تازہ ترینکالم

عورت اورچاردیواری

articleتحریر:پاکیزہ یوسف زئی

اسلام نے عورت کیلئے پردے کی جوبات کی ہے وہ یہ نہیں کہ عورت جانوروں کی طرح زندگی بسرکریں بلکہ ان کے حقوق متعین کئے گئے ہیں اوراسلام نے مردحضرات پربھی کچھ پابندیاں عائدکی ہیں کہ بے حیائی اورفحاشی کے کاموں سے بچتے رہیں،یہ نہیں کہ عورت پردے میں رہ کرجانوروں کیطرح زندگی بسرکریں اور ساتھ ساتھ عورت کوبھی اسلامی حدودمیں رہ کرکائنات ٹٹولنے کاحق ہے کیونکہ خدانے مردوعورت پرعلم یکساں فرض کیاہے لیکن پٹھانوں نے پردے سے جومطلب اخذکیاہے وہ قطعی اسلام کے اصولوں کے مطابق نہیں کیونکہ اسلام نے خواتین پر کچھ پابندیاں عائدکی ہیں لیکن اس کے ساتھ عورتوں کے حقوق بھی متعین کئے ہیں اور پٹھان نہ کبھی خواتین کے حقوق دیتے ہیں نہ ان کوجائزمقام دلاتے ہیں بس پٹھانوں میں خواتین کامقام جانوروں جیساہے جواس سے سخت مشقت لیتے ہیں اورعورتوں کواپنی مرضی سے زندگی گزارنے کاکوئی حق نہیں دیتا۔ پٹھان خواتین کی زندگی پرجب نظرڈالی جائے توہرموقع پرایک نئے امتحان سے گزرنا پڑتاہے کبھی بیٹی کے روپ میں ہوتی ہے توکبھی بیوی اورکبھی ماں،جب بیٹی ہوتی ہے توخدانے بیٹی کورحمت سے تشبیہ دی ہے لیکن پھٹانوں میں بیٹی ایک حقیرشے سمجھی جاتی ہے جس کونہ تعلیم کاحق حاصل ہے نہ وراثت کااورنہ اپنی مرضی سے رشتہ کرنے کااورجب بیوی کے روپ میں پیا گھر سدھارجاتی ہے تووہاں بھی ان کوجائزمقام نہیں ملتابس ایک نوکرانی سمجھ کران سے سخت مشقت لیاجاتاہے اورجب بادل ناخواستہ اس سے کوئی کوتاہی سرزد ہوتی ہے توبس شوہرکے طعنے شروع ہوتے ہیں کہ جاؤ میرے گھر سے چونکہ عورت کا اپنا گھر تونہیں ہوتا ہے یاتو اس کے باپ کا گھر ہوتاہے یااسکے شوہرکا،اسلئے وہ بے چاری ہمیشہ تذبذب کا شکار ہوتی ہے ، خدانے عورت کواتنامقام دیا ہے جتنے کائنات میں رنگ بھردئیے ہیں اورجب عورت ایک ماں کا روپ دھار لیتی ہے تواسکے خاوندکامال بیٹوں میں تقسیم ہوتاہے اوریہی بے چاری ماں پھر بیٹوں کی محتاج ہوجاتی ہے اوربیٹوں کے رحم وکرم پررہ جاتی ہے اگربیٹوں میں سے کوئی ایک انسانیت سوز یاخداترس بیٹاہوتوتھوڑابہت خیال رکھاجاتاہے اورپیٹ بھرنے کاکام چل جاتاہے ورنہ یہ حق بھی صحیح طریقے سے ادانہیں ہوتاکیونکہ کھانے پینے کے علاوہ بھی تو بہت سی ضروریات ہوتی ہیں اسلئے بعض اوقات وہ ماں کے روپ میں کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوجاتی ہے ۔حدیث شریف میں ہے کہ جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے لیکن پٹھان لوگ خواتین کے حقوق کے بارے میں اسلام کے ایک حکم پربھی عمل نہیں کرتے اس سے ثابت ہوتاہے کہ پٹھانوں کے معاشرے میں عورت کاکوئی مقام نہیں بلکہ یہاں توپیدائش سے پہلے ہی لو گ بیٹی سے امان مانگتے ہیں اورجس گھرمیں لڑکی جنم لیتی ہے تواُف اللہ ہوتاہے کیونکہ خدانے بیٹی کورحمت سے تشبیہ دی ہے لیکن پٹھانوں کی بیٹی جب پانچ سال کی ہوجاتی ہے تواس کی تعلیم وتربیت پرکوئی توجہ نہیں د ی جاتی کیونکہ پٹھانوں میں لڑکیوں کیلئے تعلیم ضروری نہیں سمجھاجاتاہے اورجب تیرہ سال کی ہوجاتی ہے تویہ عمرکاایساحصہ ہوتاہے کہ جس میں بچے کوکائنات کے طریقہ کارسمجھانے کاوقت شروع ہوجاتاہے لیکن اس کے برعکس پٹھان لڑکی پرپردہ لازم کرکے گھرسے باہرجانے نہیں دیاجاتاتواسی وقت سے مشکل زندگی شروع ہوجاتی ہے لہذا تعلیم سے بھی محروم رکھاجاتاہے اورپھرباہرکی دنیایعنی کائنات کے دروازے بند کردئے جاتے ہیں باوجود اس کے کہ اسی عمر میں کائنات کے دروازے کھولنے چاہئیے اورجب تیرہ سال سے عمربڑھتاجاتاہے تورشتے کی باتیں شروع ہوجاتی ہیں اوران کواپنی مرضی سے رشتہ کرنے کاحق حاصل نہیں ہوتاتوجب اسکارشتہ کیاجاتاہے تودوسروں کے گھر جانے سے پہلے ان کیلئے پیچیدگیاں شروع ہوجاتی ہیں کیونکہ جہیز میں کمی ان کیلئے مصیبت بن جاتاہے اورباپ کے جائیدادمیں حصہ نہیں ملتاہے تو(والدکے گھرمیں کوئی مقام نہیں ہوتاہے اورشوہرکاگھربھی وبال جان بن جاتاہے )یوں پٹھان لڑکی ازل سے لیکرابدتک کشمکش کا شکار بن جاتی ہے جس کاتاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتالیکن صرف ایک مثال کہ اہل عرب اسلام سے پہلے بیٹیوں کوزندہ درگورکرتے تھے اورپختون لوگ زندگی میں لڑکی کوزندہ لاش بناتی ہے کیونکہ باپ کے جائیدادمیں وراثت نہیں ملتی اورخاوندکے گھرمیں بھی عورت کواصل مقام نہیں دیاجاتاچونکہ پختون لوگ ان کافروں سے اعمال میں زیادہ برے ہیں کیونکہ عرب جاہلیت کے زمانے میںیہ کام کرتے تھے اورپختون لوگ عہدحاضرمیںیہ ناجائزکام کرتے ہیں اب چونکہ ہرطرف دین کی روشنی پھیلی ہوئی ہے اورکوئی نبی نہیںآئیگاکہ پھٹانوں کوالگ پیغام دیں اور پختونوں کو بتائیں کہ عورت کامقام کیاہے !لیکن خداکے رسول ہی آخری نبی ہیں اورآپ ؐ نے خواتین کے سارے حقوق بتادیئے ہیں قیامت تک یہی احکامات چلتے رہینگے اور پختونوں کیلئے حکم کی بجائے خداکے رسول کے اعمال کاثبوت بھی سامنے ہے کیونکہ خداکے رسول ؐ نے اپنے اعمال پاک سے ثابت کیاہے کہ عورت کامقام کیاہے ،خداکے رسول ؐ نے 25 سال عین جوانی کی عمرمیں ایک چالیس سالہ بیوہ خاتون حضرت خدیجہ بی بی سے نکاح کرکے یہ ثابت کیاتھاکہ چالیس سال کی عمرکی خاتون بھی معاشرے میں ایک اعلیٰ مقام رکھتی ہے اورنبی پاک ؐ نے ان کی زندگی میں دوسری شادی نہیں کی تھی اورآپؓ کے انتقال کے بعد اور بیبیوں سے نکاح کرکے سب بیویوں کویکساں حقوق دیئے جب پھٹان دوسری شادی کرتے ہیںیاتوپہلی بیوی بچوں کوذلیل وخوارکرتے ہیں اوریاپہلی بیوی کے ڈرسے دوسری بیوی کی زندگی تباہ کرتا ہے اورطلاق توپھٹانوں میں ایسی شرم سمجھی جاتی ہے جیساکہ پٹھان لوگ دیگراقوام کے سامنے ایک ذلیل قوم سمجھی جاتی ہے ۔خدانے حکم دیاہے کہ اگرمیاں بیوی ایک دوسرے کے ساتھ زندگی کے سفرپرنہیں جاسکتے ہوتوطلاق ہی مناسب راستہ ہے اورخداکے رسول ؐ کی والدہ ماجدہ (بی بی آمنہ )توآپ ؐ کی بچپن میں ہی وفات پاگئی تھیں لیکن آپ ؐکی وہ ماں جس نے آپ ﷺ کوبچپن میں پالا تھا تو آپ ﷺ ان سے بہت زیادہ محبت فرماتے تھے اوربے حدعزت واحترام سے پیش آتے تھے جب حلیمہ بی بی نبی ؐ سے ملاقات کرنے آجاتی توآپ ؐ احتراماََاپنی چادربچاکراپنی ماں کواس پربیٹھنے کیلئے فرماتے اوراپنی بہن یعنی حلیمہ بی بی کی بیٹی شیما سے بھی بہت پیارفرماتے اوراسکے بے پناہ محبت کابدلہ چکاتے اورخداکے رسول ؐ اپنی بیٹی حضرت فاطمہ بی بیؓ سے اتنامحبت کرتے کہ دنیامیں ایک مثال رہ گیاہے اوراسی طرح اپنی بیٹی حضرت فاطمہؓ کے اولادحضرت حسنؓ اورحضرت حسینؓ سے بھی بے پناہ محبت کرتے تھے لیکن اس کے برعکس پختون معاشرے میں عورت کاکوئی مقام نہیں اوراسلام کے پردے سے پھٹانوں نے یہ مطلب اخذکیاہے کہ عورت کاحق سلب کیاجائے کیونکہ پھٹان اسلام کے رموزسے واقف نہیں اگرپٹھان لوگ اسلامی اصولوں کے مطابق عورت کوپردے میں رکھناچاہتے ہیں تواسلام کے وہ اصول بھی نہیں بھولناچاہئے جوخدانے مردوعورت پر یکساں علم حاصل کرنے کیلئے فرض کیاہے اوروراثت میں دوبیٹیوں کے ایک بیٹے جیساحصہ مقررکیا ہے اورحدیث شریف ہے کہ مردکاعورت پراتناحق ہے جتناکہ عورت پرمردکاہے ۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button