تازہ ترینکالم

بالآخر بھارت کا چاند(پاکستان ) کا تھوکا منہ پہ آہی گیا…

azamلیجئے، سانحہ پٹھان کوٹ کے بعد بھارت نے پاکستان کو جس طرح ملوث کرنے کے لئے جتنے بھی پاکستان مخالف پروپیگنڈے کئے تھے،آج سانحہ پٹھان کوٹ کے معاملے کی تحقیقا ت کرنے والی بھارتی تحقیقاتی ایجنسیوں کی جانب سے پاکستان کو کلین چٹ ملنے کے بعد وہ سب کچھ جھوٹ ثابت ہوگیاہے، جو پاکستان مخالف بھارتی میڈیا اور بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کی حکومت میں شامل وزراءاور سیاستدان پاکستان مخالف پروپیگنڈوں میں لگے پڑے تھے اورجو سانحہ پٹھان کوٹ کی شفافیت کو عیان کرنے کے لئے پاکستان سے بھی تعاون کرنے سے انکاری رہے تھے اَب سب اپنا منہ چھپاتے پھررہے ہیں مگر اِنہیں کوئی کونہ نہیں مل رہاہے۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت کاموجودہ عیار ومکارمیڈیاور بھارتی پاکستان مخالف سیاستدانوں کی بس ایک یہی کوشش تھی کہ سانحہ پٹھان کوٹ کا ساراملبہ پاکستان کے سر مار کر عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کیا جائے ،پاکستان کو دہشت گرداور ایک ناکام ریاست گردان کر سماجی، سیاسی اور اقتصادی حوالوں سے دنیا میں تنہاکردیاجائے اور اِس کی ترقی اور خوشحالی بالخصوص پاک چین اقتصادی راہداری کی راہ میں اتنی مشکلات حائل کردی جائیں کہ پاکستان اِس سے خود پیچھے ہٹ جائے۔  جبکہ راقم الحرف اپنے پچھلے کئی کالموں میں بڑے وثوق کے ساتھ یہ تحریر کرچکا ہے کہ سانحہ پٹھان کو ٹ میں خود نریندرمودی حکومت کے سازشی عناصر ہی ملوث ہیں اور سانحہ پٹھان کوٹ میں بھارت کی پاکستان کو بدنام کرنے کی ڈرامہ بازی کو بھی خارج ازامکان قرار نہیں دیاجاسکتاہے. یوں آج الحمدللہ وہی ہوا،جس کا ہم پاکستانیوں کو بڑے عرصے سے شدت سے انتظار تھا اور سانحہ پٹھان کوٹ کے بعد ہم پاکستانیوں کی ایک یہی دُعاتھی کہ اللہ رب العزت جلد دودھ کا دودھ پانی کا پانی کردے اور حق کا بول بالااور باطل کا منہ کالاہوجائے یعنی کہ بھارتی میڈیااورحکومت سانحہ پٹھان کوٹ کا ملبہ جس طرح پاکستان کے کاندھے پر ڈالنے کا ڈھونگ رچاتے رہے ہیں اور عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کرکے خود کو مظلوم ظاہر کرنے کی راہ ہموار کرتے رہے ہیں اَب خود بھارتی تحقیقاتی ایجنسی کے سربراہ شردکمار کی جانب سے سانحہ پٹھان کوٹ میں پاکستان کو کلین چٹ قرار دیئے جانے کے بعد یہ تو واضح ہوگیاہے کہ بھارتی میڈیاور ریندرمودی حکومت اور بھارتی سیاستدانوںکا چاند(پاکستان) کا تھوکا (خودبھارتیوںکے ہی )منہ پہ آیا گیاہے۔ خبریہ ہے کہ سالِ رواں 2جنوری 2016کو چندافرادنے پٹھان کوٹ میں بھارتی ائیرفورس کے اڈے پر حملہ کیااِسی دوران ابتدائی حملے میں بھارتی سیکیورٹی فورسز کے دواہل کار ہلدک ہوگئے تھے جبکہ ایک اور اہل کار زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے کچھ گھنٹوں بعد چل بساتھا حالانکہ ابھی پٹھان کوٹ پر حملہ جاری ہی تھاکہ حیرت انگیز طور پر ہمیشہ موقعے کی تلاش میں بیٹھاپاکستان مخالف بھارتی میڈیااور حکومت نے پاکستان کے خلاف حسبِ روایت بغیرکسی ثبوت کے انگلی پاکستان پر اُٹھااُٹھاکر ایک ایسی منفی اور زہرآلود پروپیگنڈامہم شروع کردی تھی کہ اللہ کی پناہ جبکہ اِس پر پاکستان کا ایک یہی جواب تھاکہ سانحہ پٹھان کوٹ کے معاملے پر بھارتی میڈیااور حکومت پاکستان مخالف منفی پروپیگنڈا مہم بندکرے اور اِس کے ساتھ ہی پاکستان نے بھارت کے ساتھ مل کر سانحہ پٹھان کوٹ کی کھلے دل سے مشترکہ تحقیقات کی پیشکش کا بھی اعلان کیا مگر بڑے افسوس کی بات یہ رہی کہ اُس وقت پاکستان کی جانب سے اِس پیشکش کے باوجود بھی بھارتی میڈیا اور حکومت کا پاکستان مخالف زہرآلود منفی پروپیگنڈوں کا سلسلہ بند نہ ہوا حتی ٰکہ شردکمار کے پاکستان کو سانحہ پٹھان کوٹ پر کلین چٹ دیئے جانے کے چند گھنٹوں پہلے تک بھی بھارتی میڈیااور حکومت کا پاکستان مخالف پڑوپیگنڈوں کا سلسلہ جاری رہا اور ابھی جب کہ خودبھارتی تحقیقاتی ایجنسی کے سربراہ شردکمار واضح کرچکے ہیں کہ سانحہ پٹھان کوٹ میں نہ تو پاکستان یا پاکستانی ایجنسی ملوث ہے مگر اِس کے باوجود بھی یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ پھر بھی بھارتی میڈیاکے اکثرلوگ اِس بات کو ماننے سے انکاری ہیںاور یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ شرد کمار نے پاکستان کو پٹھان کوٹ معاملے پر کسی قسم کی کلین چٹ نہیںدی ہے بلکہ اُن کا یہ کہناہے؟؟ تو وہ کہناہے؟؟ الغرض یہ کہ شردکمار کے کہے کو بھارتی میڈیااور حکومت میں شامل کچھ وزراءاور سیاستدان اپنی لنگوییاں اُٹھااُٹھاکراور کرتوں کے گریبان پھاڑپھاڑ کر شردکمارکے کہئے کو جھٹلانے اور غلط ثابت کرنے کی کوششوں میںلگے پڑے ہیں کہ ایسانہیں ہے کہ شردکمار نے سانحہ پٹھان کوٹ پر پاکستان کو کلین چٹ دے دی ہے، اِس بھارتی میڈیااور حکومت یا حکومت میں شامل وزراءاور پاکستان مخالف سیاستدان کچھ بھی کہیں مگر اَب بھارتی امن پسند عوام اور دنیا کو شردکمار کے کہے کو حقیقت اور سچ ماننا ہی پڑے گا کیونکہ سانحہ پٹھان کوٹ کے معاملے میںکسی اور نے نہیں بلکہ خودایک بھارتی تحقیقاتی ایجنسی کے سربراہ نے پاکستان کو کلین چٹ قرادیاہے۔ جیساکہ الحمدللہ اَب جبکہ بھارتی تحقیقاتی ایجنسی کے سربراہ شردکمارنے یہ تسلیم کرلیاہے کہ 2جنوری 2016کو پٹھان کوٹ میںبھارتی ائیرفورس کے اڈے پر ہونے والے حملے میں پاکستان یا پاکستان کی کسی ایجنسی کے ملوث ہونے کی سازش کے کسی قسم کے شواہد نہیںملے ہیں اِس میں شک نہیں کہ جہاں شردکمار کی طرف سے پاکستان کے حق میں آنے والے یہ ریماکس پٹھان کوٹ کے واقعے میں پاکستان کو کلین چٹ قراردے رہے ہیں تووہیں بھارتی میڈیااور حکومت کو بھی دونوں کے کان کھینچ کر واضح طورپریہ سبق دے رہے ہیں کہ اگر بھارتی میڈیااور حکومت پڑوسیوں سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں توپھرا نہیں کسی بیوہ عورت کی طرح بن سوچے سمجھے مظلومیت کا رونادھونا بندکرناپڑے گا اور اپنے پڑوسیوں سے متعلق ایسے منفی پروپیگنڈوں سے یقینی طور پر اجتناب برتناہوگاجن کی وجہ سے تعلقات خراب ہوتے ہیں۔ جبکہ یہاں یہ امریقینی طور پرہم پاکستانیوںکے لئے باعث فخر اور بھارتی میڈیااور بھارتی حکومت کے لئے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ ایک بارپھرخود بھارتی تحقیقاتی ایجنسی کے سربراہ شردکمارنے پاکستان پر لگائے جانے والے بھارتی الزامات غلط اور پاکستان مخالف منفی پروپیگنڈوں کو جھوٹ ثابت کردیاہے پٹھان کوٹ حملے میں پاکستان یا پاکستانی ایجنسی ملوث ہے یہاں اِس سے بھی اِنکار نہیں کہ بھارتی تحقیقاتی ایجنسی کے سربراہ کا یہ بیان پاکستان کو کلین چٹ قرار دینے کے مترادف ہے اور اپنے بھارتی میڈیااور حکومت کے منہ پر ایک ایسا زوردار طمانچہ ہے کہ اَب بھارتی میڈیااور حکومت کو اِس طمانچے کی گونج برسوں سُنائی دیتی رہے گی اور اِن دونوں کے گالوں پر اِس طمانچے کا نشان قیامت تک رہے گادرد سے ٹیسیں ا‘ٹھتی رہیں گیں اور اگر اِس کے باوجود بھی بھارتی میڈیا اور حکومت ابھی ہوش کے ناخن نہ لیں اور کشمیر سمیت دوطرفہ دیگر تنازعات کے فوری حل کے لئے مذاکرات شروع کردیں تو بہت اچھی بات ہوگی تاہم اِس موقع پر راقم الحرف بھاتی میڈیااورحکومت سے اتناضرور کہناچاہے گاکہ اَب بھارتی میڈیااور حکومت اپنی آنکھ و کان اور دل و دماغ کوبھی کھلا رکھے اورآئندہ بغیر کسی ثبوت اور تحقیقات کے پاکستان مخالف منفی پروپیگنڈابندکردے اور اگر مذاکراتی عمل شروع ہونے کے بعد بھی بھاتی میڈیااورحکومت نہ سنبھلی توپھریہ اِن کم بختوں کی بدعقلی نہیں تواور کیا ہوگی؟؟ اور اَب میں اِسی کے ساتھ ہی اپنے کالم کا اختتام بھارت ہی کی ایک معروف خوبصورت لب ولہجہ کی شاعرہ لتاحیاءکے چنداشعار پیش کرکے اجازت چاہوں گا پڑھیں اور سمجھیں کہ وہ اپنے بھارتی سیاستدانوں اور حاکموں سے متعلق کیا کہتی ہیں تو عرض ہے کہ:
زمانے کے جو لیڈرہیں شرافت بھول بیٹھے ہیں
حکومت کے نشے میں صداقت بھول بیٹھے ہیں
سیاست بس یہیں تک ہے یہ طاقت یہیںتک ہے
ملے گی قبر میں اُن کو بھی آفت بھول بیٹھے ہیں
کُرسی کے واسطے جو کریں جھوٹی سیاست
کرنے لگیں مسیحا جو لاشوں کی سیاست
جتنے بھی ہیں جو رستم پھر دُھول چٹا دو
لوگوں تمہارے ہاتھ میں ہے ووٹ کی طاقت
note
یہ بھی پڑھیں  فاروق ستار اور خواجہ اظہار الحسن کو حراست میں لے لیا گیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker