بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

آخر اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔۔؟

bashir ahmad mirسب سے پہلے قارئین کو سال نو 2013ء مبارک ہو ۔۔۔!سال 2012ء کے آخری عشرہ میں سیاسی حالات نے عجب انگڑائی لی،جناب ڈاکٹر طاہر القادری ’’سیاست نہیں ریاست‘‘ کے فلسفے کو لیکر ارض پاک لوٹے،جناب بلاول بھٹو زرداری نے عملاً سیاست میں اترنے کا اعلان کیا،اسی عشرہ میں اے این پی کے رہنما جناب بشیر بلور دہشتگردوں کے ہاتھوں شہید ہوئے ،تحریک طالبان پاکستان نے پہلی بار غیر مشروط مذاکرات کی پیشکش بھی کی۔یہ عشرہ ہمیں شہید بے نظیر بھٹو کی یاد بھی دلاتا ہے اور ہمارے معمار پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح اور شیر پاکستان جناب میاں نواز شریف کی یوم پیدائش بھی اسی عشرہ میں منائی گئی۔سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ اس عشرہ میں حضرت عیسیٰ ؑ کی یوم پیدائش بھی اللہ کے کرم سے پرامن منائی گئی۔
عرض حال یہ ہے کہ سیاست میں جو نئی کروٹ سامنے آئی ہے اس میں ڈاکٹر طاہر القادری اور بلاول بھٹو کا مستقبل میں کردار نمایاں نظر آرہا ہے۔جبکہ طالبان کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش بھی اہمیت کی حامل قرار دی جا سکتی ہے۔اس تکونی سیاسی صورت حال پر سیاسی ’’گورو‘‘ کیا نقشہ کھنچتے ہیں اس پر بحث ضروری ہے۔عام انتخابات یقیناًقریب تر ہیں ،انتخابی سرگرمیاں ابتدائی مرحلے پر جاری ہیں ،ان حالات کے پیش نظر جو بیج بوئے جا رہے ہیں ان کے جنم بارے کیا اشارے ملتے ہیں اس پر قارئین کو باخبر رکھنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔
ڈاکٹر طاہر القادری کا مینار پاکستان میں خطاب،انٹرویوز اور انکی تحریک منہاج القران کی سرگرمیوں کا احاطہ کیا جائے تو ان کردار واضح نظر آتا ہے کہ وہ وطن عزیز میں تبدیلی کے خواہاں ہیں مگر یہ کیسے ممکن ہو اس بارے ان کے حلقے بھی تذبذب کا شکار ہیں ۔بے شک ان کی نیت اچھی ہے اور یہ عوام کے مفاد میں بات کر رہے ہیں مگر انہوں نے شیر کے کچار میں ہاتھ بے خبری اور بے ترتیبی سے ڈال کر بہترین مشن کو اپنے سینوں کی آگ بنا دیا ہے۔ذرا تاریخ کے دریچوں کو کھول کر ملاحظہ کیجئے ۔۔۔۔امام خمینی نے پندرہ سال جلا وطن رہ کر ایسی کھیپ تیار کی جوہر شعبہ میں اپنی اہلیت پر ان کے ایران میں داخل ہوتے ہی تمام تر انتظام و انصرام کو سنبھال چکی تھی ۔انقلاب ایران کا مطالعہ کریں تو یہ بات عیاں ہو تی ہے کہ جب تک آپ کے پاس حکومت چلانے کے جملہ اوصاف موجود نہ ہوں تب تک کوئی نئی تبدیلی کی بات کرنا خواب سے ذیادہ نہیں ہوتی ۔ملک کو چلانے کے لئے بہترین افراد پر مبنی مقننہ،انتظامیہ،عدلیہ،میڈیا اور عسکری قوت اہم کردار ادا کرتی ہے اس وقت ان شعبوں میں تبدیلی لانے کے دعویٰ داروں کے پاس کیا وسائل موجود ہیں کہ وہ آتے ہی پٹواری ،پولیس کنسٹیبل،کلرک مافیا،ملک میں جملہ اداروں میں براجمان مافیاز کو بدل سکتے ہیں ،ہرگز نہیں ! تو پھر یہ سونامی اور سینڈی کے طوفان برپا کرنے کے شوشے عوام کو گمراہ کرنے اور اپنے اقتدار کے لئے عوام کو بیوقوف بنانے کے حربے ہیں ؟
جہاں تک بلاول بھٹو کی سیاست میں آمد کا تعلق ہے تو وہ ایک سیاسی خاندان کا چشم و چراغ ہے ،ان کے نانا ،ماموں اور والدہ کی جمہوریت کے لئے قربانیاں نا قابل اختلاف ہیں۔جہاں تک سیاسی غلطیوں کا تعلق ہے تو بشری تقاضوں کی رو سے یہ ہر سیاست دان کی کمزوری رہی ہے۔پاکستان کی سیاسیات میں جاگیر دار ،سرمایہ کار،صنعتکار ،وڈیرے اور ہائیر سوسائٹی سے تعلق رکھنے والوں کا رول ختم کرنا کسی کے بس میں نہیں ،تبدیلی کا نعرہ لگانے والے سینکڑوں ابدی نیند سو گے مگر ان کی آواز کو پذیرائی نہیں مل سکی ان میں معراج محمد خان،جے اے رحیم،خورشید حسن میرجیسی نمایاں شخصیات شامل ہیں ۔بلکہ مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے دور حاضر کے سیاست دان جاوید ہاشمی ،شیخ رشید ،شاہ محمود قریشی بھی تبدیلی کا راستہ تلاش کرتے کرتے اب مروجہ سیاسی کھیل کا حصہ بن رہے ہیں۔الغرض ہمارے خمیر میں وہ نظریات کبھی نہیں پنپ سکتے جو کسی ایسی تبدیلی کا ذریعہ بن سکیں جس سے انقلاب کی کوئی شکل واضح ہو۔سو ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کی دوڑ درست سہی مگر حاصل وصول کہیں نظر آنا مشکل ہے۔انہوں نے کسی کی جیت اور ہار میں تو کردار باآسانی ادا کر دینا ہے لیکن آخر کار نتائج جو سامنے آنے ہیں وہ دھندلے نظر آرہے ہیں ۔
ان سطور کو پڑھنے والے شاہد یہ محسوس کر بیٹھیں کہ قلمکار نے یکطرفہ تبصرہ کیا ہے مگر یہ کالم سنبھال کر رکھیں ،جب انتخابات کے نتائج آجا ئیں تو ان سطور کا پھر لازمی جائیزہ لگائیں کہ درست لکھا گیا تھا یا کسی کی حمایت کی گئی تھی۔بلاشبہ ملک کے حالات کسی تبدیلی کے منتظر ہیں۔اب یہ تبدیلی کیسے اور کون لا سکتا ہے اس بارے عوام کے مفاد میں جو بہتر آپشن ہے وہ جمہوری عمل میں واضح ہے۔اگر عوام چاہئے تو اپنے نمائندے منتخب کرتے وقت پوری سوچ اور فکر سے ووٹ ڈالتے ہوئے جاندار فیصلہ کر کے دیانت دار قیادت منتخب کر سکتی ہے،مگر ایسا ہونا کافی دشوار ہے۔سکہ بند اور فیوڈل لارڑ کو نظر انداز کرنا بڑا مشکل ہے۔عمران خان اور طاہر القادری دونوں تبدیلی کی بات کرتے ہیں جس کا مخالفت اور حمایت سے ہٹ کر جائیزہ لیا جائے تو کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ وہ ۔۔۔۔ملک کے صرف دس ،بارہ شخصیات جن میں نواز شریف،شہباز شریف،بلاول بھٹو،اسفند یار ولی،مولانا فضل الرحمن ،مخدوم امین فہیم،چوہدری پرویز الہی،خورشید شاہ،نوید قمر،رانا ثناء اللہ،عبدالقادر گیلانی شامل ہیں انہیں یا ان کے حریفوں کو شکست دیکر کسی غریب کو جتوا سکتے ہیں ،ہرگز ایسا ہونا نا ممکن ہے تو پھر کیسا انقلاب لانا چاہتے ہیں۔۔؟
جوش و جذبات کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا ایسی کوشش 1977ء میں کی گئی تھی جب پاکستان قومی اتحاد(PNA) نے تحریک نظام مصطفےٰ ﷺ کی بنیاد پر عوام کو کہا گیا تھا کہ’’ بھٹو کافر ہے اس کی حکمرانی جائیز نہیں ،ہم بر سر اقتدار آ کر ہر محنت کش کی تنخواہ ایک تولہ سونے کے برابر کریں گے اور اشیاء خورد و نوش کے نرخ 1970ء کے واپس لائیں گے‘‘ ان کے اس جذباتی نعروں کے نتیجے میں طویل مارشل لاء نے قوم کو بے شمار مسائل کے دلدل میں ڈالا مگر ان کی تحریک ایسے بھسم ہوئی کہ وہ اب تک عوام میں پذیرائی حاصل نہ کر سکے اس تحریک کے روح رواں دنیا سے چل بسے اور ان کے پیروکار اپنے رہنماؤں سے جذباتی وابستگی کے باوجود سیاست کے کنارے پر رک گے۔ماضی کے تجربات اور حالات کا موازنہ کیا جائے تو ہماری سیاسی زندگی بہت مختصر ہے ۔موجودہ حکومت نے پہلی بار آئینی مدت پوری کی ،جمہوریت کوئی غیر اسلامی نظام نہیں،جیسے طالبان کی نظر میں جمہوریت کو تسلیم نہیں کیا جاتا ،کیا ہر فرد کی آواز کو روکنا ،آذادی رائے کو پامال کر کے شخصی حکمرانی کی اسلام میں کہاں گنجائش ہے۔رہی یہ بات کہ طالبان نے مذاکرات کے لئے آمادگی کا اظہار کیا ہے ،حکومت کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر مذاکراتی عمل شروع کرنے کے لئے دعوت دے تاکہ ان کا پتہ چلے کہ یہ کیا انسانوں کا قتل عام کرنے میں بضد ہیں یا اسلام کے اصولوں کے مطابق ریاست کے آئین و قانون کے تحت زندگی بسر کرنا چاہئے ہیں ۔جب تک ہم دہشتگردوں کے عزائم کو بھانپ نہیں لیں تب تک ہمیں پر امن جد و جہد کو جاری رکھنا ہو گا۔طالبان کی طرف سے مذاکرات کے حوالے سے تفصیلاً آگاہی کروں گا ان سطور میں اتنا ہی کافی ہے۔اللہ تعالیٰ سال 2013ء ہم سب کے لئے مبارک فرمائے اور سیاسی جد جہد عوام کی خوشحالی کا سبب بنے۔

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑہ : چک نمبر 18فورایل ، دس سا لہ بچہ جہیز کا سامان لے جانے والے ڈالہ کے نیچےآکر کچلا گیا موقع پر جاں بحق ہوگیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker