوبارہ تیزی سے دُم دبا کر بھاگ کر واپسی کی راہ لے لیتا ہے ۔جہاں سے دوڑا ہواآیا تھا ۔وہیں جا کر رک جاتا ہے۔ جب کہ چھوٹا دُنبہ مقابلے کے لئے اپنے مرکز یعنی کے میدان کے سینٹرل میں ہی جماہواکھڑارہتاہے۔ پہلی مرتبہ ایساہوتا ہوادیکھ کر لوگ محظوظ ضرور ہوئے ۔مگر سب ہی اِس عمل کو کوئی فنی کمی ، خرابی یا غلطی جان کر رد کرگئے۔ مگر جب یکے بعد دیگرے دوسے تین مرتبہ بڑے اور چھوٹے دُنبے اپنی اپنی پوزیشن سے مقابلے کے مرکزی پوائنٹ اور نقطے کی جانب دوڑے آئے اور ہر مرتبہ ہی ایسا ہوا کہ بڑادُنبہ چھوٹے دُنبہ سے بھڑے (گُتھم گُتھا)ہوئے بغیریعنی کے لڑے بغیر ہی واپس اپنی پوزیشن کو پلٹ گیا توآخر کار مقابلے کے ججز اور ریفری نے فتح اور جیت کا فیصلہ کالے اور چھوٹے دُنبے کے حق میں دے دیا ۔کیوں کہ ہر مرتبہ چھوٹا دُنبہ اپنی پوزیش سے دوڑنے کے بعد مقابلے کے مقام سے پیچھے نہیں پلٹاتھا ۔بل کہ مقابلے کے لئے اپنی پوزیشن پر کھڑارہاتھا یہ منظر بھی چشم فلک اور اِنسانی آنکھوں نے دیکھا کہ ایک کمزور اور کالے رنگ کے ناتجربہ کار دُنبے کے ہاتھوں کئی حوالوں سے ریکارڈ یافتہ سفید اور توانا چیمپیئن دُنبے کو ایک کالے اور کمزور دُنبے کے بچے سے شکست کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔جس کی آن کی آن جنگل کی آگ کی طرح پوری ریاست میں دھوم مچ گئی تھی کہ آج ایک کمزور اور ناتجربہ کار دُنبے کے بچے کے ہاتھوں اپنے زمانے کا مایہ ناز اور چمپیئن دُنبہ ایک دُنبہ کے بچے سے ہار گیاہے ۔آخر کارکچھ عرصے کے بعد جب یہ واقع اور بات ذراپرانی ہوئی تو اِس جیت کے معاملے کی کھوج میں لگے کسی دانا اور عقل مندتجزیہ کار نے ایک دن دُنبہ بچے کے مالک سے چیمپیئن دُنبے کی ہار کی وجہ پوچھی تو جس نے کچھ یوں بتایا کہ” غروراور تکبر اِنسان کو ذلیل اور خوار کردیتے ہیں۔ میرے دُنبے کی جیت کی وجہ یہ تھی کہ جب سے میں نے مقابلے کا اعلان کیاتھا۔ اِس دن کے بعد سے میں نے اپنے دُنبے کو سِوائے گرم جوشی اور تیزی سے مقابلے کے مقام تک دوڑ کرجانے والے عمل سامنے والے کو ٹکرمارنے کے سیکھانے کے اِسے اور کچھ نہیں سیکھایا تھا۔ جب کہ جو کام مجھے کرنا تھا وہ یہ تھا کہ میں روزانہ اِسے شیر کی کچھاڑسے لائی مٹی اور گندگی کے پانی سے نہلانے کے اور کچھ نہیں کرتاتھا۔ جس کے لئے میں شیر کی کچھاڑ سے مٹی اور وہاں موجود ساری گنداُٹھا لاتا اور اِسے رات میں بالٹی میں بھیگا دیتا اور اگلے روز اِس پانی سے اپنے دُنبے کے بچے کو نہلادیتا رہا ۔حتی کہ یہ سلسلہ مقابلے کے دن تک جاری رہا۔یوں میرادُنبے کا بچہ مقابلہ جیت گیااور انعامات کا حقدار ٹھیرایاگیااِس طرح غرورکا سربھی نیچے ہوگیاہے اور آج کل دنیامیں میرے دُنبے کا بول بالا ہے۔اِسی لئے دانا کہتے ہیں کہ جہاں کسی بھی کام کے لئے گرم جوشی سے قدم بڑھایا جائے تووہیں ذراسی حکمت سے یا حکمت والوں سے بھی کام لے کرمشکل کو آسان بنایا جاسکتاہے۔ اگر اپنے پاس حکمت نہ بھی ہو؛تو حکمت والوں سے بھی مدد لے جاسکتی ہے۔اُن کی صعبت میں رہ کر بہت کچھ کیا جاسکتاہے۔ جیساکہ26جولائی 2018کے بعد سے ہمارے یہاں بھی آج کل……..کچھ ایسا ہی ہورہاہے۔ بہت سوں کے پاس سے شیر کی کچھاڑ والے پانی سے کئے گئے غسل کی بوآرہی ہے۔ اور سامنے والوں پرشیرکا انجانہ ساخوف طاری ہے جب کہ حقیقت میں ایسا ….!!
یہ بھی پڑھیں  ورلڈ کبڈی کپ،پاکستان نے دوسرے میچ میں اسکاٹ لینڈ کو شکست دیدی

یہ بھی پڑھیے :

What is your opinion on this news?

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker