شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / تبدیلی نہیں تبدیلیاں مبارک ہوں !

تبدیلی نہیں تبدیلیاں مبارک ہوں !

وفاقی کابینہ میں بڑی تبدیلیوں کی قیاس آرائیاں سچ ثابت ہوئیں۔ جناب وزیراعظم نے کابینہ پر نظر ثانی فرماتے ہوئے وزیر خزانہ اسد عمر کی چھٹی کر دی جبکہ دیگر کئی وزارتوں میں وزراء کے قلمدان تبدیل کر دئیے گئے ہیں۔ممکن ہے کہ گورنر اور وزیراعلیٰ پنجاب کی تبدیلی بھی عمل میں آجائے دوسری طرف نیب کی پھرتیاں ، حربے، دعوے اورلاہور ہائی کورٹ کے غیر متوقع فیصلے سوالیہ نشان بن رہے ہیں بریں سبب اداروں پر عدم اعتماد کی فضا پیداہورہی ہے کہ تبدیلی کا خواب مہنگائی کا عذاب بن کر جمہور پر ٹوٹا ہے کہ ہر کوئی بلبلا رہا ہے یہی وجہ ہے کہ حکومت کی حالیہ تبدیلیوں پر عوامی رائے یہی ہے کہ جلد یا بدیر حکومتی سیٹ اپ ’’ٹائیں ٹائیں فش ‘‘ ہو جائے گا ۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ تحریک انصاف کو جس بری حالت میں حکومت ملی تھی اسے چند ماہ کی قلیل مدت میں بحرانوں سے نکالنا ممکن نہ تھا یہ بھی سچ ہے کہ جناب وزیراعظم اپنے رفقاء کی کار کردگی سے نا خوش تھے او ر پارٹی کے بعض بڑوں سے مشاورت کے بعد سخت فیصلے کئے ہیں کہ تا تریاق از عراق آہوردہ شود ،مار گزیدہ مردہ شود یعنی مسائل حل ہونے کا انتظار کیا تو شاید ملکی انتظام و انصرام ہاتھ سے ہی نکل جائے ۔کسی حد تک تو نکلتا نظر آرہا ہے کہ جس کی واضح نشانی یہ ہے کہ زرداری کی مذمت شدہ کابینہ اقتدار کا حصہ بن چکی ہے بس یوسف رضا گیلانی کی جگہ کون آئے گا اس پر قیاس آرائیاں عروج پر ہیں ۔درج بالا ملکی حالات سے ن لیگ بیانیے کو تقویت مل رہی ہے بریں سبب مخالفین ’’یوٹرن حکومت‘‘ کی ناکامی کو اسٹیبلیشمنٹ سے جوڑ رہے ہیں ۔
اگر ماضی کے سیاسی ابواب پلٹ کر دیکھیں توفوجی حکمرانوں کے خلاف کھل کر بولنے کا آغاز جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں شروع ہوا ۔اسی وقت آمریت اور جمہوریت کے تضادات اور نقصانات منظر عام پر آئے ۔یہ دور پرویز مشرف کے دور حکومت کا آخری دور تھا جب اس تحریک میں ملک کے بڑے قانون دان شامل تھے اور مضبوط دلائل رکھتے تھے جو کہ بالواسطہ یا بلا واسطہ معاشی انصاف سے متعلق تھے بریں سبب تحریک کو عوامی طاقت حاصل ہوئی جس نے اسے مزید تقویت اور کامیابی دی ۔۔ فاضل وکلاء کا کہنا تھا کہ اس وقت تک جمہوری نظام پنپ ہی نہیں سکتا جب تک عدلیہ آزاد نہ ہو۔آزاد عدلیہ کا قیام سرمایہ کاری اور معیشیت کی ترقی اورامن و امان کے لیے بھی ضروری ہے کہ عوام کا عدلیہ پر اعتماد بحال ہو ۔اسی جواز نے عوامی فکر کو توانا کیا اور عوام وکلاء کے ساتھ نکل کھڑے ہوئے ۔آئین و قانون کی بالا دستی اور عدلیہ کی آزادی کے لیے اٹھنے والی یہ تحریک ’’وکلاء تحریک ‘‘ کہلائی۔اس کے مقاصد کو ملک کے نامور اور ماہر قانون دانوں نے عوامی اور عدالتی پلیٹ فارم پر اجاگر کیا اور فوجی حکمرانوں کے خلاف علم بغاوت بلند کیا ۔بظاہر یہ آزاد عدلیہ کا مطالبہ تھا جبکہ پیش نظر مقاصد میں چیف جسٹس افتخار چوہدری اور معزول ججز کی بحالی اوراقتدار سے محروم پیشہ ور سیاستدانوں کے مفادات پوشیدہ تھے ۔اس تحریک کے نتیجے میں معاشی انصاف کا شعور بیدار ہوا جس نے سیاست اور انتظامیہ کی شفافیت کا مطالبہ کیا ۔اس انتشار کا فائدہ سیاسی جماعتوں نے اٹھایا کہ بی بی شہید اور میاں صاحب نے وطن واپسی کے لیے رخت سفر باندھا اور پاکستان میں ہمیشہ سے اشرافیہ کی جیت تو طے ہوتی ہے ۔بس کچھ دیر کے لیے کشتیاں طوفانوں میں پھنس جاتی ہیں کیونکہ نیب وہ سچ بن چکا ہے جو اشرافیہ کے لیے گنگا اور عوام کے لیے دھوکا ہے ۔دوسروں لفظوں میں عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا صرف یہی ہوتا ہے کہ ’’آسمان سے گرا ، کھجور میں اٹکا ‘‘۔
اس پر’’ میڈیائی باوے ‘‘ سیاسی ٹاک شوز میں اپنے اپنے دل پسند سیاسی شعبدہ بازوں کے پاپوں کو یوں الجھاتے اور سلجھاتے ہیں کہ عوام بکرے کو ’’کتا ‘‘ سمجھ کر ہر اس تحریک اور معاملے کا حصہ بن جاتے ہیں جس سے کچھ حاصل تو نہیں ہوتا البتہ ان دانشوروں کی عقلی اور قولی عیاری سے عوام گمراہ ضرور ہو جاتے ہیں اور رائے تبدیل کر لیتے ہیں ۔میڈیا اپنی اسی حکمت عملی کو کیش کر لیتا ہے ۔
یہی ہوا کہ اس تحریک کے غل غپاڑے میں ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کا ماضی چھپ گیا اور دونوں پارٹیاں سیاسی افق پر چھا گئیں ۔بی بی شہید تو اس جیت کو نہ دیکھ سکیں مگر پارٹی نے قدم جما لیے اور’’ فرینڈلی اپوزیشن ‘‘ کے سائے تلے وقت ٹپاؤ پالیسیوں اور تعمیراتی منصوبوں کے نام پر پیسہ خورد بورد کرنے کا نہ ختم ہونے والا ایسا سلسلہ شروع ہوا جو پانامہ میں جا کر کھلا ۔مگر دونوں نے فوجی حکمرانوں کے خلاف ہرزہ سرائی کو اپنا ہتھیار بنا لیا ۔ہر کوئی حیران تھا کہ وہی عدلیہ جو کل تک ان دونوں پارٹیوں کے دل کے قریب تھی وہ آج دشمن کیسے ہو گئی ؟ درپردہ کہانی کچھ بھی ہو مگر یہ المیہ ہے کہ پانامہ کیس سے لیکر آج کے اہداف کی کرپشن کے واویلے تک جو کچھ بھی ہوا ہے یا ہوررہا ہے ہر ذی شعور یہ کہنے پر مجبور ہے کہ
کہانی آپ الجھی ہے یا الجھائی گئی ہے !
یہ عقدہ تب کھلے گا جب تماشا ختم ہوگا !
اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ کوئی سیاسی ہتھکنڈہ یا تحریک اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک اس میں عوامی خواہش اور عوامی طاقت شامل نہ ہو ۔وکلاء تحریک کے تحریکی خیال کو بھی عوامی طاقت نے کامیابی سے ہمکنار کیا تھا اس تحریک سے انتقال اقتدار بھی ہوا اور عدلیہ بھی آزاد ہوگئی مگر عوام کو عملاً جمہوریت یاآزاد عدلیہ کے ملکی اور عوامی مفاد میں فیصلے کہیں نظر نہیں آئے ۔ اسی شعور کو بیدار کرتے ہوئے تحریک انصاف کے قائدین نے ہمیشہ دعوی کیا ہے کہ قانون کی بالا دستی اور بد عنوانی کا خاتمہ ہماری اولین ترجیح ہے۔ لیکن یہ حقیقت اب ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ اشرافیہ ہر قسم کے آئین و قانون سے بالاتر ہے اوران پر گرفت سزا دینے کے لیے نہیں بلکہ الزام سے بری ازما کرنے کے لیے کی جاتی ہے جبکہ ایک روٹی چرانے والے سات سالہ بچے کو سنگین سزا ؤں سے گزرنا پڑتاہے ۔یہ سلسلہ رکا نہیں بلکہ پہلے سے زیادہ سنگین ہوتا جا رہا ہے ۔۔کہ اگر کوئی آداب غلامی سے نا واقف ’’جمہور‘‘ سائل اپنی درخواست پیش کرنا چاہتا ہے تو اسے حاکم وقت کے گارڈ ’’جابروں‘‘ کی طرح گھسیٹ کر سڑک کے ایک طرف ’’پھینک‘‘ دیتے ہیں ۔کیا اسی کا نام تبدیلی تھا ؟؟؟ کسی نا اہل پولیس اہلکار کی فائرنگ سے بچہ جاں بحق ہو جائے اور آئی جی پولیس معافی مانگ لے اور غریبوں کی مسیحائی کے دعوے داروں کی طرف سے کوئی بیان یا دعوی سامنے نہ آئے ۔۔اسی کا نام ’’نیا پاکستان‘‘ ہے ؟؟؟کہاں گیا پانامہ کیس ۔۔؟ میاں شہباز شریف پر لگے الزامات کیا ہوئے کہ وہ بیرون ملک جا بیٹھے ہیں ؟ ایفی ڈرین کا مقدمہ بھی عام بات ہو گیا ؟ کیا وجہ ہے کہ معمولی جرائم میں ملوث افراد جیلیں کاٹ رہے ہیں اور سنگین سزائیں اٹھا رہے ہیں جبکہ اشرافیہ چھوٹتے جا رہے ہیں ؟سوال یہ ہے کہ جھوٹا کون ہے ، حکومتی ادارے یا ضمانت شدہ ملزمان ؟ شاید یہی وجہ ہے کہ مخالفین سمیت ہر کوئی در پردہ کہہ رہا ہے کہ یہ نا اہل لوگوں کا ٹولہ ہے کہ جس نے ماضی کے حکمرانوں کو انتقام کا نشانہ بنایا ہے۔اگر یہ غلط ہے تو آئے روز کابینہ پر نظر ثانی کی ضرورت کیوں محسوس ہوتی ہے ؟ پنجاب میں شہباز شریف دور کے افسران کیوں واپس آئے ہیں ؟وہ سقراط اور بقراط جو نظریاتی کارکنان کے مقابلے میں قابل اعتماد ٹھہرے وہی آج شرمندگی کا باعث کیوں ہیں ؟ کیا ان کی موقع پرستی اور مفاد پرستی چھپی ہوئی تھی جبکہ وہ تو پرانے سیاسی شعبدہ باز تھے جو ہوا کا رخ دیکھ کر چلتے اور تیوربدلتے تھے ۔ مگر ان سب حقائق کو سننے کاوقت کسی کے پاس نہیں ہے کہ کرسی کا نشہ ہی ایسا ہے جو فکر آخرت بھلا دیتا ہے ۔
مجھے کہنے دیجیے کہ ہم بحیثیت مجموعی گروہی تقسیم اور انتشار کا شکار ہوچکے ہیں۔ہمارے رویے خود پسندی اور منافقت کا لبادا اوڑ ھ چکے ہیں ۔ہر کوئی اپنا سچ بیچ رہا ہے ۔ بریں سبب ہم پر مسلط ہونے والے حکمران مفادات کے اسیر اور نا اہل واقع ہو رہے ہیں ۔حکومت نواز افراد کہتے ہیں کہ محض آٹھ ماہ میں حکومت بارے رائے قائم کر لینا کسی طور مناسب نہیں ہے جبکہ صحافی ،تجزیہ نگاراور سیاسی مخالفین با بانگ دہل کہہ رہے ہیں کہ تحریک انصاف نے ’’ایاک نعبدو ایا ک نستعین ‘‘ سے جو سفر شروع کیا تھا وہ ’’ان اللہ مع الصابرین ‘‘ پر رک گیا ہے ۔ صورتحال یہ ہے کہ خوشحال افراد پریشان حال اور پریشان حال افراد بد حال ہو چکے ہیں ۔۔ حکومتی وزراء کی تنخواہیں ،پروٹوکول اور پر تعیش طرز حیات روایتی ہے جبکہ عوام کو دو کی جگہ ایک روٹی کی تلقین اور تحکمانہ انداز کہ مہنگائی وقت کی ضرورت ہے ،یہ ابھی مزید بڑھے گی اور چیخیں نکلیں گی لمحہ فکریہ ہے ۔۔! یہی وہ لوگ ہیں جو کہ ریاست مدینہ کا نعرہ اور عوامی خدمت کا دعوی لیکر نکلے تھے ۔۔؟بد قسمتی سے دین کو سیاست سے جدا کر دیا گیا ہے جبکہ تحریک پاکستان کی اساس یہ نعرہ تھا کہ اگر مسلمانوں کو اپنے سیاسی اصولوں کو ترتیب دینا ہے تو انہیں دین کے اصولوں سے رہنمائی حاصل کرنا ہوگی کیونکہ دین اسلام سے بہتر سیاسی اصول کسی اور نظام نے نہیں دئیے مگر ذاتی مفادات اور خواہشوں کے اسیر حکمرانوں کولگتا ہے کہ مغرب کے نقش قدم پر چل کر ہندوؤں کی رسومات اور طرز حیات اپنا کر ہی اقوام عالم کی دوڑ میں شامل ہو سکتے ہیں ۔
مسئلہ یہ ہے کہ نسل در نسل حکمران خاندان مغربی تعلیم سے آراستہ چلے آرہے ہیں ۔انھیں مسلمانوں کے عروج و زوال کی داستانیں معلوم تو ہیں مگر سنانے والے وہی لوگ ہیں جو سلطان ٹیپو کے غداروں میں شامل تھے اور جنھیں محمد بن قاسم نے سزائیں دی تھیں بریں وجہ وہ سچ نہیں بتاتے کہ برصغیر میں اسلام کی آمد کے وقت ہندو ازم کا راج تھا اور ہندوستان بے پناہ معاشرتی ، سیاسی اور معاشی مسائل کا شکار تھا ۔ مسلمان حکمرانوں نے اسلامی ریاست کی ایسی بنیاد رکھی جس نے بر صغیر کا نقشہ بدل دیا اور نمایاں ترقی ہوئی ۔ آج جمہوریت کا راگ الاپنے والے جانتے ہی نہیں کہ جمہوریت کیا ہے ، جمہور کے حقوق فرائض کیا ہیں اور ان حقوق و فرائض کا تحفظ کس کے ذمے ہے ۔۔؟
یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جمہوری نظام کی کامیابی کے لیے جمہوری ماحول کا ہونا بہت ضروری ہے ۔المیہ یہ ہے کہ جب بھی مقامی حکومتی نظام (جمہوری نظام ) قائم کیا گیا اسے حکمرانوں نے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا اور تمام اداروں کو اپنا نائب بنا کر رکھا ۔اس پر طرہ یہ کہ ہر آنے والے حکمران نے پاکستان کی سیاست و معیشت سمیت ہر شعبہ زندگی میں نت نئے تجربات کرنے کو اپنا اولین فریضہ سمجھ لیا ہے جس کی وجہ سے موجودہ نظام کمزور اور کرپشن کا ایسا گڑھا بن چکا ہے کہ جس کو بھرنا نا ممکن ہے جب تک ہماری عدالتوں اور ایوانوں کی دیواروں پر یہ فرمان رسولؐ کنندہ نہیں کئے جائیں گے جو کہ ہر آنے والے حکمران اور جج کو یہ یاد دہانی کروائیں کہ قوم کے لیے انصاف کا معیار کیا ہوگا تب تک ملک و قوم کا زوال یقینی ہے ۔۔اور وہ فرمان رسول اللہ ؐ یہ ہے کہ :’’ تم سے پہلی قومیں اس لیے تباہ ہو گئیں کہ کوئی معزز چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور اگر کمزور چوری کرتا تو اسے سزا دیتے ۔‘‘

یہ بھی پڑھیں  ڈسکہ:ٹی ایم اےکےکلرک سےسرکاری ریکارڈ چھیننے، دھمکیاں دینے پرمقدمہ درج
error: Content is Protected!!