شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / یوں نشتر نہ چلاؤ وزیراعظم کی مجبوری پہ

یوں نشتر نہ چلاؤ وزیراعظم کی مجبوری پہ

rasheed ahmadاپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا ہے کہ کیا سارے چور صرف چھوٹے صوبوں میں ہی ہیں؟؟؟ نیب سندھ سمیت دیگر صوبوں میں کارروائی کرتا رہتا تو کسی کو کوئی عتراض نہ ہوتا ۔اُس نے پنجاب کا رخ کیا تو وز یر اعظم سمیت سب کی چیخیں نکل گئی ہیں اور نیب کا ادارہ بُرا لگنے لگا ہے۔پنجاب کے لوگ مقدس گائے نہیں ہیں اور نہ ہی دودھ کے دُھلے ہوئے ہیں کہ نیب نے ان پر ہاتھ ڈال کر کوئی غلطی کی ہے۔ خورشید شاہ صا حب ! راقم الحروف نے ہمیشہ آپ کے خلاف ہی لکھا ہے مگر آج آپ سے سو فیصد اتفاق کرتے ہوئے عرض ہے کہ آپ نے بالکل ٹھیک فرمایا ہے کہ پنجاب میں سب ’’حاجی نمازی‘‘ نہیں ہیں مگر خورشید شاہ صا حب! وزیراعظم صاحب کی بھی مجبوری کو مدِنظر رکھیں اُن کی اپنی کچھ مجبوریاں ہیں ۔بہت سی مصلحتیں ہیں جن میں وہ جکڑے ہوئے ہیں
وزیرِاعظم میاں نوازشریف بھی کیا کریں اُن کی بادشاہت اِن کرپٹ وزراء کی مر ہونِ منت ہے اُن کی حکومت اِن بد عنوان ارکان اسمبلی کے کندھوں پر ہی قائم ہے جو پاکستانی وسائل کو اپنے ابا و اجداد کی جا گیر سمجھ کر لوٹنے میں مصروف ہیں اگر نیب کا ادارہ اُن پر ہاتھ ڈالتا ہے تو پھر وزیر اعظم صا حب اپنے انتہائی قریبی ساتھیوں سے محروم ہو جائیں گے۔ان حالات میں وہ نیب کے ادارے کو متنازعہ نہ بنائیں تو اور کیا کریں ؟؟اگر اس مشکل وقت میں وہ اپنے ان ساتھیوں کا دفاع نہیں کریں گے تو پھر انتخابات میں کامیابی کے لیے انتخابی مہم میں پانی کی طرح پیسہ کون بہائے گا؟؟؟ ویسے بھی اقوامِ عالم میں پاکستان وہ واحد مُلک ہے جہاں حکومتِ وقت خود ہی اپنے ریاستی اداروں کو متنازعہ بناتی ہوئی نظر آتی ہے ہمارے منہ پھٹ وزراء اپنے ذاتی مفادات کی خاطر کبھی افواجِ پاکستان پر اُنگلی اٹھاتے ہیں تو کبھی عدلیہ ان کا نشانہ بن جاتی ہے ۔اگر ادارے ان کے سامنے سرتسلیمِ خم کریں یا ان کے جائز و نا جائز حکمِ نادر شاہی پر ’’ یس سر‘‘ کہیں تو سب اچھا اور اگر ان اداروں کی طرف سے ان کی کرپشن کو بے نقاب کیا جائے تو پھر تصور کر لیا جاتا ہے کہ ان کو ’’زندہ‘‘ رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔مگر زمینی حقائق سے نا آشنا ان حکمرانوں ،سیا ستدانوں ، ارکان اسمبلی اور وزراء کو شائدیہ معلوم نہیں کہ میڈیا کی بدولت آج پاکستانی قوم میں اتنا شعور آ چکا ہے کہ وہ ان کی حقیقت کو سمجھتی ہے۔ وہ ان کے بیانات کے پیچھے ان کی ذاتی مفادات پر مبنی ذہنیت کو بھی جانتی ہے۔وزیرِاعظم صا حب ! اگر آ پ کے دل میں پاکستان اور پاکستانی قوم کے لیے تھوڑی سی بھی ہمدردی ہے تو پھر نیب اور دیگر اداروں کو میرٹ پر کام کرنے دیں۔اگر وزراء پر مبینہ کرپشن کے الزام میں کوئی حقیقت ہے تو پھر ان کو گھر جانا چاہیے اور اگر اُن کا دامن پاک و صاف ہے تو پھر سرخروئی کے لیے ان قانونی مراحل سے گزرنے دیں کیونکہ یہی طریقہ ، یہی عمل اور یہی قانونی کارروائی آپ ،اُن وزراء و ارکان اسمبلی اور وطن عزیز کے لیے بہتر و مفید ہے

یہ بھی پڑھیں  سیالکوٹ: چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی(آج) ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن سیالکوٹ میں آمد

note