پاکستانتازہ ترین

کوئی ماورائے قانون حکم قابل قبول نہیں ہو گا، چیف جسٹس

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ اب کوئی ماورائے قانون حکم قابل قبول نہیں ہو گا، عدالتوں،عوام اور پارلیمنٹ سے زیادتی ہوئی تو سب سے پہلے عدلیہ مخالفت کرے گی۔ حالات ایسے ہیں کہ سندھی، پنجابی، بلوچی اور ہزارہ سمیت کوئی محفوظ نہیں ہے۔کوئٹہ میں بلوچستان ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے عشائیہ کی تقریب سے خطاب کرتےہوئے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا کہنا تھاکہ عدلیہ کو آئین کے مطابق انتظامیہ اورمقننہ کے اعمال کے جواز کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے اب ملک کی عدلیہ عوام اور پارلیمنٹ کیساتھ کوئی زیادتی ہوئی تو سب سے پہلے مخالفت عدلیہ کی طرف سے ہوگی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی نفی کی جا رہی ہے۔ آئین کا اطلاق اسی طرح ہونا چاہئے جیسے دوسروں صوبوں میں ہو رہا ہے۔ جو کام کسی اور نے کرنا ہوتا ہے وہ عدالتوں کے ذمہ ڈال دیا جاتا ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ایک طرف کراچی میں بوری بند لاشیں مل رہی ہیں تو بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ جاری ہے جبکہ پنجاب میں بھی سکیورٹی کی صورتحال خراب ہے۔ لاہور جیسے شہر میں خیبر پختونخوا کے 9 پولیس اہلکاروں کا قتل کر دیا گیا۔ افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ اب کوئی جج ماورائے آئین حلف نہیں اٹھائے گا۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker